• Mon, 19 January, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

وزیراعظم مودی کو ٹرمپ کے غزہ ’بورڈ آف پیس‘ میں شمولیت کی دعوت؛ پوتن اور شہباز شریف بھی مدعو

Updated: January 19, 2026, 6:59 PM IST | Washington

ہندوستان نے اب تک اس دعوت نامے پر کوئی باضابطہ عوامی ردِعمل جاری نہیں کیا ہے۔ تاہم، سرجیو گور کا کہنا ہے کہ دعوت نامہ مودی تک پہنچا دیا گیا ہے۔

Trump, Modi, Putin, and Sharif. Photo: INN
ٹرمپ، مودی، پوتن اور شریف۔ تصویر: آئی این این

امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے وزیر اعظم نریندر مودی کو ”بورڈ آف پیس فار غزہ“ میں شامل ہونے کی باضابطہ طور پر دعوت دی ہے۔ ہندوستان میں امریکی سفیر سرجیو گور نے اس دعوت نامہ کا عکس سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر شیئر کیا، جس کے مطابق ٹرمپ نے ۱۶ جنوری کو مودی کو لکھے گئے خط میں کہا کہ ہندوستان کو مشرقِ وسطیٰ کیلئے اس ”انتہائی تاریخی“ امن کوشش میں شرکت کی دعوت دینا ان کیلئے ”بڑے اعزاز“ کی بات ہے۔ خط میں ٹرمپ نے ۲۹ ستمبر ۲۰۲۵ء کو پیش کردہ اپنے غزہ روڈ میپ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ بین الاقوامی سطح پر اس کا خیر مقدم کیا گیا ہے۔ انہوں نے ۱۷ نومبر کو منظور شدہ اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد نمبر ۲۸۰۳ کا بھی ذکر کیا، جس کے بارے میں ان کا کہنا ہے کہ اس نے اس مجموعی وژن کی توثیق کی ہے۔

سفارتی بیانات کے مطابق، مودی کے ساتھ امریکہ نے متعدد سربراہانِ مملکت اور حکومتوں کو اس بورڈ میں شامل ہونے کی دعوت دی ہے، جن میں پاکستانی وزیر اعظم شہباز شریف، روسی صدر ولادیمیر پوتن، اردن کے شاہ عبداللہ دوم اور ترک صدر رجب طیب اردگان شامل ہیں۔ ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق، دیگر مدعو ممالک میں پاکستان، اردن، یونان، قبرص، کنیڈا، ترکی، مصر، پیراگوئے، ارجنٹائنا اور البانیہ شامل ہیں۔

یہ بھی پڑھئے: ٹرمپ کی دھمکیوں کے خلاف گرین لینڈ، ڈنمارک کی سڑکوں پر ہزاروں افراد کا احتجاج

پاکستان نے دعوت کی تصدیق کر دی؛ ہندوستان کی تصدیق کا انتظار

پاکستانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان طاہر اندرا بی نے اتوار کے دن تصدیق کی کہ وزیر اعظم شہباز شریف کو بورڈ میں شامل ہونے کیلئے ٹرمپ کا دعوت نامہ موصول ہو گیا ہے۔ اندرابی نے کہا کہ پاکستان ”اقوامِ متحدہ کی قراردادوں کے مطابق“ غزہ میں امن و سلامتی کے حصول کیلئے بین الاقوامی کوششوں کیلئے پرعزم ہے، تاہم انہوں نے شرکت کی تفصیلات یا ٹائم لائن کے بارے میں کچھ نہیں بتایا۔

ہندوستان نے اب تک اس دعوت نامے پر کوئی باضابطہ عوامی ردِعمل جاری نہیں کیا ہے۔ تاہم، سرجیو گور نے کہا کہ دعوت نامہ مودی تک پہنچا دیا گیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ بورڈ محصور فلسطینی علاقے میں ”استحکام اور خوشحالی“ لانے کیلئے ”مؤثر طرزِ حکمرانی“ کی حمایت کرے گا۔

یہ بھی پڑھئے: امریکہ،گرین لینڈ پر ٹرمپ منصوبے کے مخالف ۸؍ ممالک پر ٹیرف عائد کرے گا، فرانس خفا

روسی صدر ولادیمیر پوتن کو بھی دعوت

ٹرمپ کی جانب سے روسی صدر ولادیمیر پوتن کو بھی اس بورڈ میں شامل ہونے کی دعوت دی گئی ہے۔ پیر کو ان کے ترجمان نے اس کی تصدیق کی۔ میڈیا بریفنگ کے دوران گفتگو کرتے ہوئے کریملن کے ترجمان دمتری پیسکوف نے بتایا کہ صدر پوتن کو سفارتی ذرائع سے مجوزہ ’بورڈ آف پیس‘ میں شامل ہونے کا دعوت نامہ موصول ہوا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ کریملن فی الحال اس پیشکش کا جائزہ لے رہا ہے اور توقع ہے کہ اس حوالے سے امریکہ سے مزید معلومات حاصل ہوں گی۔

اردن قانونی عمل کے تحت دستاویزات کا جائزہ لے رہا ہے

اردن کی وزارتِ خارجہ نے بیان دیا کہ شاہ عبداللہ دوم کو ٹرمپ کی جانب سے دعوت نامہ موصول ہوا ہے اور دستاویزات کا فی الحال ”اندرونی قانونی طریقہ کار کے مطابق“ جائزہ لیا جا رہا ہے۔ وزارت نے جنگ بندی تک پہنچنے اور وسیع تر منصوبے کے آغاز میں ٹرمپ کے کردار کی بھی ستائش کی اور اردن کی شمولیت کو طویل مدتی استحکام حاصل کرنے کی کوششوں کے حصے کے طور پر پیش کیا۔

یہ بھی پڑھئے: غزہ کے ’بورڈ آف پیس‘ پر نیتن یاہو اور ٹرمپ کے مابین اختلاف

غزہ کیلئے نیا حکومتی ڈھانچہ: این سی اے جی نے کام شروع کر دیا، ایگزیکٹیو بورڈ نامزد

’الجزیرہ‘ کی رپورٹ کے مطابق، گزشتہ دنوں وہائٹ ہاؤس نے اس منصوبے کیلئے تین سطحی ڈھانچے کا خاکہ پیش کیا ہے، جس میں ”غزہ بورڈ آف پیس“ سب سے اعلی سطح پر ہے۔ فلسطینی اتھارٹی کے سابق نائب وزیر ڈاکٹر علی شعث نے اتوار کو باضابطہ طور پر قومی کمیٹی برائے انتظامیہ غزہ (این سی اے جی) کے سربراہ کے طور پر اپنی ذمہ داریاں انجام دینے کی شروعات کردی ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ ان کا پہلا اقدام کمیٹی کے مشن اسٹیٹمنٹ کو اپنانا اور اس پر دستخط کرنا تھا۔

وائٹ ہاؤس نے ایک معاون غزہ ایگزیکٹیو بورڈ کا بھی اعلان کیا ہے، جس میں ہاکان فیدان (ترک وزیر خارجہ)، اسٹیو وِٹکوف (ٹرمپ کے خصوصی ایلچی)، جیرڈ کشنر (ٹرمپ کے داماد)، ٹونی بلیئر (سابق برطانوی وزیر اعظم)، ریم الہاشمی (متحدہ عرب امارات کی وزیرِ مملکت برائے بین الاقوامی تعاون)، علی الثوادی (قطری سفارت کار)، حسن رشاد (مصر کے انٹیلی جنس چیف) اور نکولائی ملادینوف (بلغاریہ کے سفارت کار، جنہیں ہائی ریپریزنٹیٹو نامزد کیا گیا ہے) شامل ہیں۔ یہ ڈھانچہ ظاہر کرتا ہے کہ اعلیٰ ترین فیصلہ ساز سطح پر فلسطینیوں کا اثر و رسوخ محدود ہو سکتا ہے، کیونکہ این سی اے جی اسٹریٹجک اختیارات رکھنے کے بجائے تکنیکی انتظامی امور سنبھالے گی۔

یہ بھی پڑھئے: علی شعث نے غزہ انتظامی کمیٹی کے سربراہ کی حیثیت سے فرائض کا آغاز کر دیا

وہائٹ ہاؤس نے اسرائیلی میڈیا کی رپورٹس کی تردید کی

اسرائیلی روزنامہ ’ٹائمز آف اسرائیل‘ نے رپورٹ کیا کہ ایک مجوزہ چارٹر کے مطابق، جن ممالک کو غزہ بورڈ آف پیس میں شامل ہونے کی دعوت دی گئی ہے، وہ پہلے سال میں ایک ارب ڈالر کا تعاون کرکے طویل مدتی رکنیت حاصل کر سکتے ہیں، اس رپورٹ کے بعد تنازع کھڑا ہوگیا ہے۔ وہائٹ ہاؤس نے اس دعوے کو گمراہ کن قرار دے کر مسترد کردیا اور کہا کہ رکنیت کی کوئی کم از کم فیس نہیں ہے اور بورڈ کی مستقل رکنیت امن، سلامتی اور خوشحالی کیلئے ممبر ممالک کے عزم پر مبنی ہوگی۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK