ٹرمپ نے ڈنمارک اور گرین لینڈ کو ایک بار پھر خبردار کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ نیٹو گزشتہ ۲۰ برسوں سے کوپن ہیگن کو گرین لینڈ کے قریب روسی خطرات سے آگاہ کر رہا ہے۔ ڈنمارک ان سے نمٹنے کی قابلیت نہیں رکھتا۔
EPAPER
Updated: January 19, 2026, 8:02 PM IST | Washington/Brussels
ٹرمپ نے ڈنمارک اور گرین لینڈ کو ایک بار پھر خبردار کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ نیٹو گزشتہ ۲۰ برسوں سے کوپن ہیگن کو گرین لینڈ کے قریب روسی خطرات سے آگاہ کر رہا ہے۔ ڈنمارک ان سے نمٹنے کی قابلیت نہیں رکھتا۔
یورپی یونین امریکی مصنوعات پر ۹۳ ارب یورو (۱۰۸ ارب ڈالر) مالیت کے ٹیرف عائد کرکے واشنگٹن کو سخت جواب دینے پر غور کررہی ہے۔ یہ پیش رفت امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی جانب سے گرین لینڈ کا کنٹرول حاصل کرنے کیلئے بڑھتے ہوئے دباؤ کے بعد سامنے آئی ہے۔ رواں ہفتے ڈیووس میں ہونے والے ورلڈ اکنامک فورم کے دوران ٹرمپ کے ساتھ متوقع اعلیٰ سطح کی ملاقاتوں سے قبل یورپ کی مذاکراتی پوزیشن کو مضبوط بنانے کیلئے یورپ ٹیرف اقدام پر سنجیدگی سے غور کررہا ہے۔
اتوار کی شام برسلز میں منعقدہ اجلاس میں یورپی سفیروں نے ٹرمپ کے نئے ٹیرف پر بحث کی، جنہوں نے یکم فروری سے ڈنمارک اور گرین لینڈ کی حمایت کرنے والے آٹھ یورپی ممالک پر ۱۰ فیصد ٹیرف عائد کرنے کا اعلان کیا ہے۔ ان ممالک میں ڈنمارک، فن لینڈ، فرانس، جرمنی، نیدرلینڈز، ناروے، سویڈن اور برطانیہ شامل ہیں۔ ٹرمپ نے یہ انتباہ بھی دیا کہ یہ شرح یکم جون تک ۲۵ فیصد تک بڑھ سکتی ہے۔ امریکی صدر نے اس اقدام کو گرین لینڈ کی ’’مکمل اور کلی خریداری‘‘ کے سودے سے مشروط کیا۔ ٹرمپ کے ٹیرف سے متاثر ہونے والے آٹھ ممالک نے ایک مشترکہ بیان جاری کرکے ٹیرف کے دباؤ کی مذمت کی ہے اور واضح کیا کہ ان کا آرکٹک تعاون کسی کیلئے خطرہ نہیں ہے۔
’’ٹریڈ بازوکا‘‘ کو بروئے کار لانے پر غور
جوابی ٹیرف کے علاوہ، یورپی لیڈران بلاک کے ’’اینٹی کورشن انسٹرومنٹ‘‘ (Anti-coercion instrument) کو فعال کرنے پر بھی بحث کر رہے ہیں، جسے عوامی سطح پر ’’ٹریڈ بازوکا‘‘ کہا جاتا ہے۔ اس اقدام کے بعد امریکی کمپنیوں کی یورپی مارکیٹ میں رسائی محدود ہوسکتی ہے یا برآمدی کنٹرول لاگو کئے جاسکتے ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ ٹول حریف ممالک کے معاشی دباؤ سے نمٹنے کیلئے بنایا گیا تھا، نہ کہ نیٹو اتحادیوں کیلئے۔
یورپی کونسل کے صدر انتونیو کوسٹا نے مشاورت کے بعد کہا کہ رکن ممالک نے اتفاق کیا ہے کہ امریکی ٹیرف ’’یورپی یونین-امریکہ تجارتی معاہدے کے منافی‘‘ ہوگے۔ انہوں نے ڈنمارک اور گرین لینڈ کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اعادہ کیا۔
یہ بھی پڑھئے: امریکہ،گرین لینڈ پر ٹرمپ منصوبے کے مخالف ۸؍ ممالک پر ٹیرف عائد کرے گا، فرانس خفا
یورپی کونسل کا ہنگامی اجلاس طلب
کوسٹا نے تصدیق کی کہ ٹرمپ کی دھمکیوں کے بعد پیدا ہونے والی سنگین صورتحال کے پیشِ نظر یورپی لیڈران کا ہنگامی اجلاس بلایا جا رہا ہے۔ انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنی پوسٹ میں واضح کیا کہ آرکٹک کی سیکوریٹی ایک مشترکہ ٹرانزٹلانٹک مفاد ہے جسے نیٹو کے ذریعے منظم کیا جاتا ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ ٹرمپ کے ٹیرف پلان سے دوطرفہ تعلقات کو شدید نقصان پہنچے گا۔
جرمن فوجی ٹیم کا گرین لینڈ سے قبل از وقت انخلاء
جرمن روزنامہ ’بِلڈ‘ کی رپورٹ کے مطابق جرمن بنڈس ویئر کی ۱۵ رکنی ریکونیسنس ٹیم ہفتے کے آخر میں خاموشی سے گرین لینڈ سے روانہ ہوگئی۔ رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ انخلاء کا حکم اتوار کی صبح برلن سے آیا تھا۔ ریئر ایڈمرل اسٹیفن پاؤلی کی قیادت میں یہ ٹیم ڈنمارک کی سربراہی میں نیٹو سے منسلک اس مشن کا حصہ تھی جو مستقبل کی تربیتی مشقوں اور تعیناتیوں کا جائزہ لینے کیلئے چند روز قبل ہی گرین لینڈ پہنچی تھی۔ اگرچہ سرکاری طور پر اس اقدام کے پیچھے خراب موسم اور آپریشنل منصوبہ بندی میں تبدیلی کو وجہ بتایا گیا ہے، لیکن ٹرمپ کی ٹیرف دھمکیوں کے تناظر میں اس اچانک روانگی نے نیٹو کے اتحاد کے حوالے سے نئے سوالات کھڑے کر دیئے ہیں۔
ٹرمپ کی الحاق کی تازہ دھمکی؛ ’روسی خطرے‘ اور نیٹو کی وارننگ کا حوالہ
پیر کے دن ٹرمپ نے ڈنمارک اور گرین لینڈ کو ایک بار پھر خبردار کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ نیٹو گزشتہ ۲۰ برسوں سے کوپن ہیگن کو گرین لینڈ کے قریب روسی خطرات سے آگاہ کر رہا ہے۔ ڈنمارک ان سے نمٹنے کی قابلیت نہیں رکھتا۔ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر لکھا: ’’نیٹو ڈنمارک کو بتاتا رہا ہے... کہ تمہیں گرین لینڈ سے روسی خطرے کو دور کرنا ہوگا... اب وقت آگیا ہے۔ اور یہ ہو کر رہے گا!!!‘‘
یہ بھی پڑھئے: غزہ کے ’بورڈ آف پیس‘ پر نیتن یاہو اور ٹرمپ کے مابین اختلاف
بیلجیم کی گرین لینڈ میں اپنے کردار پر وضاحت؛ امریکہ سے تصادم کا ارادہ نہیں
بیلجیم کے وزیرِ دفاع تھیو فرینکن نے اس تاثر کو مسترد کر دیا کہ گرین لینڈ میں یورپی فوجی موجودگی واشنگٹن کے خلاف ہے۔ انہوں نے کہا کہ گرین لینڈ میں بیلجیم کا فوجی تعاون صرف ایک افسر تک محدود ہے جو ڈنمارک کے مشن میں شامل ہے۔ اور ہمارا امریکہ کے ساتھ تصادم کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔