Inquilab Logo Happiest Places to Work

ٹرمپ انتظامیہ کو بڑا جھٹکا، امریکی اے آئی سیفٹی ادارے کے سربراہ مستعفی

Updated: July 21, 2026, 9:04 PM IST | Washington

امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کو مصنوعی ذہانت کے شعبے میں ایک اہم دھچکا اس وقت لگا جب امریکی سینٹر فار اے آئی اسٹینڈرڈز اینڈ انوویشن (CAISI) کے سربراہ کرس فال نے صرف تین ماہ بعد اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا۔ امریکی محکمہ تجارت نے ان کے استعفے کی تصدیق کرتے ہوئے اعلان کیا کہ ہندوستانی نژاد سائنس دان اور نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف اسٹینڈرڈز اینڈ ٹیکنالوجی (NIST) کے ڈائریکٹر ڈاکٹر اروِند رمن کو قائم مقام سربراہ مقرر کیا گیا ہے۔

Chris Fall. Photo: INN
کرس فال۔تصویر: آئی این این

امریکہ میں مصنوعی ذہانت کی نگرانی اور حفاظتی معیارات طے کرنے والے اہم ادارے سینٹر فار اے آئی اسٹینڈرڈز اینڈ انوویشن (CAISI) کو قیادت کے بحران کا سامنا ہے۔ ادارے کے ڈائریکٹر کرس فال نے تقرری کے صرف تین ماہ بعد اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا ہے۔ امریکی محکمہ تجارت نے ان کے استعفے کی تصدیق کی، تاہم ان کے اچانک عہدہ چھوڑنے کی کوئی وجہ بیان نہیں کی گئی۔ محکمہ تجارت کے مطابق ڈاکٹر اروِند رمن فوری طور پر قائم مقام ڈائریکٹر کی ذمہ داریاں سنبھالیں گے۔ وہ اس وقت نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف اسٹینڈرڈز اینڈ ٹیکنالوجی (NIST) کے ڈائریکٹر ہیں اور اس سے قبل امریکہ کی معروف پرڈیو یونیورسٹی کے کالج آف انجینئرنگ کے ڈین بھی رہ چکے ہیں۔ ہندوستانی نژاد اروِند رمن کئی برسوں سے مصنوعی ذہانت، کمپیوٹر انجینئرنگ اور جدید ٹیکنالوجی کی تحقیق سے وابستہ رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھئے: برطانیہ: کیئر اسٹارمر مستعفی، اینڈی برنہم برطانیہ کے نئے وزیرِ اعظم مقرر

CAISI، جسے پہلے امریکی اے آئی سیفٹی انسٹی ٹیوٹ کے نام سے جانا جاتا تھا، وفاقی حکومت کا وہ ادارہ ہے جو OpenAI، Google DeepMind، Anthropic، Microsoft اور xAI جیسی بڑی کمپنیوں کے جدید AI ماڈلز کی جانچ، حفاظتی معیار اور ممکنہ خطرات کا جائزہ لیتا ہے۔ ادارے کے سائنس دان اس بات پر تحقیق کرتے ہیں کہ مصنوعی ذہانت کو کیمیائی یا حیاتیاتی ہتھیاروں کی تیاری، سائبر حملوں یا دیگر نقصان دہ مقاصد کے لیے استعمال ہونے سے کیسے روکا جائے۔ کرس فال کا استعفیٰ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ٹرمپ انتظامیہ کی مصنوعی ذہانت سے متعلق پالیسی مسلسل تبدیل ہوتی رہی ہے۔ ابتدا میں انتظامیہ نے ٹیکنالوجی کے شعبے میں کم سے کم حکومتی مداخلت کی حمایت کی تھی، تاہم بعد میں قومی سلامتی اور عالمی مسابقت کے پیش نظر AI کی نگرانی میں حکومت کا کردار بڑھایا گیا۔ ماہرین کے مطابق قیادت میں یہ اچانک تبدیلی امریکی AI پالیسی کے مستقبل پر نئے سوالات کھڑے کر سکتی ہے۔

یہ بھی پڑھئے: فیفا ورلڈکپ ۲۰۲۶ء: دنیا بھر میں اسپین کی فتح کا جشن، خوشی کے موقع پر فلسطین کو بھی یاد رکھا گیا

ادھر محکمہ تجارت نے واضح کیا ہے کہ قائم مقام سربراہ کی حیثیت سے ڈاکٹر اروِند رمن ادارے کی روزمرہ ذمہ داریاں نبھائیں گے، جبکہ مستقل ڈائریکٹر کی تلاش جاری ہے۔ ٹیکنالوجی حلقوں کی نظر اب اس بات پر ہے کہ آیا نئی قیادت امریکہ کی AI حفاظتی حکمت عملی میں تسلسل برقرار رکھ پاتی ہے یا آنے والے مہینوں میں مزید تبدیلیاں دیکھنے کو ملیں گی۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK