Inquilab Logo Happiest Places to Work

بہار احتجاج: طلبہ پر AK-47 سے فائرنگ کرنے والا پولیس اہلکار معطل

Updated: July 27, 2026, 5:06 PM IST | Patna

بہار کے ضلع سیوان میں طلبہ کے احتجاج کے دوران ایک پولیس اہلکار کی AK-47 سے فائرنگ کی ویڈیو وائرل ہونے کے بعد محکمہ پولیس نے فوری کارروائی کرتے ہوئے اسے معطل کر دیا ہے۔ حکام کے مطابق واقعے کی محکمانہ تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ اسلحہ کس صورتحال میں استعمال کیا گیا اور قواعد کی خلاف ورزی ہوئی یا نہیں۔

Photo: X
تصویر: ایکس

بہار کے ضلع سیوان میں طلبہ کے احتجاج کے دوران ایک پولیس اہلکار کی AK-47 رائفل سے فائرنگ کی ویڈیو سامنے آنے کے بعد ریاستی حکومت اور پولیس انتظامیہ نے فوری کارروائی کرتے ہوئے متعلقہ اہلکار کو معطل کر دیا ہے۔ ویڈیو سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہونے کے بعد اس واقعے نے پولیس کے طاقت کے استعمال اور احتجاج سے نمٹنے کے طریقہ کار پر نئے سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔  یہ واقعہ ۲۵؍ جولائی کو منعقد ہونے والے ’’بہار بند‘‘ کے دوران پیش آیا، جب مبینہ NEET پرچہ لیک کے خلاف طلبہ اور مختلف تنظیمیں احتجاج کر رہی تھیں۔ سیوان سمیت ریاست کے متعدد اضلاع میں مظاہرین اور پولیس کے درمیان جھڑپوں کی اطلاعات سامنے آئیں۔ وائرل ویڈیو میں ایک پولیس اہلکار کو احتجاج کے دوران AK-47 سے فائر کرتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ ویڈیو کی تصدیق کے بعد فوری محکمانہ کارروائی کی گئی۔ 

بہار پولیس کے مطابق ابتدائی جانچ میں معلوم ہوا کہ متعلقہ اہلکار ایک انٹیلی جنس یونٹ سے وابستہ تھا۔ اعلیٰ حکام نے اسلحے کے استعمال کو غیر ضروری اور ناقابلِ قبول قرار دیتے ہوئے فوری معطلی کے احکامات جاری کیے اور مکمل تحقیقات کا حکم دیا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ یہ جانچا جا رہا ہے کہ فائرنگ کس مقصد سے کی گئی، آیا قواعد پر عمل ہوا یا نہیں، اور آیا مزید محکمانہ یا قانونی کارروائی کی ضرورت ہے۔ رپورٹس کے مطابق احتجاج کے دوران پولیس فائرنگ میں تین افراد گولی لگنے سے زخمی ہوئے، جنہیں علاج کے لیے اسپتال منتقل کیا گیا۔ حکام کے مطابق زخمیوں کی حالت خطرے سے باہر بتائی جا رہی ہے، تاہم یہ واضح نہیں کیا گیا کہ ویڈیو میں نظر آنے والی فائرنگ اور زخمی ہونے کے واقعات براہِ راست ایک ہی لمحے سے متعلق ہیں یا نہیں۔ 

یہ بھی پڑھئے: بی جے پی حکومتیں فوری طور پر گرفتار مظاہرین کو رہا کریں: سی جے پی کا مطالبہ

واقعے کے بعد سیاسی ردعمل بھی سامنے آیا ہے۔ اپوزیشن جماعتوں نے اس واقعے کو احتجاج کرنے والے طلبہ کے خلاف طاقت کے غیر متناسب استعمال کی مثال قرار دیتے ہوئے ذمہ دار افسران کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔ دوسری جانب ایک عوامی مفاد کی درخواست (PIL) بھی سپریم کورٹ میں دائر کی گئی ہے، جس میں اس واقعے کی آزادانہ تحقیقات اور ایف آئی آر درج کرنے کی استدعا کی گئی ہے۔ یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب NEET کے مبینہ پرچہ لیک اور امتحانی نظام میں اصلاحات کے مطالبے پر ملک کے مختلف حصوں میں احتجاج جاری ہیں۔ بہار میں پیش آنے والے اس واقعے نے احتجاجی مظاہروں کے دوران پولیس کے اسلحے کے استعمال، طاقت کے تناسب اور شہریوں کے پرامن احتجاج کے حق سے متعلق بحث کو مزید تیز کر دیا ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK