Inquilab Logo Happiest Places to Work

بھیونڈی: بغیر لائسنس کھانے پینے کی دکانیں چلانے والوں کو انتباہ

Updated: June 27, 2026, 1:43 PM IST | khalid Abdul Qayyum Ansari | Bhiwandi

میونسپل کارپوریشن کی غیر قانونی ہوٹلوں،فوڈ اسٹالز اور جوس سینٹروں کےخلاف مہم،۸؍دنوں کا الٹی میٹم دیا۔

Photo: INN
تصویر: آئی این این

میونسپل کارپوریشن نے شہر بھر میں بغیر لائسنس اور غیر قانونی طور پر چلنے والے غذائی اشیاء کاروباروں کے خلاف بڑے پیمانے پر کارروائی کا اعلان کرتے ہوئے سخت انتباہ جاری کیا ہے۔ ڈپٹی میونسپل کمشنر (لائسنس) بال کرشن شیرساگر نے واضح کیا ہے کہ آئندہ ۸؍دنوں کے اندر ضروری سرکاری و میونسپل اجازت نامے پیش نہ کرنے والے ہوٹلوں، ریسٹورنٹ، فاسٹ فوڈ سینٹروں، بیکریوں، مٹھائی کی دکانوں، جوس سینٹروں اور دیگر غذائی کاروباری اداروں کے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی، جس میں جرمانہ، سیلنگ اور کاروبار کی بندش بھی شامل ہو سکتی ہے۔ 

یہ بھی پڑھئے: کام کی جگہوں پر خواتین کے تحفظ کیلئے ’پاش‘ ایکٹ کو مزید سختی سے نافذ کیا جائے گا

میونسپل انتظامیہ کے مطابق شہر میں متعدد غذائی کاروباری ادارے مطلوبہ سرکاری اور میونسپل لائسنس حاصل کئے بغیر یا ان کی تجدید کرائے بغیر کاروبار کر رہے ہیں، جو نہ صرف قانون کی خلاف ورزی ہے بلکہ عوامی صحت کیلئے بھی خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔ اسی تناظر میں مہاراشٹر میونسپل کارپوریشن ایکٹ ۱۹۴۹ء کی دفعہ ۳۸۱ (بی) کے تحت کارروائی کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

ڈپٹی میونسپل کمشنر بالکرشن شیرساگر نے تمام  کھانے پینے کی اشیاءکاروبار کرنے والوں کو ہدایت دی ہے کہ وہ ۸؍ دنوں کے اندر ایف ایس ایس اے آئی رجسٹریشن یا لائسنس، میونسپل کارپوریشن کا تجارتی لائسنس، دکان و اسٹیبلشمنٹ رجسٹریشن، محکمہ صحت کی منظوری، فائر بریگیڈ این او سی(جہاں ضروری ہو) ، جی ایس ٹی رجسٹریشن (جہاں قابل اطلاق ہو) اور دیگر لازمی دستاویزات متعلقہ وارڈ آفس میں جمع کرائیں۔

یہ بھی پڑھئے: این سی پی نے ثنا ملک کے تین طلاق سے متعلق بیان سے لاتعلقی ظاہر کی

انہوں نے خبردار کیا کہ مقررہ مدت گزرنے کے بعد بغیر اجازت کاروبار کرنے والوں کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کی جائے گی اور کسی بھی قسم کی رعایت نہیں برتی جائے گی۔ میونسپل انتظامیہ کے اس فیصلے کو شہر میں عوامی صحت کے تحفظ اور غیر قانونی غذائی کاروبار پر لگام لگانے کی ایک بڑی مہم کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔یہ سخت فیصلہ شہر میں حالیہ فوڈ پوائزننگ کے سنگین واقعے کے بعد کیا گیا ہے، جہاں پربھاگ سمیتی ایک کی حدود میں واقع ’فیمس شوارما‘سے کھانا کھانے کے بعد ۱۰۰؍سے زائد شہری غذائی سمیت کا شکار  ہوئے تھے اور انہیں مختلف اسپتالوں میں داخل کرانا پڑا تھا۔ اس واقعے نے شہر میں غذائی تحفظ اور غیر قانونی کاروبار کے حوالے سے کئی سوالات کھڑے کر دئیے ہیں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK