بنگلورو کی عظیم پریم جی یونیورسٹی میں کشمیر سے متعلق ایک تقریب کے دوران پر تشدد احتجاج کرنے والے اکھل بھارتی ودیارتھی پریشد ( اے بی وی پی) کے ۱۸؍ اراکین کو گرفتار کر لیا گیا، انہوں نے مبینہ طور پر ادارے کی املاک کو نقصان پہنچایا تھا۔
EPAPER
Updated: February 25, 2026, 9:06 PM IST | Bengaluru
بنگلورو کی عظیم پریم جی یونیورسٹی میں کشمیر سے متعلق ایک تقریب کے دوران پر تشدد احتجاج کرنے والے اکھل بھارتی ودیارتھی پریشد ( اے بی وی پی) کے ۱۸؍ اراکین کو گرفتار کر لیا گیا، انہوں نے مبینہ طور پر ادارے کی املاک کو نقصان پہنچایا تھا۔
بنگلورو میں اکھل بھارتیہ ودیارتھی پریشد (ABVP) کے اٹھارہ اراکین کو منگل کو اس وقت حراست میں لے لیا گیا جب انہوں نے عظیم پریم جی یونیورسٹی میں کشمیر سے متعلق ایک تقریب کے خلاف احتجاج کیا اور مبینہ طور پر املاک کو نقصان پہنچایا۔ اے بی وی پی جو راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (RSS) کا طلبہ ونگ ہے، نے الزام لگایا کہ یونیورسٹی نے طلبہ کے ایک گروپ کے زیر اہتمام پروگرام کی اجازت دی جس میں ہندوستانی فوج کو منفی انداز میں پیش کیا گیا۔ طلبہ گروپ نے اس پروگرام کو غیر ملکی سرگرمی قرار دیا۔ واضح رہے کہ یہ پروگرام کنان پوش پورہ واقعے پر بحث کے لیے منعقد کیا جا رہا تھا، جو فروری ۱۹۹۱ء میں کشمیر کے دو گاؤں میں سیکیورٹی اہلکاروں کی جانب سے اجتماعی زیادتی کے الزامات سے متعلق ہے۔
یہ بھی پڑھئے: لکھنؤ یونیورسٹی میں اے بی وی پی کی ہنگامہ آرائی، سخت کشیدگی
بعد ازاں یونیورسٹی نے ایک بیان میں کہا کہ اس نے اس نوعیت کی کسی بھی تقریب کی اجازت نہیں دی تھی ساتھ ہی اے بی وی پی کے اراکین کی جانب سے تشدد کی مذمت کی۔احتجاج سے قبل اے بی وی پی نے ایک پریس ریلیز میں ’’غیر ملکی، کشمیر علیحدگی پسند تقاریب اور ہندوستانی فوج کے خلاف سیشنز‘‘ نام کی اس تقریب کی مذمت کی تھی۔احتجاج کے دوران، اے بی وی پی اراکین نے مبینہ طور پر یونیورسٹی کے سائن بورڈ پر سیاہی پھینکی اور کیمپس میں داخل ہو کر دیواروں پر پینٹ سے گرافٹی بنائی۔ اس دوران سیکیورٹی اہلکاروں نے مداخلت کی۔یونیورسٹی کے ایک طالب علم کے مطابق، ایک اور طالب علم جس نے یہ پوچھنے کی کوشش کی کہ املاک کو کیوں نقصان پہنچایا جا رہا ہے، اے بی وی پی اراکین نے اسے مارا، جسے بعد میں اسپتال لے جانا پڑا۔ تاہم اے بی وی پی نے وزارت داخلہ کو ایک میمورنڈم میں اس پروگرام کی اجازت دینے پر طلبہ گروپ اور یونیورسٹی انتظامیہ کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: جلگاؤں میں ہجومی تشدد کا شکار ہونےوالا نوجوان ممبئی میں دم توڑ گیا
یونیورسٹی نے بتایا کہ منگل شام ۶؍بجے ۲۰؍ افراد نے زبردستی کیمپس میں داخل ہو کر نعرے بازی کی اور املاک کو نقصان پہنچایا۔ اس نے مزید کہا کہ یہ پروگرام چھوٹے سے طلبہ گروپ کا منصوبہ تھا اور یونیورسٹی نے اس کی اجازت نہیں دی تھی۔اس واقعے کے بعد یونیورسٹی کے طلبہ نے اے بی وی پی کے اقدامات کے خلاف احتجاج کیا اور حکومت سے ان کے خلاف کارروائی کرنے کا مطالبہ کیا۔ سپریٹنڈنٹ آف پولیس (بنگلورو دیہی ضلع) چندرکانت ایم وی نے تصدیق کی کہ اے بی وی پی کے ۱۸؍اراکین کو حراست میں لیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پولیس کو احتجاج کے بارے میں مطلع نہیں کیا گیا تھا اور شہری قانون کو اپنے ہاتھ میں نہیں لے سکتے۔