اسرائیل کی نسل کشی نے غزہ کے ۲۷۰۰؍ خاندانوں کامکمل خاتمہ کر دیا، غزہ سول رجسٹری کے مطابق گزشتہ دو سالوں میں تین نسلیں صفحہ ہستی سے مٹ گئیں۔
EPAPER
Updated: January 27, 2026, 4:01 PM IST | Gaza
اسرائیل کی نسل کشی نے غزہ کے ۲۷۰۰؍ خاندانوں کامکمل خاتمہ کر دیا، غزہ سول رجسٹری کے مطابق گزشتہ دو سالوں میں تین نسلیں صفحہ ہستی سے مٹ گئیں۔
غزہ سول رجسٹری کے مطابق گزشتہ دو سالوں میں اسرائیلی نسل کشی جارحیت میں غزہ کے۲۷۰۰؍ سے زائد خاندان، جن کی تین نسلیں تھیں، مکمل طور پر صفحہ ہستی سے مٹ گئے ہیں۔اگرچہ اسرائیل نے کم از کم۴۰؍ ہزار خاندانوں کو نشانہ بنایا ہے، لیکن۶۰۰۰؍ سے زیادہ خاندانوں میں صرف ایک ہی فرد زندہ بچا ہے جبکہ باقی سب ہلاک ہو چکے ہیں۔یہ ہلاکتیں مسلسل فوجی کارروائیوں کا نتیجہ ہیں جس نے پورے گھرانے مٹا دیے ہیں، ایک ایسی حقیقت جسے بہت سے لوگوں نے ’’نسل کشی کا یہی روپ ہوتا ہے‘‘ کے الفاظ میں بیان کیا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: سی پی جے کا اسرائیل سے غیر ملکی صحافیوں پر پابندی ختم کرنے کا مطالبہ
اقوام متحدہ کی مقبوضہ فلسطینی علاقوں کی خصوصی نمائندہ فرانسسکا البانیز نے کہا کہ انہیں یقین نہیں کہ تباہی کی اس شدت کو پوری طرح سمجھا گیا ہے، ان کا کہنا تھا کہ ’’یہ ایک جان بوجھ کر اپنائی گئی پالیسی کا نتیجہ تھی، جس کے نتائج سے پوری طرح آگاہ ہونے کے باوجود اس پر عمل کیا گیا۔‘‘انہوں نے زور دے کر کہا، ’’یہ جنگ نہیں ہے۔ یہ نسل کشی ہے۔‘‘ایک ممتاز فلسطینی سیاست دان اور کارکن حنان اشروی نے کہا، ’’یہ انسانی تحمل سے باہر ہے،‘‘ انہوں نے سوال کیا، ’’اسرائیل کب رکے گا؟ اسے کب جواب دہ بنایا جائے گا؟‘‘
یہ بھی پڑھئے: دنیا میں قانون کی حکمرانی کے بجائے جنگل راج عام ہو رہا ہے: انتونیو غطریس
دریں اثنا، حکومتی میڈیا آفس نے الزام لگایا کہ اسرائیل نے پچھلے۱۰۰؍ دنوں میں جنگ بندی کی۱۳۰۰؍ خلاف ورزیاں کی ہیں، جس کے نتیجے میں سیکڑوں فلسطینی ہلاک اور ایک ہزار سے زیادہ زخمی ہوئے ہیں۔واضح رہے کہ اکتوبر سے شروع ہونے والی اسرائیلی نسل کشی میں کم از کم۷۱۶۰۶؍ فلسطینی ہلاک ہو چکے ہیں، جن میں زیادہ تر خواتین اور بچے ہیں، جبکہ۱۷۱۰۰۰؍ سے زیادہ زخمی ہیں۔اسرائیلی جارحیت نے غزہ پٹی میں تقریباً۲۰؍ لاکھ افراد کوجبراً بے گھر کر دیا ہے، جن کی اکثریت کو مصری سرحد کے قریب انتہائی تنگ جنوبی شہر رفح میں دھکیل دیا گیا ہے، جو۱۹۴۸؍ کےنکبہ کے بعد فلسطین کا سب سے بڑا اجتماعی ہجرت کا واقعہ بن چکا ہے۔