• Tue, 20 January, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

بیلا حدید کا ۲۰۲۶ء کا وژن: فلسطین، سوڈان اور کانگو کی آزادی کی خواہش

Updated: January 19, 2026, 9:58 PM IST | Los Angeles

فلسطینی نژاد امریکی سپر ماڈل بیلا حدید نے نئے سال ۲۰۲۶ء کے لیے عالمی انصاف، آزادی اور مظلوم آوازوں کی حمایت کو اپنی اولین ترجیح قرار دیا ہے۔

Bella Hadid. Picture: INN
بیلا حدید۔ تصویر: آئی این این

فلسطینی نژاد امریکی سپر ماڈل بیلا حدید نے نئے سال ۲۰۲۶ء کے لیے اپنے وژن کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ دنیا میں انصاف، آزادی اور انسانی حقوق کی بحالی دیکھنا چاہتی ہیں۔ امریکی تفریحی چینل انٹرٹینمنٹ ٹونائٹ کو دیے گئے ایک انٹرویو میں بیلا حدید نے واضح انداز میں کہا کہ ان کی خواہش ہے کہ فلسطین، سوڈان اور کانگو جیسے خطوں کو آزادی اور امن نصیب ہو۔ انٹرویو کے دوران بیلا حدید نے کہا کہ ’’میں چاہتی ہوں کہ فلسطین آزاد ہو، سوڈان آزاد ہو اور کانگو آزاد ہو۔‘‘ ان کا کہنا تھا کہ وہ اپنے اثر و رسوخ اور عوامی پلیٹ فارم کو اس مقصد کے لیے استعمال کرنا چاہتی ہیں تاکہ دنیا کے ہر کونے میں رہنے والے لوگ یہ محسوس کریں کہ ان کی آواز سنی جا رہی ہے۔

یہ بھی پڑھئے: ٹرمپ کی دھمکیوں کے خلاف گرین لینڈ، ڈنمارک کی سڑکوں پر ہزاروں افراد کا احتجاج

بیلا حدید کا یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب دنیا کے مختلف حصے مسلسل جنگوں، سیاسی عدم استحکام اور انسانی بحرانوں کی لپیٹ میں ہیں۔ فلسطین میں طویل عرصے سے جاری تنازع، سوڈان میں خانہ جنگی اور کانگو میں انسانی بحران عالمی ضمیر کے لیے ایک بڑا سوال بن چکے ہیں۔ بیلا حدید کے مطابق ان مسائل پر خاموشی اختیار کرنا ظلم کے ساتھ کھڑے ہونے کے مترادف ہے۔ یہ پہلا موقع نہیں کہ بیلا حدید نے عالمی انصاف اور فلسطینی عوام کے حق میں آواز بلند کی ہو۔ ماضی میں بھی وہ متعدد بار فلسطین کے حق میں کھل کر بات کر چکی ہیں اور انسانی حقوق سے متعلق سرگرمیوں میں حصہ لیتی رہی ہیں۔ ان کے بیانات اکثر عالمی میڈیا اور سوشل میڈیا پر بحث کا موضوع بنتے رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھئے: امریکہ،گرین لینڈ پر ٹرمپ منصوبے کے مخالف ۸؍ ممالک پر ٹیرف عائد کرے گا، فرانس خفا

بیلا حدید کا کہنا ہے کہ ایک مشہور شخصیت ہونے کے ناطے ان پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ فیشن اور شہرت سے آگے بڑھ کر سماجی اور انسانی مسائل پر بات کریں۔ ان کے مطابق اگر بااثر شخصیات اپنی آواز مظلوموں کے لیے استعمال کریں تو عالمی سطح پر شعور اور دباؤ پیدا ہو سکتا ہے۔ انٹرویو میں انہوں نے امید ظاہر کی کہ ۲۰۲۶ء ایک ایسا سال ثابت ہو گا جس میں دنیا بھر میں انصاف، آزادی اور انسانیت کے لیے حقیقی اقدامات دیکھنے کو ملیں گے۔ ان کا پیغام واضح تھا کہ عالمی انصاف صرف نعروں سے نہیں بلکہ مسلسل آواز اٹھانے اور عملی یکجہتی سے ممکن ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK