۱۹۱؍تعمیراتی منصوبوں کو نوٹس،صنعتی اکائیوں کیخلاف بھی سخت کارروائی کی تیاری۔
بھیونڈی کا رپوریشن۔ تصویر:آئی این این
صنعتی و تجارتی سرگرمیوں کے ساتھ ساتھ تیزی سے بڑھتی تعمیرات کے باعث فضائی آلودگی کے سنگین بحران سے دوچار میونسپل کارپوریشن نے بالآخر بڑے پیمانے پر کارروائی کا آغاز کر دیا ہے۔ آلودگی پر قابو پانے کے ضوابط کی خلاف ورزی کرنے والے ۱۹۱؍ ہاؤسنگ اور کمرشل تعمیراتی پروجیکٹس کو نوٹس جاری کرتے ہوئے فوری اصلاحی اقدامات نافذ کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔ کارپوریشن کی اس کارروائی کو شہر میں بڑھتی آلودگی کے خلاف پہلی بڑی اور منظم مہم تصور کیا جا رہا ہے۔
میونسپل انتظامیہ کی جانب سے وارڈ افسران، پولیوشن کنٹرول بورڈاور ٹاؤن پلاننگ محکمہ پر مشتمل مشترکہ ٹیمیں تشکیل دی گئی ہیں جو شہر بھر میں جاری تعمیراتی سرگرمیوں کا مسلسل معائنہ کر رہی ہیں۔ ابتدائی جانچ میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ متعدد تعمیراتی مقامات پر واٹر فوگنگ سسٹم نصب نہیں کیا گیا، تعمیراتی علاقوں کو حفاظتی پردوں سے نہیں ڈھانپا گیا اور دھول پر قابو پانے کے دیگر لازمی انتظامات بھی نظر انداز کئے گئے، جس کے باعث شہری علاقوں میں آلودگی کی سطح میں اضافہ ہو رہا ہے۔
واضح رہےکہ بھیونڈی شہر گزشتہ کئی برسوں سے فضائی آلودگی کے مسئلے سے نبرد آزما ہے۔ شہر کی اہم شاہراہوں پر اڑنے والی دھول، تعمیراتی ملبہ، ٹریفک کا بڑھتا دباؤ اور صنعتی سرگرمیاں شہریوں کی صحت کیلئے مسلسل خطرہ بنتی جا رہی ہیں۔
ذرائع کے مطابق یہ کارروائی صرف تعمیراتی منصوبوں تک محدود نہیں رہے گی۔ پہلے مرحلے کے بعد سائزنگ، ڈائنگ اور دیگر آلودگی پھیلانے والی صنعتی اکائیوں کے خلاف بھی خصوصی مہم چلانے کی تیاری کی جا رہی ہے۔ گزشتہ ماہ منعقدہ جائزہ اجلاس میں آلودگی کنٹرول بورڈ نے بھیونڈی اور اطراف کے علاقوں میں بڑھتی آلودگی پر سخت تشویش ظاہر کرتے ہوئے میونسپل انتظامیہ کی کارکردگی پر سوالات اٹھائے تھے۔ اسی پس منظر میں کارپوریشن نے اپنی کارروائیوں میں تیزی لائی ہے۔
کارپوریشن کے آلودگی کنٹرول محکمہ کے سربراہ سنیل بھوئر نے کہا کہ مشترکہ ٹیمیں مسلسل نگرانی کر رہی ہیں اور قواعد کی خلاف ورزی کرنے والے منصوبوں کو نوٹس جاری کئے جا رہے ہیں۔ اگر مقررہ مدت کے اندر ضروری اصلاحات نہیں کی گئیں تو متعلقہ منصوبوں کے خلاف مزید سخت اور تعزیری کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔
دوسری جانب کارپوریشن کی اس مہم پر سیاسی تنقید بھی شروع ہو گئی ہے۔ سماجوادی پارٹی کے صدر انس انصاری نے الزام لگایا کہ انتظامیہ نجی تعمیراتی منصوبوں کے خلاف تو کارروائی کر رہی ہے لیکن خود کے ترقیاتی منصوبوں سے پیدا ہونے والی آلودگی پر خاموش ہے۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ انجور پھاٹا سے کلیان ناکہ تک سڑک کی توسیع کے دوران جمع ملبہ ابھی تک نہیں ہٹایا گیا جبکہ ۱۰۰؍ایم ایل ڈی آبی منصوبہ، جاری سڑک سازی کے کام اور مختلف مقامات پر موجود گڑھوں سے اڑنے والی دھول شہریوں کیلئے مستقل اذیت بنی ہوئی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ انتظامیہ کو دوسروں پر کارروائی سے پہلے اپنے منصوبوں میں آلودگی کنٹرول کے اصولوں پر سختی سے عمل درآمد یقینی بنانا چاہیے۔اب شہریوں کی نظریں اس بات پر مرکوز ہیں کہ آیا کارپوریشن کی یہ مہم صرف نوٹس جاری کرنے تک محدود رہے گی یا واقعی شہر کی بگڑتی فضائی صورتحال میں بہتری لانے کا ذریعہ بنے گی۔