Updated: January 24, 2026, 8:01 PM IST
| Brussels
بلجیم حکومت نے اسرائیل کو اسلحہ اور فوجی سازوسامان پہنچانے والے طیاروں کے لیے اپنے فضائی حدود کے استعمال یا تکنیکی اسٹاپس پر پابندی عائد کر دی ہے۔ اس اقدام کا مقصد اسرائیل میں ہتھیاروں اور فوجی سامان کی ترسیل کو روکنا ہے۔ یہ فیصلہ بلجیم کے وزیر خارجہ میکسیم پریووٹ کی تجویز پر عمل میں آیا ہے جس کے تحت متعلقہ پارٹیوں کو ہر فوجی سامان بردار پرواز کی تفصیلات بلجیم حکام کو مطلع کرنا لازمی قرار دیا گیا ہے۔ بلجیم کا کہنا ہے کہ یہ قدم بین الاقوامی قانون کے تحت ذمہ داری پوری کرنے اور بین الاقوامی سطح پر واضح پیغام دینے کے لیے ضروری ہے۔
بلجیم نے اسرائیل کے خلاف ایک اہم سفارتی اقدام کرتے ہوئے اسلحے اور فوجی ساز و سامان کی ترسیل پر پابندی عائد کر دی ہے، جس کے تحت ایسے طیاروں کو بلجیم کا فضائی علاقہ استعمال کرنے یا تکنیکی اسٹاپ لینے کی اجازت نہیں ہوگی جو اسرائیل کو ہتھیار یا فوجی سامان پہنچا رہے ہوں۔ یہ فیصلہ بلجیم کے وزیر خارجہ میکسیم پریووٹ کی تجویز پر کیاگیا اور جمعرات سے نافذ العمل قرار دیا گیا ہے۔ بلجیم کی وزارت خارجہ نے انادولو ایجنسی کو تصدیق کی کہ اس پابندی کا مقصد اسرائیل کو اسلحہ اور فوجی سامان پہنچانے کی نقل و حمل کو روکنا ہے، تاکہ بلجیم اپنے بین الاقوامی قانونی فرائض کو پورا کرے اور بین الاقوامی سطح پر واضح سیاسی پیغام بھیجے۔ اس نئے اقدام کے تحت متعلقہ فریقین کو لازمی ہے کہ وہ ہر پرواز کے بارے میں بلجیم حکام کو تفصیلات فراہم کریں، جس میں اسلحہ یا فوجی ساز و سامان ہو سکتا ہے۔ بلجیم کا کہنا ہے کہ یہ اقدام قانونی خلا کو بھی بند کرتا ہے جس کے تحت بعض اوقات ہتھیاروں سے بھرے جہاز تکنیکی اسٹاپ کے بہانے بغیر سامان اتارے فضائی حدود استعمال کر لیتے تھے۔
یہ بھی پڑھئے: امریکہ کا چھوٹے سے چھوٹا حملہ بھی ایران کے خلاف اعلانِ جنگ سمجھا جائے گا: ایرانی حکام
بلجیم میں اسلحے کی برآمدات کے لائسنس علاقائی حکومتوں کے اختیار میں ہوتے ہیں، جبکہ اسلحے کی نقل و حمل اور ٹرانزٹ کا معاملہ وفاقی سطح پر سنبھالا جاتا ہے۔ نئی پابندی کے باعث ممکن ہے کہ علاقائی سطح پر جاری لائسنس بھی مؤثر طریقے سے استعمال نہ ہو سکیں، کیونکہ وفاقی پابندی کے تحت سامان کی حقیقی نقل و حمل روک دی جائے گی۔ بلجیم حکام کے مطابق کسٹم حکام اور فیڈرل پبلک سروس موبیلیٹی اینڈ ٹرانسپورٹ جیسے ادارے اس پابندی پر عمل درآمد کی نگرانی کریں گے۔ بلجیم کے اس سفارتی اقدام کے پیچھے عالمی سیاسی اور انسانی حقوق کے تناظر میں تشویش بھی ہے، خاص طور پر اس پس منظر میں کہ ۲۰۲۳ء سے جاری اسرائیل اور فلسطینی علاقے غزہ میں دو سالہ جنگ کے دوران انسانی ہمدردی کا بحران پیدا ہوا ہے جس میں بڑے پیمانے پر ہلاکتیں اور تباہی ہوئی ہے۔
یہ بھی پڑھئے: اسرائیلی زرعی برآمدات تباہی کے دہانے پر، غزہ نسل کشی کا نتیجہ
بلجیم نے اپنی ذمہ داری کو تسلیم کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ کسی بھی طرح سے اس صورتحال میں حصہ نہیں ڈالے گا جس سے مزید ہتھیاروں کی فراہمی ممکن ہو۔ یہ اقدام بین الاقوامی برادری میں اسرائیل کے خلاف بڑھتی ہوئی تنقید اور ہتھیاروں کی فراہمی کو روکنے کے مطالبات کے درمیان سامنے آیا ہے۔ دیگر ممالک جیسے کنیڈا، اسپین، نیدرلینڈز اور جاپان نے بھی گزشتہ برسوں میں اپنے اپنے انداز سے اسلحے کی برآمدات یا ترسیل پر پابندیاں عائد کی ہیں، جبکہ کچھ دیگر ممالک میں بھی ایسے اقدامات کے لیے سیاسی دباؤ بڑھا ہے۔ بلجیم کی حکومت نے بتایا ہے کہ وہ اپنے بین الاقوامی قانون کے تحت فرائض کو پورا کرنے کے لیے ہر ممکن قدم اٹھا رہی ہے، اور یہ پابندی اس بات کی عکاسی ہے کہ وہ عالمی سطح پر امن اور انسانی حقوق کے تحفظ کے لیے فعال کردار ادا کرنے پر یقین رکھتی ہے۔