خواتین اور بچوں کی فلاح و بہبود کی ریاستی وزیر آدیتی تٹکرے نے متعلقہ افسران کو یہ ہدایت دی۔ منترالیہ میں خواتین و اطفال کے بہبود اور محکمہ محنت کی مشترکہ جائزہ میٹنگ میں آدیتی تٹکرے نے یہ ہدایات دیں۔
EPAPER
Updated: June 27, 2026, 11:53 AM IST | Iqbal Ansari | Mantralaya
خواتین اور بچوں کی فلاح و بہبود کی ریاستی وزیر آدیتی تٹکرے نے متعلقہ افسران کو یہ ہدایت دی۔ منترالیہ میں خواتین و اطفال کے بہبود اور محکمہ محنت کی مشترکہ جائزہ میٹنگ میں آدیتی تٹکرے نے یہ ہدایات دیں۔
’’ریاست میں سرکاری اور نجی اداروں میں خواتین کو ایک محفوظ، باوقار اور جنسی ہراسانی سے پاک کام کی جگہ فراہم کرنے کیلئے’ پاش‘ایکٹ کے نفاذ کو مزید تقویت دی جائے گی اور اس کیلئے بہبودخواتین و اطفال کے محکمے اور محکمہ محنت کو آپس میں مل کر کام کرنا چاہئے۔‘‘ خواتین اور بچوں کی فلاح و بہبود کی ریاستی وزیر آدیتی تٹکرے نے متعلقہ افسران کو یہ ہدایت دی۔ منترالیہ میں خواتین و اطفال کے بہبود اور محکمہ محنت کی مشترکہ جائزہ میٹنگ میں آدیتی تٹکرے نے یہ ہدایات دیں۔ اس میٹنگ میں دونوں محکموں کے سینئر افسران موجود تھے۔
میٹنگ میں آدیتی تٹکرے نے کہا کہ کام کی جگہ پر خواتین کی جنسی ہراسانی کو روکنے کیلئے ’ پریونشن آف سیکشوئل ہریسمینٹ( پی او ایس ایچ یعنی پاش) ایکٹ کا موثر نفاذ حکومت کی اولین ترجیح ہے۔ یہ دیکھا گیا ہے کہ کچھ نجی اداروں میں اس ایکٹ کا خاطرخواہ نفاذ نہیں ہو رہا ہے اور اس کیلئے مزید موثر اقدامات کئے جائیں گے۔
یہ بھی پڑھئے: این سی پی نے ثنا ملک کے تین طلاق سے متعلق بیان سے لاتعلقی ظاہر کی
انہوں نے محکمہ محنت، اعلیٰ اور تکنیکی تعلیم، اسکولی تعلیم، صنعت اور متعلقہ محکموں کی شراکت سے ’پاش‘ ایکٹ کے مزید موثر نفاذ کیلئے درکار اقدامات کی تفصیلی رپورٹ تیار کرنے کی بھی ہدایت دی۔
اجلاس میں اندرونی شکایات کمیٹیوں کی تشکیل اور تنظیم نو اور آڈٹ کے عمل میں پاش ایکٹ کے نفاذ کو شامل کرنے اور نجی اداروں کی رجسٹریشن اور تجدید کے عمل میں ’پاش‘ ایکٹ کے تحت ضروری شقوں کو شامل کرنے کے حوالے سے جاری کارروائیوں کا جائزہ لیا گیا۔
ضروری ہدایات دی گئیں
حکومت کی طرف سے معائنہ کاروں کے ذریعے ضلع کی سطح پر معائنے کو مزید موثر طریقے سے نافذ کیا جائے گا اور تمام متعلقہ محکموں کے ساتھ مل کر کام کرتے ہوئے خواتین ملازمین کیلئے ایک محفوظ اور باوقار کام کی جگہ کو یقینی بنانے کی ہدایات دی گئیں۔
لیبر ڈپارٹمنٹ نے میٹنگ میں بتایا کہ اندرونی شکایات کمیٹیوں کے قیام اور ضرورت کے مطابق ان کی تشکیل نو کیلئے کارروائی جاری ہے، آڈٹ کے عمل میں پاش ایکٹ کی تعمیل اور نجی اداروں کی رجسٹریشن اور تجدید کے عمل میں داخلی شکایات کمیٹی کے قیام کی شرط کو شامل کرنا ضروری ہے۔
یہ بھی پڑھئے: بارش پھر رُوٹھ گئی، پیر تک انتظار
۱۰؍ یا اس سے زیادہ ملازمین والے دفتر میں کمیٹی لازمی
میٹنگ میں یہ بھی واضح کیا گیا کہ جن اداروں میں ۱۰؍ یا اس سے زائد ملازمین کام کر رہے ہیں، وہاں ایک داخلی شکایات کمیٹی کا قیام لازمی ہے اور متعلقہ افسران ذاتی طورپر دورہ کر کے معائنہ کریں گے تاکہ اس بات کو یقینی بنایا جا سکے کہ اس شق پر موثر عمل ہو رہا ہے یا نہیں۔