Inquilab Logo Happiest Places to Work

بھیونڈی : رشوت لیتے ہوئے اسسٹنٹ میونسپل کمشنر گرفتار

Updated: June 11, 2026, 4:00 PM IST | Khalid Abdul Qayyum Ansari | Bhiwandi

اسسٹنٹ میونسپل کمشنرنےغیرقانونی تعمیرات کیخلاف کارروائی نہ کرنے کے عوض ۵؍ لاکھ روپے طلب کئے تھے۔

Assistant Municipal Commissioner Surendra Bhoyar.Photo;INN
اسسٹنٹ میونسپل کمشنر سریندر بھوئر- تصویر:آئی این این
  اسسٹنٹ میونسپل کمشنر اور پربھاگ سمیتی۳؍ کے انچارج سریندر بھوئر (۵۲) کو تھانے اینٹی کرپشن بیورو (اے سی بی) نے منگل کی دیر شام ڈھائی لاکھ روپے رشوت لیتے ہوئے رنگے ہاتھوں گرفتار کر لیا۔ اس کارروائی کے بعد میونسپل کارپوریشن کے انتظامی حلقوں میں کھلبلی مچ گئی ہے۔ 
اے سی بی سے موصولہ اطلاعات کے مطابق پربھاگ سمیتی ۳؍کے دائرۂ کار میں ایک غیر قانونی تعمیراتی کام جاری تھا۔ الزام ہے کہ مذکورہ تعمیرات کے خلاف کارروائی نہ کرنے کے عوض سریندر بھوئر نے متعلقہ شخص سے ۵؍لاکھ روپے رشوت کا مطالبہ کیا تھا۔ طے شدہ رقم میں سے ڈھائی لاکھ روپے پہلی قسط کے طور پر ادا کئے جانے تھے۔شکایت کنندہ نے رشوت کی رقم ادا کرنے کے بجائے اس کی اطلاع تھانے اینٹی کرپشن بیورو کو دی۔ شکایت موصول ہونے کے بعد اے سی بی نے ابتدائی جانچ کی جس میں رشوت طلب کئے جانے کی تصدیق ہوئی۔ اس کے بعد افسران نے منصوبہ بندی کے تحت جال بچھایا۔
 
 
منگل کی دیر شام تقریباً ۷؍ بجے پربھاگ سمیتی دفتر کے قریب واقع ایک کھلے میدان میں اپنی ہنڈائی کریٹا کار کے اندر شکایت کنندہ سے ڈھائی لاکھ روپے وصول کرتے وقت سریندر بھوئر کو اے سی بی کی ٹیم نے رنگے ہاتھوں گرفتارکر لیا۔ کارروائی مکمل ہونے کے بعد انہیں حراست میں لے کر بھیونڈی شہر پولیس اسٹیشن منتقل کیا گیا جہاں  رات دیر گئے تک پوچھ گچھ اور قانونی کارروائی جاری رہی۔ بعد ازاں انہیں باضابطہ طور پر گرفتار کر لیا گیا۔
 
 
ذرائع کے مطابق سریندر بھوئر کی اصل تقرری سرویئر اور بلڈنگ انسپکٹر کے طور پر ہوئی تھی، تاہم انہیں پربھاگ سمیتی ۳؍ کا انچارج اسسٹنٹ کمشنر مقرر کیا گیا تھا۔ ان کی گرفتاری کے بعد میونسپل انتظامیہ میں بدعنوانی کے معاملات اور نگرانی کے نظام کی مؤثریت پر نئی بحث شروع ہوگئی ہے۔قابلِ ذکر بات یہ ہے کہ گزشتہ ۳؍ برسوں کے دوران اینٹی کرپشن بیورو کی مختلف کارروائیوں میں میونسپل کارپوریشن کے نصف درجن سے زائد ملازمین گرفتار کئے جا چکے ہیں۔اس سلسلےمیں شہریوں اور سماجی حلقوں کا کہنا ہے کہ بدعنوانی کے الزامات میں گرفتار ہونے والے ملازمین کے خلاف سخت محکمہ جاتی کارروائی کی جانی چاہئے ۔ اسی طرح انہیں دوبارہ اہم ذمہ داریوں پر تعینات کرنے سے گریز بھی کیا جانا چاہئے۔

 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK