نیویارک اسٹیٹ حکام نے اسرائیل نواز گروپ بیتار یو ایس کے ساتھ تصفیہ کیا ہے، جس پر فلسطین حامی مظاہرین کے خلاف تشدد، دھمکیوں اور ہراسانی کے الزامات ثابت ہوئے۔
EPAPER
Updated: January 20, 2026, 3:00 PM IST | New York
نیویارک اسٹیٹ حکام نے اسرائیل نواز گروپ بیتار یو ایس کے ساتھ تصفیہ کیا ہے، جس پر فلسطین حامی مظاہرین کے خلاف تشدد، دھمکیوں اور ہراسانی کے الزامات ثابت ہوئے۔
امریکہ کی ریاست نیویارک میں حکام نے اسرائیل نواز تنظیم Betar US کے ساتھ ایک قانونی تصفیے کا اعلان کیا ہے۔ واضح رہے کہ جب ریاستی تحقیقات میں یہ بات سامنے آئی کہ مذکورہ گروپ فلسطین حامی مظاہرین اور دیگر شہریوں کے خلاف تشدد، ہراسانی اور دھمکی آمیز سرگرمیوں میں ملوث رہا ہے تو حکومت نے تحقیقات کا آغاز کیا تھا۔ نیویارک کی اٹارنی جنرل لیٹیشیا جیمز کے دفتر کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ تحقیقات کے دوران ایسے شواہد ملے جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ بیتار یو ایس نے مسلم، عرب، فلسطینی اور یہودی نیویارک شہریوں کے خلاف منظم طور پر نفرت انگیز مہم چلائی۔ بیان کے مطابق یہ سرگرمیاں متعدد محفوظ طبقات کے خلاف تعصب پر مبنی تھیں اور نیویارک کے سول رائٹس قوانین کی کھلی خلاف ورزی کے زمرے میں آتی ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: دنیا کا سب سے بڑا آئس برگ ’اے ۲۳؍ اے‘ چالیس برس بعد خاتمے کے قریب
لیٹیشیا جیمز نے اپنے بیان میں کہا، ’’نیویارک ان تنظیموں کو ہرگز برداشت نہیں کرے گا جو خوف، تشدد اور دھمکیوں کے ذریعے آزادیِ اظہار کو دبانے یا لوگوں کو ان کی شناخت کی بنیاد پر نشانہ بنائیں۔‘‘ ریاستی حکام کے ساتھ طے پانے والے معاہدے کے تحت بیتار یو ایس کو فوری طور پر کسی بھی فرد کے خلاف تشدد پر اکسانے، مظاہرین کو دھمکانے اور شہری حقوق استعمال کرنے والوں کو ہراساں کرنے سے باز رہنا ہوگا۔ اٹارنی جنرل کے دفتر کے مطابق، تنظیم پر ۵۰؍ ہزار ڈالر کا معطل جرمانہ بھی عائد کیا گیا ہے، جو اس صورت میں نافذ ہوگا اگر بیتار معاہدے کی کسی شق کی خلاف ورزی کرتا ہے۔ واضح رہے کہ یہ تحقیقات مارچ میں اس وقت شروع کی گئیں جب اٹارنی جنرل کے دفتر کو متعدد شکایات موصول ہوئیں، جن میں الزام لگایا گیا تھا کہ بیتار اور اس کے ارکان نے اسرائیل اور فلسطین سے متعلق مظاہروں کے دوران پرتشدد اور دھمکی آمیز رویہ اختیار کیا۔
یہ بھی پڑھئے: عام بجٹ۲۷۔۲۰۲۶ء: کاروبار میں آسانی پر توجہ، خواتین کے لیے مواقع میں اضافہ
بیتار یو ایس خود کو ۱۹۲۳ء میں قائم ہونے والی ایک دائیں بازو کی صہیونی نوجوان تحریک کا حصہ قرار دیتا ہے، جس کا مرکز اسرائیل میں بتایا جاتا ہے۔ یہ تنظیم گزشتہ برس اس وقت خبروں میں آئی جب اس نے اسرائیل کے خلاف مظاہروں میں شریک یونیورسٹی طلبہ کی فہرستیں شائع کیں اور ٹرمپ انتظامیہ سے ان طلبہ کو ملک بدر کرنے کا مطالبہ کیا۔ تنظیم نے سوشل میڈیا پر ایسے پیغامات بھی پوسٹ کیے، جو بعد میں حذف کر دیے گئے، جن میں غزہ میں شہری ہلاکتوں کا تمسخر اڑایا گیا، حتیٰ کہ ایک پوسٹ میں کہا گیا، ’’یہ کافی نہیں، ہمیں غزہ میں خون چاہئے۔‘‘ نیویارک کے میئر ظہران ممدانی نے اس معاہدے کا خیرمقدم کرتے ہوئے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا کہ بیتار برسوں سے نیویارک میں نفرت، اسلاموفوبیا اور اختلاف رائے رکھنے والوں کو ہراساں کرنے کی مہم چلا رہا تھا۔