• Sat, 19 September, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

خاندانی معاشی حالات کے پیشِ نظر بلقیس بانو کیس کے مجرم کی۷؍ دنوں کی پیرول منظور

Updated: September 19, 2026, 7:07 PM IST | Gandhinagar

گجرات ہائی کورٹ نے ۲۰۰۲ء کے بلقیس بانو کیس کے ۱۱؍ مجرموں میں سے ایک، رادھے شیام شاہ کے خاندان کی خراب مالی حالات کے سبب ۷؍ دنوں کی پیرول منظور کر دی ہے۔ یہ وہی مجرم ہے جس کی سپریم کورٹ میں دائر کردہ درخواست ۲۰۲۲ء میں تمام مجرموں کی قبل از وقت رہائی کی قانونی بنیاد بنی تھی، جسے بعد میں سپریم کورٹ نے منسوخ کر دیا تھا۔

Gujarat High Court. Photo: INN
گجرات ہائی کورٹ۔ تصویر: آئی این این

گجرات ہائی کورٹ نے ۲۰۰۲ء کے بلقیس بانو کیس کے ۱۱؍ مجرموں میں سے ایک، رادھے شیام شاہ کے خاندان کی خراب مالی حالات کے سبب ۷؍ دنوں کی پیرول منظور کر دی ہے۔ یہ وہی مجرم ہے جس کی سپریم کورٹ میں دائر کردہ درخواست ۲۰۲۲ء میں تمام مجرموں کی قبل از وقت رہائی کی قانونی بنیاد بنی تھی، جسے بعد میں سپریم کورٹ نے منسوخ کر دیا تھا۔جسٹس سنجیو جے ٹھاکر نے اپنے حکم میں کہا کہ عدالت نے شاہ کی درخواست میں بتائی گئی وجوہات کے ساتھ جیل کے ریمارکس کا جائزہ لینے کے بعد انہیں یہ راحت دینے کا فیصلہ کیاگیا ہے۔ عدالت نے واضح کیا کہ درخواست میں پیش کئے گئے دلائل اور جیل کے ریکارڈ پر غور کرنے کے بعد عدالت اپنے اختیارات کا استعمال کرتے ہوئے درخواست گزار کے حق میں فیصلہ دے رہی ہے۔

یہ بھی پڑھئے: جنسی زیادتی معاملہ: متاثرہ کے اہل خانہ سےوی بی اے وفد کی ملاقات

عدالت نے شاہ کو ان کی واقعی رہائی کی تاریخ سے ۷؍ دنوں کیلئے رہا کرنے کا حکم دیا ہے، جس کیلئے انہیں ۱۰؍ ہزار روپے کا ذاتی بانڈ جمع کرنا ہوگا۔ تاہم اس پیرول کیلئے کچھ شرائط بھی عائد کی گئی ہیں، جن کے تحت پیرول کی مدت ختم ہوتے ہی انہیں فوری طور پر جیل حکام کے سامنے سرینڈر کرنا ہوگا اور رہائی کے تیسرے اور پانچویں دن قریبی پولیس اسٹیشن میں اپنی حاضری درج کروانی ہوگی۔ جمعرات کو سماعت کے دوران شاہ کے وکیل کےڈی پرمار نے عدالت کو بتایا کہ وہ خاندان کی مالی حالت بہتر بنانے اور مالی مدد کرنے کی بنیاد پر پیرول کے طلبگار ہیں۔ وکیل نے عدالت کو یہ بھی بتایا کہ انہیں آخری بار دسمبر ۲۰۲۵ء میں پیرول دی گئی تھی۔
واضح رہے کہ شاہ ۲۰۰۲ء کے گجرات فسادات کے دوران بلقیس بانو کی اجتماعی عصمت دری اور ان کے خاندان کے سات افراد کے قتل کے جرم میں عمر قید کی سزا کاٹ رہاہے۔ وہ ان ۱۱؍ مجرموں میں شامل تھا جنہیں اگست ۲۰۲۲ء میں رہا کیا گیا تھا، لیکن جنوری ۲۰۲۴ء میں سپریم کورٹ نے گجرات حکومت کے اس فیصلے کو کالعدم قرار دیتے ہوئے تمام مجرموں کو دوبارہ جیل بھیجنے کا حکم دیا تھا۔ یاد رہے کہ قبل از وقت رہائی کی قانونی جنگ میں شاہ کا کردار دیگر مجرموں سے الگ تھا۔ وہی ۱۱؍ مجرموں میں سے واحد شخص تھا جس نے یہ طے کرنے کیلئے سپریم کورٹ سے رجوع کیا تھا کہ قبل از وقت رہائی کی درخواست پر غور کرنے کا اختیار کس حکومت کے پاس ہے اور کون سی پالیسی نافذ ہوگی۔ مئی ۲۰۲۲ء میں سپریم کورٹ نے قرار دیا تھا کہ گجرات حکومت ہی ان کی درخواست پر غور کرنے کی مجاز ہے اور اسے ۹؍ جولائی ۱۹۹۲ء کی اس پالیسی کے تحت جائزہ لینے کی ہدایت دی تھی جو ان کی سزا کے وقت نافذ تھی۔اس کے بعد گجرات حکومت نے ۱۵؍ اگست ۲۰۲۲ء کو تمام ۱۱؍ مجرموں کو رہا کر دیا اور وہ گودھرا جیل سے باہر آ گئے۔ بعد ازاں بلقیس بانو نے اس فیصلے کو سپریم کورٹ میں چیلنج کیا، جس پر ۸؍ جنوری ۲۰۲۴ء کو سپریم کورٹ نے گجرات حکومت کے فیصلے کو منسوخ کرتے ہوئے کہا کہ گجرات حکومت کے پاس ایسا حکم جاری کرنے کا اختیار نہیں تھا اور اس نے مہاراشٹر حکومت کے اختیارات پر تجاوز کیا تھا۔ اس کے بعد تمام ۱۱؍ مجرموں کو مقررہ مدت کے اندر گودھرا جیل میں دوبارہ سرینڈر کرنا پڑا۔ 

یہ بھی پڑھئے: نٹھاری کیس کے ملزم سریندر کولی کی لاش پھندے سے لٹکی ہوئی ملی

ذہن نشین رہے کہ اس پورے قانونی عمل سے پہلے بھی شاہ کا قانونی پس منظر اہم رہا تھا۔ وہ لاء کالج گودھرا سے قانون کا گریجویٹ ہے،اور ۲۰۰۴ء میں اپنی گرفتاری سے قبل لمکھیڑا مجسٹریل کورٹ اور گودھرا ڈسٹرکٹ کورٹ میں بطور وکیل پریکٹس کر رہاتھا۔ ۲۰۰۸ء میں ممبئی کی عدالت کی جانب سے سزا سنائے جانے کے بعد، شاہ نے بمبئی ہائی کورٹ سے رجوع کر کے اپنے خاندان کے قریب رہنے کیلئے گجرات کی جیل میں منتقلی کی درخواست کی تھی۔ اس کی اس اپیل کے نتیجے میں مہاراشٹر حکومت نے ۲۰۰۹ء میں اسے گجرات کی جیل منتقل کرنے کا حکم جاری کیا تھا۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK