معاہدے پر نظر ثانی کرنے والے پینل کا کہنا ہے کہ سرکاری ادارے ’بنگلہ دیش پاور ڈیولپمنٹ بورڈ‘ کو اڈانی گروپ سے حاصل ہونے والی بجلی کیلئے ہندوستان کے دیگر ذرائع سے درآمد کی جانے والی بجلی کے مقابلے ۴ سے ۵ امریکی سینٹ فی یونٹ زیادہ ادا کرنے پڑ رہے ہیں۔
EPAPER
Updated: January 27, 2026, 6:01 PM IST | Dhaka
معاہدے پر نظر ثانی کرنے والے پینل کا کہنا ہے کہ سرکاری ادارے ’بنگلہ دیش پاور ڈیولپمنٹ بورڈ‘ کو اڈانی گروپ سے حاصل ہونے والی بجلی کیلئے ہندوستان کے دیگر ذرائع سے درآمد کی جانے والی بجلی کے مقابلے ۴ سے ۵ امریکی سینٹ فی یونٹ زیادہ ادا کرنے پڑ رہے ہیں۔
بنگلہ دیش کی عبوری حکومت کی جانب سے مقرر کردہ ریویو پینل نے ہندوستان کے اڈانی گروپ کے ساتھ بجلی فراہمی کے طویل مدتی معاہدے میں ’’انتہائی سنگین‘‘ بے ضابطگیوں کی نشاندہی کی ہے۔ پینل نے سفارش کی ہے کہ ڈھاکہ کو عالمی ثالثی کے ذریعے اس معاہدے کو منسوخ کرنے کی کوشش کرنی چاہئے۔
خبر رساں ادارے ’اے ایف پی‘ کے مطابق، بجلی کی خریداری کے معاہدوں پر نظرثانی کرنے والی قومی کمیٹی نے اتوار کو ایک پریس کانفرنس میں یہ نتائج پیش کئے۔ پینل نے چیف ایڈوائزر محمد یونس کی قیادت والی عبوری حکومت کو مشورہ دیا کہ وہ مالی نقصانات اور مبینہ بے ضابطگیوں کا حوالہ دیتے ہوئے معاہدے کی منسوخی کیلئے سنگاپور میں قائم عالمی ثالثی ٹربیونل سے رجوع کرے۔ ’ڈھاکہ ٹریبیون‘ کی رپورٹ کے مطابق، یہ پینل ستمبر ۲۰۲۴ء میں سابقہ عوامی لیگ حکومت کے دور میں کئے گئے بجلی کے معاہدوں کی جانچ پڑتال کیلئے تشکیل دیا گیا تھا۔
واضح رہے کہ بنگلہ دیش اور اڈانی گروپ کے درمیان یہ معاہدہ ۲۰۱۷ء میں طے پایا تھا جب سابق وزیر اعظم شیخ حسینہ برسراقتدار تھیں۔ ۱۶ سال تک بنگلہ دیش پر حکومت کرنے والی شیخ حسینہ اگست ۲۰۲۴ء میں طلبہ کی قیادت میں کئی ہفتوں تک چلنے والے مظاہروں کے بعد ہندوستان فرار ہو گئی تھیں، جس کے نتیجے میں ان کی حکومت کا خاتمہ ہو گیا تھا۔ ان کی برطرفی کے بعد سے ڈھاکہ اور نئی دہلی کے درمیان تعلقات کشیدہ ہیں۔ بجلی فراہمی کے اس معاہدے کے تحت، اڈانی پاور ہندوستانی ریاست جھارکھنڈ کے علاقے گوڈا میں واقع اپنے ۱۶۰۰ میگاواٹ کے کوئلے سے چلنے والے پلانٹ سے بنگلہ دیش کو بجلی برآمد کرتا ہے۔ یہ پلانٹ ۸۰۰ میگاواٹ کے دو یونٹس پر مشتمل ہے اور بنگلہ دیش کی بجلی کی بنیادی طلب کا تقریباً ۷ سے ۱۰ فیصد حصہ فراہم کرتا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: بنگلہ دیش: ہندوستانی میں شیخ حسینہ کو عوامی خطاب کی اجازت، ڈھاکہ کی حکومت حیران
معاہدے کی وجہ سے بنگلہ دیش کو اربوں ڈالر کا نقصان
معاہدے پر نظر ثانی کرنے والے پینل کا کہنا ہے کہ سرکاری ادارے ’بنگلہ دیش پاور ڈیولپمنٹ بورڈ‘ کو اڈانی گروپ سے حاصل ہونے والی بجلی کیلئے ہندوستان کے دیگر ذرائع سے درآمد کی جانے والی بجلی کے مقابلے ۴ سے ۵ امریکی سینٹ فی یونٹ زیادہ ادا کرنے پڑ رہے ہیں۔ پینل کے مطابق، یہ قیمت دیگر متبادلات کے مقابلے تقریباً ۵۰ فیصد زیادہ ہے۔ اپنی رپورٹ میں پینل نے تخمینہ لگایا کہ اس معاہدے کی وجہ سے مالی سال ۲۵-۲۰۲۴ء میں بنگلہ دیش پاور ڈیولپمنٹ بورڈ کو ۱۳ء۴ ارب ڈالر تک کا نقصان اٹھانا پڑا۔ رپورٹ کے مطابق، ڈھاکہ اس ۲۵ سالہ معاہدے کے تحت اڈانی پاور کو سالانہ تقریباً ایک ارب ڈالر ادا کرتا ہے۔
پینل کے اراکین نے اس معاہدے سے وابستہ ۸ افراد کے درمیان لاکھوں ڈالر کے غیر قانونی لین دین کے شواہد ملنے کا دعویٰ کیا۔ انہوں نے بتایا کہ یہ نتائج مزید تحقیقات کیلئے بنگلہ دیش کے اینٹی کرپشن کمیشن کو بھیج دیئے گئے ہیں۔ پینل نے اپنی رپورٹ میں مزید دلیل دی کہ یہ معاہدہ ضرورت سے زیادہ مہنگے اور غیر ضروری معاہدوں دینے کیلئے ’’کاروباری افراد، سیاست دانوں اور بیوروکریٹس کے درمیان منظم ملی بھگت‘‘ کا عکاس تھا جس سے بھاری منافع کمایا گیا۔
یہ بھی پڑھئے: اسرائیل کی نسل کشی نے غزہ کے ۲۷۰۰؍ خاندانوں کامکمل خاتمہ کر دیا
اڈانی گروپ کا ردعمل
الزامات کا جواب دیتے ہوئے اڈانی پاور نے کہا کہ اس نے ابھی تک رپورٹ نہیں دیکھی ہے، تاہم کمپنی نے قیمتوں میں اضافے کے دعوؤں کو مسترد کر دیا۔ کمپنی کا کہنا ہے ہے کہ وہ پڑوسی ملک کو ’’انتہائی مسابقتی قیمتوں‘‘ پر بجلی فراہم کر رہی ہے۔ اس نے بنگلہ دیش پر زور دیا کہ وہ بقایا واجبات ادا کرے۔ کمپنی نے مزید کہا کہ ادائیگیوں میں تاخیر اس کے آپریشنز کو متاثر کر رہی ہے۔