بنگلہ دیش میں خسرہ کی وبا کے سبب ۳۳۶؍ بچے جاں بحق ہو چکے ہیں، صحت حکام جانچ کے کٹ کی شدید قلت سے دوچار ہیں، جبکہ متاثرہ افراد کی تعداد۵۱۷۰۰؍ سے تجاوز کرگئی ہے۔
EPAPER
Updated: May 09, 2026, 5:08 PM IST | Dhaka
بنگلہ دیش میں خسرہ کی وبا کے سبب ۳۳۶؍ بچے جاں بحق ہو چکے ہیں، صحت حکام جانچ کے کٹ کی شدید قلت سے دوچار ہیں، جبکہ متاثرہ افراد کی تعداد۵۱۷۰۰؍ سے تجاوز کرگئی ہے۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق، وسط مارچ سے اب تک بنگلہ دیش میں خسرہ کی وبا نے۳۳۶؍ بچوں کی جان لے لی ہے، جبکہ جمعرات کو۱۲؍ اموات درج ہوئیں، اور انفیکشن ملک بھر میں پھیلتا جا رہا ہے۔دارالحکومت ڈھاکہ میں سب سے زیادہ۱۶۸؍ اموات ہوئی ہیں۔اس کے علاوہ جمعرات کو ۱۵۲۴؍سے زیادہ نئے انفیکشن کے معاملات درج ہوئے، جس کے بعد کل معاملات ۵۱۷۰۰؍ سے تجاوز کرگئے۔
دریں اثناءصحت حکام نے بتایا کہ ملک گیر وبا کے دوران جانچکٹ کی شدید قلت کی وجہ سے وہ فوری طور پر بہت سے انفیکشن کی تصدیق نہیں کر پائے۔اس سے قبل گزشتہ مہینےورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن نے کہا تھا کہ یہ وبا ویکسینیشن کوریج میں کمی سے منسلک ہے، خاص طور پر۲۰۲۴ء اور۲۰۲۵ء کے درمیان ویکسین کی قومی قلت کے بعد۔ اس کے جواب میں، وزارت صحت نے اپریل میں خصوصی ویکسینیشن مہم شروع کی۔جبکہ حکام کے مطابق،۲؍ کروڑ بچوں کے ہدف میں سےایک کروڑ ۷۰؍ لاکھ سے زیادہ بچوں کو۲۰؍ مئی تک ویکسین لگ چکی تھی۔
یہ بھی پڑھئے: ایتھوپیا: ۱۲؍ سال بعد ماں بننے کا خواب حقیقت بنا، پانچ بچوں کو جنم دیا
تاہم مہم کے باوجود، انفیکشن اور اموات کی شرح میں کمی کی کوئی علامت نظر نہیں آ رہی۔ماہر امراضِ وبا ڈاکٹر مشتاق حسین نے کہا کہ ویکسینیشن کے بعد قوت مدافعت بننے میں تقریباً ایک مہینہ لگتا ہے، اور ویکسینیشن کوریج میں خامیوں کی وجہ سے مدافعت کمزور ہوگئی ہے۔مزید برآں انہوں نے کہا کہ متاثرہ بچوں کو آئی سی یو اور فوری آکسیجن سپورٹ کی ضرورت ہے، جسے حکومت مطلوبہ تعداد میں فراہم کرنے میں ناکام ہے۔ڈاکٹر حسین نے حکام سے مطالبہ کیا کہ سرکاری اور نجی اسپتالوں میں خصوصی بستر مختص کیے جائیں اور ’’صحت ایمرجنسی‘‘ نافذ کی جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ زیادہ تر متاثرہ بچے کم آمدنی والے خاندانوں سے تعلق رکھتے ہیں اور ناقص حالات میں رہتے ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ غذائی قوت کا شکار بچوں کو اسپتال میں داخل کرنے سے پہلے ہی خصوصی غذائی نگہداشت کی ضرورت ہوتی ہے تاکہ ان کی قوت مدافعت مضبوط ہو۔وزارت صحت نے پہلے کہا تھا کہ وہ وبا پر قابو پانے کے لیے اقدامات کر رہی ہے، بشمول ویکسین کی اضافی فراہمی۔بعد ازاں حکام کے مطابق، خسرہ-روبیلا ویکسین کی۱۵؍ لاکھ خوراکیں جمعرات کو ملک پہنچ گئیں، اور مزیدایک کروڑ ۸۰؍ لاکھ خوراکیں۱۰؍ مئی تک متوقع ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: صومالیہ : خوراک کے بحران کے سبب لاکھوں افراد بھوک کا شکار: ورلڈ فوڈ پروگرام
واضح رہے کہ خسرہ ایک انتہائی متعدی وائرل بیماری ہے جو بنیادی طور پر بچوں کو متاثر کرتی ہے اور شدید پیچیدگیاں پیدا کر سکتی ہے، بشمول نمونیا، دماغ کی سوزش اور موت، خاص طور پر کمزور قوت مدافعت یا غیر ویکسین شدہ بچوں میں۔یہ دنیا بھر میں ویکسین سے بچاؤ کے قابل بچوں کی اموات کی سب سے بڑی وجوہات میں سے ایک ہے۔