• Thu, 03 September, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

دہلی میں ۲۵؍ ہزار سے زائد آوارہ مویشی، ۵؍ بڑی گئوشالاؤں کی فوری ضرورت

Updated: September 03, 2026, 9:02 PM IST | New Delhi

دہلی میں آوارہ مویشیوں کی بڑھتی ہوئی تعداد شہری انتظامیہ کیلئے سنگین مسئلہ بن گئی ہے۔ ایم سی ڈی کے مطابق شہر کی سڑکوں پر ۲۵؍ ہزار سے زائد مویشی گھوم رہے ہیں، جبکہ موجودہ چار سرکاری منظور شدہ گئو شالائیں اپنی گنجائش سے زیادہ جانوروں کو پناہ دے رہی ہیں۔ حکام نے مسئلے سے نمٹنے کیلئے کم از کم پانچ بڑی نئی گئو شالائیں قائم کرنے کی فوری ضرورت پر زور دیا ہے۔

Photo: INN
تصویر: آئی این این

ہندوستانی دارالحکومت دہلی میں آوارہ مویشیوں کی بڑھتی ہوئی تعداد نے شہری انتظامیہ کیلئے ایک بڑا مسئلہ پیدا کر دیا ہے۔ میونسپل کارپوریشن آف دہلی (ایم سی ڈی) کے ویٹرنری ڈپارٹمنٹ کے مطابق شہر کی سڑکوں پر تقریباً ۲۵؍ ہزار سے زائد مویشی آوارہ گھوم رہے ہیں، جبکہ سرکاری منظوری یافتہ چار گئو شالائیں پہلے ہی اپنی گنجائش سے زیادہ جانوروں کو پناہ دے رہی ہیں۔ ایم سی ڈی کی ٹیمیں روزانہ تقریباً ۵۰؍ سے ۶۰؍ آوارہ مویشیوں کو سڑکوں سے پکڑ رہی ہیں، تاہم گئو شالاؤں میں جگہ کی کمی کے باعث مہم کئی مرتبہ روکنی پڑتی ہے۔ ایک سینئر ویٹرنری افسر نے اسٹینڈنگ کمیٹی کو بتایا کہ چاروں گئو شالاؤں کی مجموعی گنجائش ۱۹؍ ہزار ۸۳۸؍ مویشیوں کی ہے، لیکن اس وقت وہاں اس سے زیادہ جانور موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ صورتحال سے نمٹنے کے لیے کم از کم پانچ بڑی گئو شالاؤں کی فوری ضرورت ہے، جن میں ہر ایک میں ۴؍ سے ۵؍ ہزار مویشی رکھنے کی گنجائش ہو۔

یہ بھی پڑھئے: ’مارٹی کے عہدیداروں کا تقرر، سونیترا پوار چیئر پرسن

آوارہ مویشیوں سے سڑک حادثات میں اضافہ

دہلی میں آوارہ مویشیوں کی موجودگی کے باعث متعدد حادثات بھی پیش آ چکے ہیں۔ رواں سال جون میں تغلق آباد ایکسٹینشن میں ایک گائے نے ایک بچے اور اسے بچانے کیلئے پہنچنے والے ایک شخص کو شدید زخمی کر دیا تھا۔ اس کے چند روز بعد، ۲۴؍ جون کو منڈاولی میں ایک گائے نے میونسپل کونسلر ششی چندنا پر حملہ کیا، جس سے ان کے سر اور پسلیوں میں چوٹیں آئیں۔ اس سے قبل مارچ ۲۰۲۵؍ میں آوارہ سانڈوں سے متعلق دو الگ الگ واقعات میں دو افراد ہلاک ہوئے تھے۔ ۶۷؍ سالہ اشوک کمار علی پور میں سانڈ کے حملے کا شکار ہوئے، جبکہ نریلا میں دو سانڈوں کی لڑائی کے دوران درمیان میں پھنس جانے سے محمد ثناء اللہ کی موت ہو گئی تھی۔

سرکاری منصوبے کے باوجود نئی گئو شالائیں قائم نہ ہو سکیں

دہلی حکومت نے گزشتہ سال اعلان کیا تھا کہ شہر کے ۱۳؍ اضلاع میں ایک ایک گئو شالہ قائم کی جائے گی۔ بعد میں سات مقامات پر زمین بھی نشان زد کیے جانے کی اطلاع دی گئی، تاہم گزشتہ ایک سال کے دوران ایک بھی نئی گئو شالہ قائم نہیں ہو سکی۔ ایک افسر کے مطابق دہلی میں ۱۹۹۰ء کی دہائی کے اواخر میں چھ گئو شالائیں قائم کی گئی تھیں، جن میں تین نریلا، تین باوانا اور نجف گڑھ میں تھیں۔ ان میں سے ایک یونٹ ابتدائی الاٹمنٹ کے مرحلے میں بند ہوگیا، جبکہ آچاریہ سوشیل منی گئو شالا کو ۲۰۱۸ء میں بدانتظامی اور مویشیوں کی زیادہ اموات کے باعث بند کر دیا گیا تھا۔

یہ بھی پڑھئے: کوکن کے مسافروں کیلئے اہم ایپ متعارف

موجودہ چار گئو شالائیں گنجائش سے زیادہ بھری ہوئی

نریلا میں موجود گئو شالاؤں کی صورتحال انتہائی خراب بتائی جاتی ہے، جبکہ نجف گڑھ کی گئو شالائیں ہنگامی بنیادوں پر لائے جانے والے مویشیوں کیلئے استعمال ہو رہی ہیں۔ اس وقت شہر میں چار گئو شالائیں فعال ہیں، جو سورہیرا، ریولا خانپور، ہریوالی اور سلطان پور ڈباس میں واقع ہیں۔ ایک افسر کے مطابق سورہیرا مرکز میں ۴؍ ہزار ۹۳۳؍ گائیں جبکہ ریولا خانپور کی پناہ گاہ میں ۲؍ ہزار ۹۸۲؍ گائیں موجود ہیں۔ دیگر دو مراکز میں بھی ان کی مقررہ گنجائش سے زیادہ مویشی رکھے گئے ہیں۔ افسر نے کہا کہ دہلی ایگریکلچر کیٹل پریزرویشن ایکٹ کے تحت مویشیوں کیلئے پناہ گاہیں قائم کرنا اینیمل ہسبنڈری ڈپارٹمنٹ کی ذمہ داری ہے۔ محکمہ نے نئی گئو شالائیں قائم کرنے کی سفارش کی ہے کیونکہ موجودہ چاروں مراکز مکمل طور پر بھر چکے ہیں۔ موجودہ نظام کے تحت میونسپل کارپوریشن کے ویٹرنری ڈپارٹمنٹ کی جانب سے پکڑے جانے والے آوارہ مویشیوں کو اینیمل ہسبنڈری ڈپارٹمنٹ سے منظور شدہ گئو شالاؤں کے حوالے کیا جاتا ہے۔

فی مویشی روزانہ ۴۰؍ روپے خرچ

حکومت ہر آوارہ گائے کی گئو شالا میں دیکھ بھال کیلئے روزانہ ۴۰؍ روپے فراہم کرتی ہے۔ اس میں ۲۰؍ روپے ایم سی ڈی اور ۲۰؍ روپے دہلی حکومت ادا کرتی ہے۔ تاہم گئو شالاؤں کے منتظمین نے میونسپل کارپوریشنوں کی جانب سے ادائیگیوں میں تاخیر اور بڑھتے ہوئے اخراجات کی شکایت بھی کی ہے۔ حکام کے مطابق پہلے آوارہ مویشی زیادہ تر دہلی کے بیرونی علاقوں اور دیہی علاقوں کے قریب نظر آتے تھے، لیکن اب مرکزی دہلی سمیت شہر کے مختلف حصوں میں بھی سڑکوں کے درمیان بیٹھے یا گھومتے ہوئے مویشی دیکھے جا سکتے ہیں۔ یہ مویشی ایکسپریس ویز پر ٹریفک میں خلل ڈالنے کے علاوہ کچرے کے مقامات، سڑک کنارے جھاڑیوں اور دیگر مقامات پر خوراک تلاش کرتے ہیں۔

یہ بھی پڑھئے: بیڑ میں گرام سیوکوں کا احتجاج، حفاظتی انتظامات کرنے کا مطالبہ

حکام نے آوارہ مویشیوں کے مسئلے کو شہر میں موجود غیر قانونی ڈیریوں سے بھی جوڑا ہے، جنہیں شہر کے مضافات میں قائم منصوبہ بند ڈیری کالونیوں میں منتقل کیا جانا تھا۔ ایم سی ڈی اسٹینڈنگ کمیٹی کی چیئرپرسن ستیہ شرما نے دہلی میں لاوارث اور آوارہ مویشیوں کی موجودگی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ سڑکوں پر ان کی موجودگی سے ٹریفک کی روانی متاثر ہوتی ہے اور حادثات کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ نئی گئو شالاؤں کیلئے زمین فراہم کرنے کی درخواست کرتے ہوئے دہلی حکومت کو خط لکھا جائے گا، تاکہ سڑکوں پر گھومنے والے مویشیوں کو محفوظ طور پر مقررہ مراکز میں منتقل کیا جا سکے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK