Updated: February 27, 2026, 7:31 PM IST
| Srinagar
نائب صدر سی پی رادھا کرشنن نے کشمیر یونیورسٹی کے کانووکیشن میں نان ویجیٹیرین کھانے کے حق کا مضبوط دفاع کیا۔ ان کے تبصرے ایسے وقت میں آئے جب ملک میں کھانے کی آزادی پر بحث شدت اختیار کیے ہوئے ہے اور مختلف ریاستوں میں پابندیوں اور تنازعات کے واقعات سامنے آ رہے ہیں۔
نائب صدر سی پی رادھا کرشنن ۔ تصویر: پی ٹی آئی
نائب صدر جمہوریہ سی پی رادھا کرشنن نے جمعرات کو کشمیر یونیورسٹی کے ۲۱؍ ویں کانووکیشن سے خطاب کرتے ہوئے خوراک کی آزادی کا دفاع کیا۔ انہوں نے جھارکھنڈ کے گورنر کے طور پر اپنے دور کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ ایک بھارت شریشٹھ بھارت پروگرام کے تحت جب کشمیری طلبہ رانچی گئے تو انہوں نے راج بھون میں خصوصی ہدایت دی کہ انہیں ان کی پسند کے مطابق نان ویجیٹیرین کھانا پیش کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ ’’ہم ڈیموکریٹس ہیں۔ ہمیں نان ویجیٹیرین کھانے والوں کے جذبات کو قبول کرنا ہوگا۔ ہمیں اپنے جذبات پر فخر ہو سکتا ہے، لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ ہم دوسروں کے جذبات کو ٹھیس پہنچائیں۔‘‘ رادھا کرشنن سبزی خور ہیں، مگر ان کا کہنا تھا کہ ذاتی پسند کو دوسروں پر مسلط نہیں کیا جانا چاہیے۔
یہ بھی پڑھئے: دہلی شراب پالیسی کیس میں اروند کیجریوال اورمنیش سسودیا سمیت تمام ملزمان بری
ہندوتوا حلقوں میں ممکنہ بے چینی
آر ایس ایس پس منظر رکھنے والے نائب صدر کے یہ بیانات ایسے وقت میں آئے ہیں جب ملک کے بعض حصوں میں گوشت خوری کے خلاف سخت مؤقف اختیار کیا جا رہا ہے۔ ان کے ریمارکس کو ان حلقوں کے لیے واضح پیغام سمجھا جا رہا ہے جو نان ویجیٹیرین خوراک پر پابندی کے حامی رہے ہیں۔ حالیہ تنازع اس وقت شدت اختیار کر گیا تھا جب فلم ’’دی کیرالا اسٹوری ۲‘‘ کے ٹریلر میں ایک ہندو لڑکی کو زبردستی بیف کھلاتے دکھایا گیا۔ اس کے بعد کیرالا کے وزیر وی سیوان کٹی کے سوشل میڈیا بیان نے مزید بحث چھیڑ دی، جس میں انہوں نے بیف سمیت دیگر گوشت کے استعمال کا دفاع کیا۔
تہوار، پابندیاں اور بڑھتی کشیدگی
ملک کے مختلف حصوں میں تہواروں کے دوران گوشت کی فروخت پر عارضی پابندیوں کے واقعات بڑھ رہے ہیں۔ گزشتہ ماہ جموں کے ایک علاقے میں دائیں بازو کے ایک گروپ کی جانب سے گوشت فروشوں پر دباؤ ڈالنے کی کوشش نے مقامی کشیدگی کو جنم دیا۔
یہ بھی پڑھئے: پنجاب: سحری و افطار کی سہولت کا مطالبہ کرنے والے کشمیری طلبہ کے ساتھ بدسلوکی، وائس چانسلر مستعفیٰ
کشمیر کی ثقافتی حقیقت
کشمیر میں مسلمان، پنڈت اور سکھ برادریاں روایتی طور پر گوشت کے پکوانوں سے وابستہ رہی ہیں۔ خطہ اپنی مشہور ضیافت وازوان کے لیے جانا جاتا ہے، جو کثیر کورس گوشت پر مبنی دسترخوان ہوتا ہے۔ ماضی میں سبزی خور طرزِ زندگی کو فروغ دینے کی کوششیں غذائی عادات میں نمایاں تبدیلی نہیں لا سکیں۔ ۲۰۲۱ء میں فلمساز وویک اگنی ہوتری کو ’’سبزی خور وازوان‘‘ کی اصطلاح استعمال کرنے پر شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑا تھا، جسے بہت سے کشمیریوں نے ثقافتی مداخلت قرار دیا۔