• Sun, 04 October, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

بہار: ڈاکٹر اعجازعلی تین دہائیوں سے ۱۰؍ روپئے فیس لینے والا مسیحا

Updated: October 04, 2026, 3:01 PM IST | Patna

بہار کے پٹنہ شہر کے ڈاکٹر اعجاز علی۳۰؍ سال سے صرف۱۰؍ روپے فیس لیتے ہیں،نہ صرف ان کی فیس کم ہے بلکہ ان کے اسپتال میں سرجری کی قیمتیں بھی دیگر جگہوں کے مقابلے میں بہت کم ہیں۔ کئی معاملات میں یہ فیس بھی معاف کر دی جاتی ہے یا مریضوں کو قسطوں میں ادائیگی کا اختیار دیا جاتا ہے۔

Dr. Aijaz Ali, known as the messiah of the poor. Photo: X
غریبوں کے مسیحا کے نام سے مشہور ڈاکٹر اعجاز علی۔ تصویر: ایکس

ڈاکٹروں کو اکثر زمین پر خدا سمجھا جاتا ہے اور آج کی کارپوریٹ دنیا میں بھی پٹنہ میں ایک ایسے ہی ڈاکٹر ہیں جو اس یقین کی سچی مثال ہیں۔ غریبوں کے مسیحا کے نام سے مشہور ڈاکٹر اعجاز علی صرف۱۰؍ روپے فیس لیتے ہیں، ایسے وقت میں جب زیادہ تر ڈاکٹر۸۰۰؍ سے ۱۲۰۰؍ روپے تک فیس لیتے ہیں۔ ڈاکٹر اعجاز علی کی بے لوث خدمت ،منافع پر چلنے والے نظام کے بالکل برعکس ہے۔نہ صرف ان کی فیس کم ہے بلکہ ان کے اسپتال میں سرجری کی قیمتیں بھی دیگر جگہوں کے مقابلے میں بہت کم ہیں۔ کئی معاملات میں یہ فیس بھی معاف کر دی جاتی ہے یا مریضوں کو قسطوں میں ادائیگی کا اختیار دیا جاتا ہے۔ مثال کے طور پر اپینڈکس کا آپریشن، جس میں آپریشن کے بعد کی دوائیں بھی شامل ہیں، تقریباً۱۷۰۰۰؍ روپے میں ہوتا ہے، جبکہ پتھری کا آپریشن صرف۱۱۰۰۰؍ روپے میں دواؤں سمیت کیا جاتا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: ڈاکٹر مصباح کی شاندار کامیابی، مالیگاؤں کی پہلی مسلم خاتون پیڈوڈونٹسٹ کا اعزاز

معروف جنرل سرجن ڈاکٹر علی نے۱۹۸۴؍ میں پٹنہ کے بکھنا پہاڑی علاقے میں پریکٹس شروع کی تھی۔ تین دہائیوں سے زیادہ عرصے سے ان کی فیس۱۰؍ روپے پر قائم ہے۔ ہر روز انہیں سادہ کرتا پاجامہ اور ٹوپی پہنے آشیانہ-دیگھا روڈ پر اپنے اسپتال کے کھلے صحن میں پلاسٹک کی کرسی پر بیٹھے دیکھا جا سکتا ہے، جہاں سینکڑوں مریض اپنی باری کا انتظار کرتے ہیں۔ ایسا ہی منظر بکھنا پہاڑی کے اسپتال میں بھی ہوتا ہے، جہاں پورے بہار سے لوگ علاج کے لیے آتے ہیں۔ اوسطاً وہ روزانہ۱۰۰؍ سے زیادہ مریضوں کو دیکھتے ہیں اور سات سے آٹھ سرجری کرتے ہیں۔جب ان سے پوچھا گیا کہ انہوں نے فیس اتنی کم کیوں رکھی ہے تو ڈاکٹر علی نے کہا، ’’میں نے اپنے ارد گرد غربت دیکھی اور میری والدہ کی بھی کچھ ہدایات تھیں۔‘‘انہوں نے کہا کہ علامتی فیس کے علاوہ وہ اس بات کو یقینی بناتے ہیں کہ تمام مریضوں کو اسی دن دیکھا جائے، تاکہ انہیں رہائش، کھانے اور سفر پر اضافی پیسہ خرچ نہ کرنا پڑے۔ انہوں نے مزید کہا،’’ مجھے سماج کی ایسی خدمت سے اطمینان ملتا ہے۔‘‘

یہ بھی پڑھئے: دہلی فسادات: عمر خالد اور شرجیل امام کی ضمانت کی درخواستیں پھر مسترد

ڈاکٹر علی کی مرحوم اہلیہ جو خود بھی ڈاکٹر تھیں، اسی فلسفے پر عمل کرتی تھیں اور صرف 10 روپے فیس لیتی تھیں۔ اب ان کے تینوں بچے جو خود ڈاکٹر ہیں، ان کی وراثت کو جاری رکھے ہوئے ہیں۔ ان کا بیٹا جس نے امریکہ کے ایک باوقار ادارے سے میڈیکل کی ڈگری حاصل کی ہے، ۱۰۰؍ روپے فیس لیتا ہے، جبکہ ان کی ایک بیٹی جو گائناکالوجسٹ ہے،۵۰؍ روپے فیس لیتی ہے۔جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا ان کے پاس دوسرے ڈاکٹروں کے لیے کوئی مشورہ ہے تو انہوں نے کہا، ’’علاج سے پہلے مریض کی جیب کے بارے میں سوچیں۔ غیر ضروری ٹیسٹوں اور مہنگی دواؤں سے بچیں۔ لالچ سے باہر نکلنے کی ضرورت ہے۔‘‘ان کی بیٹی ڈاکٹر ثریا انجم نے بتایا کہ انہوں نے اپنے والد سے بہت کچھ سیکھا ہے۔ ان کی دوسری بیٹی ڈاکٹر نغمہ انجم نے کہا، ’’ہم ڈانٹ کھاتے ہیں، چاہے مریض غلط ہی کیوں نہ ہو، لیکن مریض ان کی ترجیح ہیں۔ ہم نے انہیں ایک کھجور سے روزہ رکھ کر گھنٹوں آپریشن کرتے دیکھا ہے۔‘‘
طب کے علاوہ ڈاکٹر علی سماجی کاموں میں بھی مصروف رہتے ہیں۔ وہ پسماندہ طبقات بالخصوص دلت  اور مسلمانوں کی فلاح کے لیے کام کرتے ہیں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK