غزہ میں اسرائیلی جارحیت کے نتیجے میں بیوہ ہونے والی خواتین بے سروسامانی ، بھوک ، اور تنہائی کی المناک داستان بیان کررہی ہیں، ہزاروں فلسطینی بیوائیں اپنی زندگی کو دردناک انداز میں گزار رہی ہیں۔
EPAPER
Updated: June 26, 2026, 10:09 PM IST | Gaza
غزہ میں اسرائیلی جارحیت کے نتیجے میں بیوہ ہونے والی خواتین بے سروسامانی ، بھوک ، اور تنہائی کی المناک داستان بیان کررہی ہیں، ہزاروں فلسطینی بیوائیں اپنی زندگی کو دردناک انداز میں گزار رہی ہیں۔
اسرائیلی نسل کش جنگ میں اپنے شوہروں کو کھونے کے بعدغزہ کی خواتین بے سروسامانی ، بھوک ، اور تنہائی کی المناک داستان بیان کررہی ہیں، ہزاروں فلسطینی بیوائیں اپنی زندگی کو دردناک انداز میں گزار رہی ہیں۔ انہی میں دعاء السعودی اور شروق ابو سکران شامل ہیں، دو خواتین جو اب وہ بوجھ اٹھا رہی ہیں جو کبھی پورے خاندان پر ہوتا تھا۔ ایک اکیلی اپنے شوہر کی شہادت کے بعد چار بچوں کو کھانا کھلانے اور پالنے کی جدوجہد کر رہی ہے۔ دوسری نے اسرائیلی حملوں میں اپنے شوہر اور اپنی دونوں ٹانگیں کھو دی ہیں اور اب ہر کام کے لیے اپنی بوڑھی ماں پر منحصر ہے۔یہ کہانیاں غزہ کی ہزاروں بیواؤں کی حقیقت کی آئینہ دار ہیں، جہاں وہ خواتین جن کے شوہر جاں بحق ہو گئے، اب ابتر ہوتے حالاتِ زندگی اور کم ہوتی ہوئی انسانی امداد کے باوجود اپنے بچوں کے لیے خوراک، دوا، پناہ گاہ اور تعلیم کا انتظام خود کرنے پر مجبور ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: ڈونالڈ ٹرمپ کے غزہ امن بورڈ پر فلسطینی ریاست کے قیام کے امکان کوکچلنے کا الزام
اقوام متحدہ کی خواتین کی تنظیم (UN Women) کے مطابق، اکتوبر۲۰۲۵ء تک غزہ میں ۱۶؍ ہزار سے زیادہ خواتین اپنے شوہر کھو چکی تھیں، جبکہ جنگ کے دوران ہر سات میں سے ایک گھرانے کی سربراہ ایک عورت بن گئی۔اقوام متحدہ کے اداروں اور امدادی تنظیموں کے مطابق، بار بار بے گھر ہونا، بھرے ہوئے پناہ گزین کیمپ، بیماریوں کی وبا، اور پانی اور ادویات کی شدید قلت نے بیواؤں اور ان کے خاندانوں کے مصائب کو مزید گہرا کر دیا ہے۔ دعاء السعودی جنہوں نے اپنے شوہر کو کھویا جو خاندان کا واحد ذریعۂ آمدنی تھے اب اپنے بچوں کے ساتھ ایک کیمپ میں رہتی ہیں۔انہوں نے انادولو نیوز ایجنسی کو بتایا،’’ہمیں امداد کے سوا کچھ نہیں ملتا۔ یتیموں یا بیواؤں کے لیے کوئی مستقل مالی تعاون نہیں ہے۔‘‘ان کا کہنا تھا کہ بنیادی خوراک، خاص طور پر پھل اور سبزیاں، حاصل کرنا بھی مشکل ہو گیا ہے۔اگر میں دو سیب خرید سکوں تو وہ اپنے بچوں میں تقسیم کر دیتی ہوں۔‘‘شوہر کی شہادت سے پہلے، وہ خاندان کی ہر ضرورت پوری کرتا تھا۔ اب وہ کہتی ہیں کہ اسکول کی کاپیاں بھی ایک بوجھ بن گئی ہیں جسے وہ ہمیشہ برداشت نہیں کر سکتیں۔ دعاء نے چار بچوں کی ذمہ داری اکیلے اٹھانے اور بے گھری کیمپوں میں بقا کی جدوجہد کو بیان کرتے ہوئے بتایا کہ ،’’میرا ایک بیٹا آپریشن، علاج اور خاص خوراک کا محتاج ہے، لیکن میں اس میں سے کچھ بھی فراہم نہیں کر سکتی۔‘‘انہوں نے بین الاقوامی برادری سے اپیل کی کہ وہ غزہ کی بیواؤں اور یتیموں کو فراموش نہ کرے۔ذمہ داریاں ہماری برداشت سے باہر ہوگئی ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: اسرائیل: سابق آرمی چیف گاڈی آئزن کوٹ مقبولیت میں نیتن یاہو سے آگے
شروق ابو سکران کے لیے، جنگ نے بے گھری سے بھی زیادہ گہرے زخم چھوڑے۔وہ۳۱؍ اگست ۲۰۲۴ء کو اسرائیلی حملے میں شدید زخمی ہوئیں جس نے ان کے گھر کو نشانہ بنایا، جس میں کئی افراد جاں بحق ہوئے جبکہ وہ اپنے بیٹے سمیت زندہ بچ گئیں۔انہوں نے انادولو کو بتایا، ’’میں نے بمباری میں اپنی ٹانگیں کھو دیں۔ درد ہر دن بڑھتا جا رہا ہے یہاں تک کہ میں مضبوط درد کش ادویات لینے کے باوجود سو نہیں سکتی۔‘‘ان کا کہنا تھا کہ ان کی بگڑتی ہوئی حالت ڈاکٹروں کو ان کی ایک ٹانگ کے بچے ہوئے حصے کو کاٹنے پر مجبور کر سکتی ہے۔شروق اب خود حرکت نہیں کر سکتیں اور نہ ہی اپنی روزمرہ کی ضروریات پوری کر سکتی ہیں۔انہوں نے اپنا درد بیان کرتے ہوئے کہا کہ ،’’میری ماں میرے لیے سب کچھ کرتی ہے۔‘‘اپنی چوٹ سے پہلے، وہ اپنے شوہر کو ایک اسرائیلی حملے میں کھو چکی تھیں جب وہ غزہ شہر میں الوحدہ اسٹریٹ پر ساتھ چل رہے تھے۔انہوں نے بتایا کہ ،’’میرے شوہر میرے سامنے شہید ہوئے،پھر مجھے چوٹ آئی اور اس نے میری مصیبت دگنی کر دی۔‘‘
یہ بھی پڑھئے: لبنان اسرائیل مذاکرات کا ۵؍ واں دور، جنگ بندی اور انخلا پر بات چیت
اس ماہ کے شروع میں، غزہ کی وزارتِ صحت نے کہا کہ اسرائیل۱۷؍ ہزار فلسطینیوں کو بیرونِ ملک طبی علاج کے لیے سفر کرنے سے روک رہا ہے، اور خبردار کیا کہ تاخیر سے زیرِ علاج کے سبب مریضوں کی اموات بڑھ رہی ہیں۔شروق ابو سکران نے کہا کہ غزہ کی بیوائیں بغیر مدد یا توجہ کے مصائب کا سامنا کرتی رہتی ہیں۔انہوں نے کہا،’’ہم محض تصویریں یا ویڈیو کلپس نہیں ہیں جنہیں لوگ دیکھ کر آگے بڑھ جائیں۔ ہمیں جینے، علاج پانے اور زندگی کی بنیادی ضروریات حاصل کرنے کا حق ہے۔‘‘انہوں نے بیواؤں اور ان کے بچوں، خاص طور پر ان نوجوان عورتوں کے لیے زیادہ مدد کا مطالبہ کیا جنہوں نے جنگ میں اپنے شوہر کھوئے۔
یہ بھی پڑھئے: ۶؍ ماہ بعد رہا ہونے والے فلسطینی صحافی کی حالت غیر، حقوق تنظیم نے سوال اٹھائے
واضح رہے کہ اسرائیل کی نسل کش جنگ نے غزہ کے صحت کے نظام کو تباہ کر دیا ہے، جس نے اسپتالوں اور طبی انفراسٹرکچر کو برباد کر دیا جبکہ ادویات، ایندھن اور طبی سامان کی شدید قلت پیدا کر دی ہے۔غزہ کی وزارتِ صحت کے مطابق،دو سال سے زائد جاری رہنے والی نسل کش جنگ جس میں ۷۳؍ ہزار سے زیادہ فلسطینی شہید ہوئے،۱۷۳۰۰۰؍ سے زیادہ زخمی ہوئے، اور غزہ کا تقریباً۹۰؍ فیصد انفراسٹرکچر تباہ ہو گیا۔