بھیونڈی نظامپور میونسپل کارپوریشن کے تحت چلنے والے نیشنل اربن ہیلتھ مشن میں خدمات انجام دینے والے ڈاکٹروں، نرسوں، لیب ٹیکنیشین اور دیگر طبی عملے کو گزشتہ چار ماہ سے تنخواہیں ادا نہیں کی گئیں، جس کے باعث۱۹۷؍ ملازمین شدید مالی بحران کا شکار ہو گئے ہیں۔
میونسپل محکمہ صحت کے ملازمین نے بقایا تنخواہوں کے حصول کیلئے احتجاج کیا- تصویر:آئی این این
بھیونڈی نظامپور میونسپل کارپوریشن کے تحت چلنے والے نیشنل اربن ہیلتھ مشن میں خدمات انجام دینے والے ڈاکٹروں، نرسوں، لیب ٹیکنیشین اور دیگر طبی عملے کو گزشتہ چار ماہ سے تنخواہیں ادا نہیں کی گئیں، جس کے باعث۱۹۷؍ ملازمین شدید مالی بحران کا شکار ہو گئے ہیں۔
بھیونڈی نظامپور میونسپل کارپوریشن کے تحت چلنے والے نیشنل اربن ہیلتھ مشن میں خدمات انجام دینے والے ڈاکٹروں، نرسوں، لیب ٹیکنیشین اور دیگر طبی عملے کو گزشتہ چار ماہ سے تنخواہیں ادا نہیں کی گئیں، جس کے باعث۱۹۷؍ ملازمین شدید مالی بحران کا شکار ہو گئے ہیں۔موصولہ اطلاعات کے مطابق اس اسکیم کے تحت بھیونڈی شہر میں ڈاکٹروں، نرسوں، لیب ٹیکنیشین اور دیگر طبی عملے جن کی مجموعی طور پر۱۹۷؍ اور۳۹۶؍ آشا ورکرس خدمات انجام دے رہے ہیں۔ ان۱۹۷؍ تمام ملازمین کے مشاہرے کے لئے ہر ماہ تقریباً ۷۰؍ لاکھ روپے کے فنڈ کی ضرورت ہوتی ہے، جو ریاستی حکومت ہر ماہ فراہم کرتی ہے۔
تنخواہوں کی عدم ادائیگی سے پریشان ملازمین نے میونسپل کارپوریشن کے صدر دفتر پہنچ کر انتظامیہ کے خلاف احتجاج کیا اور اپنے بقایا جات کی فوری ادائیگی کا مطالبہ کیا۔ احتجاج کے دوران ملازمین نے بتایا کہ وہ مسلسل اپنی ڈیوٹی انجام دے رہے ہیں، مگر گھریلو اخراجات، کرایہ، بچوں کی تعلیم اور دیگر ضروریات پوری کرنا مشکل ہو گیا ہے۔اس موقع پر ملازمین نے انتظامیہ کے سامنے اپنی شکایات بیان کیں اور کہا کہ اگر جلد از جلد ان کے مسائل حل نہیں کیے گئے تو وہ کام بند کر کے سخت احتجاج کرنے پر مجبور ہوں گے، جس سے شہری طبی خدمات بھی متاثر ہو سکتی ہیں۔ محکمہ صحت کے سربراہ ڈاکٹر سندیپ گاڈیکر نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ دسمبر ماہ سے ریاستی حکومت کی جانب سے گرانٹ موصول نہیں ہوئی ہے، جس کی وجہ سے یہ مسئلہ پیدا ہوا ہے۔ انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ جیسے ہی فنڈ دستیاب ہوگا، تمام ملازمین کی بقایا تنخواہیں ادا کر دی جائیں گی۔