حکومت سے قیمتوں کی نگرانی اور درآمدکئے گئے کپڑے پر نظرثانی کا مطالبہ۔ چین، انڈونیشیا اور تائیوان سے تیار کپڑے کی درآمد پر تشویش کا اظہار۔
EPAPER
Updated: September 23, 2026, 11:05 AM IST | Khalid Abdul Qayyum Ansari | Bhiwandi
حکومت سے قیمتوں کی نگرانی اور درآمدکئے گئے کپڑے پر نظرثانی کا مطالبہ۔ چین، انڈونیشیا اور تائیوان سے تیار کپڑے کی درآمد پر تشویش کا اظہار۔
یارن کی قیمتوں میں گزشتہ چند ماہ کے دوران مسلسل اضافے نے بھیونڈی سمیت ملک کے اہم کپڑا مراکز کی صنعت کو مشکلات سے دوچار کردیا ہے۔ کاروباریوں کے مطابق مارچ ۲۰۲۶ء سے اب تک یارن کی مختلف اقسام کی قیمتوں میں۶۰؍ سے۷۰؍ فیصد تک اضافہ ہوچکا ہے جبکہ تیار کپڑے کی قیمت میں اس کے تناسب سے اضافہ نہ ہونے کے باعث پاور لوم اور گرے کپڑا تیار کرنے والی اکائیوں پر پیداواری لاگت کا دباؤ بڑھ گیا ہے۔ گرے کپڑا کاروباری ببلو ٹھاکر نے یارن کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافے کی حکومت سے جانچ اور بازار پر موثر نگرانی کا مطالبہ کیا ہے۔
سدے ٹیکسٹائل کے مالک شہزاد انصاری کے مطابق مائیکرو یارن کی قیمت۱۰۹؍ سے بڑھ کر۱۶۰؍ روپے، فل ڈل ۱۱۸؍سے۱۷۸؍ روپے، پولیسٹر۱۵۰؍ سے۲۲۵؍ روپے، میجک ۱۵۵؍ سے ۲۳۵؍ روپے اور کاٹن یارن۲۷۰؍ سے بڑھ کر۳۵۵؍ روپے فی کلو تک پہنچ گیا ہے۔ کاروباریوں کا کہنا ہے کہ خام مال مہنگا ہونے کے باوجود تیار کپڑے کے بھاؤ میں اسی تناسب سے اضافہ نہیں ہو رہا جس سے صنعت کی آمدنی اور منافع متاثر ہورہا ہے۔
یہ بھی پڑھئے:بھیونڈی: موسلادھار بارش سے کئی سڑکیں زیر آب، ٹریفک متاثر
بڑے ایجنٹوں کے کردار کی جانچ کا مطالبہ
نواز ٹیکسٹائل کے فیروز نواز نے یارن کی تجارت میں بڑے ایجنٹوں اور سٹہ بازوں کے مبینہ کردار پر سوال اٹھاتے ہوئے بعض بڑے کاروباریوں کے کاروباری معاملات، جائیداد اور مالی لین دین کی جانچ کا مطالبہ کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر قیمتوں میں مصنوعی اضافہ کیا جارہا ہے تو اس کی تحقیقات کرکے خاطی افراد کے خلاف کارروائی ہونی چاہئے۔ تاہم ان الزامات کی آزادانہ تصدیق نہیں ہوئی ہے۔
درآمدی کپڑے سے بھی مقامی صنعت کو چیلنج
کاروباریوں نے چین، انڈونیشیا اور تائیوان سے تیار کپڑے کی درآمد پر بھی تشویش ظاہر کی ہے۔ ان کے مطابق ممبئی، سورت، احمد آباد اور دہلی کے تجارتی مراکز کے ذریعے غیر ملکی کپڑا ہندوستانی بازار تک پہنچ رہا ہے۔ ایک طرف مقامی صنعت مہنگے یارن کی وجہ سے بڑھتی لاگت سے پریشان ہے تو دوسری طرف اسے درآمد شدہ تیار کپڑے سے مقابلہ کرنا پڑ رہا ہے۔
مہاساگر گروپ کے احسان انصاری سمیت دیگر کاروباریوں نے مرکزی حکومت سے درآمدی کپڑے کی پالیسی کا جائزہ لینے اور مقامی صنعت کو نقصان پہنچانے والی درآمدات کے سلسلے میں ضروری اقدامات کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ صرف نئے ٹیکسٹائل پارکوں کے اعلانات سے موجودہ صنعت کے مسائل حل نہیں ہوں گے بلکہ یارن کی قیمت، پیداواری لاگت، بازار اور روزگار سے متعلق بنیادی مسائل پر توجہ دینا ضروری ہے۔
یہ بھی پڑھئے:کلیان پھاٹا جنکشن پر فلائی اوور کی راہ میں حائل بڑی رکاوٹ بالآخر دور
ہزاروں اکائیوں اور روزگار پر اثر پڑنے کا خدشہ
کنہیا ٹیکسٹائل کے نیرو سیٹھ کے مطابق بھیونڈی کے علاوہ سورت، اچل کرنجی، مالیگاؤں اور ایروڈ جیسے بڑے کپڑا مراکز میں ہزاروں چھوٹی بڑی اکائیاں ٹیکسٹائل صنعت سے وابستہ ہیں۔ ان میں بڑی تعداد ایسی اکائیوں کی ہے جو قرض اور ماہانہ قسطوں کے سہارے چل رہی ہیں۔ اگر یارن کی قیمتوں میں اضافہ اور بازار میں کم مانگ کا سلسلہ جاری رہا تو اس کا اثر یارن ملوں سے لے کر ٹرانسپورٹ، گودام، مزدور، ڈائنگ، پروسیس ہاؤس اور پاور لوم تک پوری صنعتی زنجیر پر پڑ سکتا ہے۔
یارن کی قیمتوں کیلئے شفاف نظام کی مانگ
ماں شیتلا ٹرانسپورٹ کے مہندر وِند سمیت اس صنعت سے وابستہ دیگر افراد نے حکومت سے یارن کی مختلف اقسام کے روزانہ بازار بھاؤ کی شفاف معلومات فراہم کرنے اور قیمتوں میں غیر معمولی اتار چڑھاؤ پر نگرانی کا مطالبہ کیا ہے۔ کاروباریوں کا کہنا ہے کہ اگر کسی سطح پر مصنوعی طور پر قیمت بڑھانے یا ناجائز منافع خوری کے ثبوت ملتے ہیں تو تحقیقات کے بعدخاطیوں کے خلاف کارروائی کی جائے۔
پاورلوم صنعت کو فوری حکومتی امداد کی ضرورت
معروف قانون داں ایڈوکیٹ یاسین مومن نے کہا کہ پاورلوم صنعت اس وقت شدید بحران کا شکار ہے۔ کساد بازاری، یارن کی بڑھتی قیمتوں اور کپڑے کی کم مانگ نے پاورلوم مالکان اور بنکروں کی مشکلات بڑھا دی ہیں۔ کئی یونٹس محدود پیمانے پر چل رہے ہیں جبکہ بعض مالکان مشینیں بند رکھنے پر مجبور ہیں۔ حکومت کو فوری مداخلت کرتے ہوئے صنعت کو بحران سے نکالنے اور اس سے وابستہ لاکھوں افراد کا روزگار بچانے کیلئے موثر اقدامات کرنے چاہئیں۔