میئر، ڈپٹی میئر اور اسٹینڈنگ کمیٹی چیئرپرسن کے وارڈ میں بھی گڑھوں کی بھرمار۔بارش رکتے ہی مرمت کی یقین دہانی۔
EPAPER
Updated: August 18, 2026, 11:15 AM IST | Khalid Abdul Qayyum Ansari | Bhiwandi
میئر، ڈپٹی میئر اور اسٹینڈنگ کمیٹی چیئرپرسن کے وارڈ میں بھی گڑھوں کی بھرمار۔بارش رکتے ہی مرمت کی یقین دہانی۔
برسات کا موسم شروع ہوتے ہی بھیونڈی شہر کی سڑکیں بڑے بڑے گڑھوں میں تبدیل ہو چکی ہیں ، جس نے میونسپل کارپوریشن کے ترقیاتی دعوؤں کی پول کھول دی ہے۔ شہر کی اہم شاہراہوں سے لے کر اندرونی محلوں تک ہر طرف گڑھوں کا راج ہے۔ بارش کا پانی بھر جانے سے نہ صرف گاڑی سواروں بلکہ پیدل چلنے والوں اور اسکولی بچوں کیلئے بھی سفر کرنا انتہائی خطرناک بن چکا ہے۔ حیرت انگیز بات یہ ہے کہ شہر کے سرفہرست عہدیداروں کے اپنے وارڈ بھی اس بدحالی سے محفوظ نہیں ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: محکمۂ تعلیم کی اسکولوں کے لئے فوڈسیفٹی گائیڈلائن جاری
میئر نارائن چودھری کا وارڈ تاڑالی-کامت گھر علاقے میں واقع ہے اور پربھاگ سمیتی ۳؍میں شامل ہے۔ کامت گھر ، تاڑالی ، دھامنکر ناکہ اور کلیان ناکہ کے علاقوں میں سڑکوں پر جگہ جگہ بڑے گڑھے شہریوں کے لئے دردِ سر بنے ہوئے ہیں۔ ڈپٹی میئر طارق مومن کا وارڈ پربھاگ سمیتی ۲؍میں شامل ہے ، لیکن یہاں بھی صورتحال مختلف نہیں۔ غیبی نگر ، شانتی نگر ، بابلا کمپاؤنڈ ، امجدیہ روڈ اور راؤجی نگر سمیت متعدد علاقوں کی اندرونی سڑکیں گڑھوں سے بھری پڑی ہیں۔ امجدیہ روڈ اور بابلا کمپاؤنڈ روڈ کی خستہ حالی اس حد تک پہنچ چکی ہے کہ گاڑی تو دور ، پیدل چلنا بھی شہریوں کے لئے دشوار ہوگیا ہے۔
اسی طرح اسٹینڈنگ کمیٹی کی چیئرپرسن ایڈوکیٹ ایشا خان کا وارڈ پربھاگ سمیتی ایک میں آتا ہے۔ ایس ٹی سے ونجارپٹی ناکہ اور ونجارپٹی ناکہ سے چاوندرا تک کے اہم راستے پر بھی متعدد مقامات پر بڑے گڑھے بنے ہوئے ہیں ، جس سے روزانہ ہزاروں شہریوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: بی جے پی کی نئی ٹیم کا اعلان، نوجوانوں اور خواتین کو ترجیح، مالویہ کی چھٹی
سنگین حادثات اور انتظامی غفلت
سڑکوں کی خستہ حالی کے باعث آئے روز حادثات رونما ہو رہے ہیں۔ کلیان ناکہ کے قریب ٹریفک جام اور گڑھوں کی وجہ سے اسپتال جارہی ایک حاملہ خاتون کی آٹو رکشا میں ہی زچگی کا دل دہلا دینے والا واقعہ پیش آ چکا ہے ، اس کے باوجود صورتحال جوں کی توں ہے۔ دوسری جانب ، ناگاؤں ۶۰؍ فٹ روڈ پر کئی اسکول واقع ہیں۔ بارش کے دوران پانی سے بھرے گڑھوں کے درمیان سے گزرنے والے اسکولی بچوں کی جان ہر وقت خطرے میں رہتی ہے۔
مقامی رکن اسمبلی رئیس شیخ نے اس سڑک کی مرمت کیلئے بجٹ فراہم کرنے کا دعویٰ کیا ہے ، لیکن میونسپل کارپوریشن کی سست روی اور محکموں کے درمیان عدم تال میل کی وجہ سے اب تک کام شروع نہیں ہو سکا۔ کارپوریشن کے ایڈیشنل سٹی انجینئر سچن نائک کا کہنا ہے کہ اس روڈ کی مرمت کیلئے اب تک ورک آرڈر ہی جاری نہیں کیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھئیے:بھیونڈی: ڈی ایف سی منصوبے کے مٹی بھراؤ کو ترپال اور سیمنٹ کی بوریوں کا سہارا
کروڑوں کا بجٹ اور عارضی اقدامات
بھیونڈی میونسپل کارپوریشن کا کُل مالی بجٹ تقریباً ۱۱۷۹ ؍کروڑ روپے ہے ، جس میں سے سڑکوں کی مرمت کے لئے صرف ۵ء۰۹؍ کروڑ روپے مختص کئے گئے ہیں۔ شہریوں کا بنیادی سوال یہ ہے کہ ہر سال بجٹ ہونے کے باوجود بارش شروع ہوتے ہی سڑکیں کیوں ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو جاتی ہیں ؟اس وقت انتظامیہ کی جانب سے روایتی اور عارضی اقدامات کئے جا رہے ہیں۔ گڑھوں میں صرف پتھر اور ملبہ ڈالا جا رہا ہے ، جو پہلی ہی بارش میں بہہ جاتا ہے۔
میونسپل کمشنر انمول ساگر اور ڈپٹی میئر طارق مومن کا کہنا ہے کہ برسات میں تارکول کا کام ممکن نہیں ہے ، اس لئے فی الحال گٹی سے گڑھے بھرے جا رہے ہیں اور بارش رکتے ہی بڑے پیمانے پر مستقل مرمت کا کام شروع کیا جائے گا۔ انجینئرنگ محکمے کے مطابق انجور پھاٹا سے ونجارپٹی ناکہ تک مناسب ڈرینیج سسٹم کی عدم موجودگی اور سڑک کی کم چوڑائی بھی بار بار گڑھے بننے کی بڑی وجہ ہے ، جس کے تدارک کے لئے اب پیور بلاک کا استعمال کیا جا رہا ہے۔ شہر کے عوام کا مطالبہ ہے کہ عارضی مرمت کے بجائے شہر کی سڑکوں کی مستقل ، معیاری اور پائیدار تعمیر کی جائے تاکہ ان کی زندگیاں خطرے میں نہ پڑیں۔