Updated: October 24, 2026, 2:05 PM IST
| Ramallah
مشہور امریکی سیریز ’سائن فیلڈ‘ کے اداکار جیسن الیگزینڈر نے بتایا کہ فلسطینی شہروں میں داخل ہونے سے پہلے انہیں یہودی امریکی ہونے کی وجہ سے خطرے کا اندیشہ تھا، لیکن رام اللہ میں اسرائیلی فوج کی کارروائی کے دوران فلسطینی فنکاروں نے انہیں اپنے حصار میں لے لیا۔ اداکار کے مطابق، ان کے میزبان محمد نے پہلے ہی کہا تھا کہ کسی مدعو مہمان کو نقصان پہنچنے دینا مذہبی مسلمان کے لیے سب سے بڑی بے عزتی ہے؛ فائرنگ کی آواز سن کر ۱۰؍ افراد کا انہیں گھیر لینا اس وعدے کی عملی مثال بن گیا۔
امریکی اداکار جیسن الیگزینڈر۔ تصویر: ایکس
امریکی اداکار جیسن الیگزینڈر نے فلسطین کے اپنے دورے کا ایک واقعہ بیان کرتے ہوئے بتایا ہے کہ کس طرح رام اللہ میں اسرائیلی فوج کی کارروائی کے دوران ۱۰؍ فلسطینی فنکاروں نے انہیں تحفظ فراہم کیا۔ معروف امریکی ٹیلی ویژن سیریز ’’سائن فیلڈ‘‘ میں جارج کوسٹانزا کا کردار ادا کرنے والے الیگزینڈر نے یہ واقعہ کاروباری شخصیت ڈینیئل لوبٹزکی کے پوڈکاسٹ ’’بلڈ اور بریک‘‘ میں گفتگو کے دوران سنایا۔ ان کے مطابق، وہ ابتدا میں ایک یہودی امریکی کی حیثیت سے فلسطینی شہروں میں داخل ہونے کے ممکنہ خطرات کے بارے میں فکرمند تھے، لیکن وہاں کے لوگوں کے رویے نے ان کے خدشات کو ایک مختلف تجربے میں بدل دیا۔ یہ واقعہ ۲۰۰۴ء کا ہے، جب الیگزینڈر نے اسرائیل اور فلسطینی علاقوں کا دورہ کیا تھا۔ وہ ’’ون وائس‘‘ نامی امن اقدام سے وابستہ تھے، جس کا مقصد اسرائیلیوں اور فلسطینیوں کے درمیان مکالمے اور دو ریاستی حل کے لیے عوامی حمایت پیدا کرنا تھا۔ اداکار نے بتایا کہ فلسطینی شہروں کے دورے کے سلسلے میں انہیں یہ تشویش تھی کہ ایک امریکی یہودی کی حیثیت سے وہاں جانا کتنا محفوظ ہوگا۔ انہوں نے پوڈکاسٹ میں یاد کرتے ہوئے کہا، ’’ایک امریکی یہودی کی حیثیت سے فلسطینی شہروں میں داخل ہوکر میں کتنا بڑا خطرہ مول لے رہا ہوتا؟‘‘
یہ بھی پڑھئے: فرانس: احتجاج کے پیش نظر دکانداروں نے مدافعتی ہتھیاروں کا ذخیرہ کیا: رپورٹ
الیگزینڈر کے مطابق، محمد نامی ایک فلسطینی ساتھی نے ان کے خدشات کے جواب میں مذہبی اور سماجی روایت کا حوالہ دیا۔ اس نے کہا، ’’ایک مذہبی مسلمان کے ساتھ سب سے بڑی بے عزتی یہ ہوسکتی ہے کہ وہ اپنے مدعو مہمان کو نقصان پہنچنے دے۔‘‘ محمد نے انہیں مزید یقین دلایا، ’’جیسن، اگر ضرورت پڑی تو وہ تمہارے لیے گولی بھی کھائیں گے۔‘‘ اداکار نے بتایا کہ اس وقت انہیں شاید اندازہ نہیں تھا کہ یہ بات اتنی جلد ان کے سامنے عملی صورت میں آجائے گی۔ جیسن الیگزینڈر نے اس واقعے کی تفصیل بتاتے ہوئے کہا کہ وہ رام اللہ میں ایک کھلے ریستوران میں فلسطینی اداکاروں اور فنکاروں کے ساتھ دوپہر کا کھانا کھارہے تھے۔ اسی دوران اسرائیلی فوج قریب ہی ایک بینک پر چھاپہ مار رہی تھی، جس کے بارے میں فوج کو شبہ تھا کہ اس کے دہشت گردوں سے تعلقات ہیں۔ الیگزینڈر کے بیان کے مطابق، فوجیوں نے اپنی موجودگی ظاہر کرنے کے لیے ممکنہ طور پر فضا میں فائرنگ کی، جس کی آواز قریب موجود افراد نے سنی۔
اس کے بعد جو کچھ ہوا، وہ اداکار کے ذہن میں آج تک محفوظ ہے۔ انہوں نے کہا، ’’مجھے یاد ہے کہ میز پر بیٹھے ان ۱۰؍ افراد نے مجھے گھیر لیا۔‘‘ اس لمحے انہیں محمد کی بات یاد آگئی۔ الیگزینڈر نے اپنے احساسات بیان کرتے ہوئے کہا، ’’میں نے سوچا، ’اے میرے خدا! وہ مذاق نہیں کررہا تھا۔ وہ مجھے نقصان نہیں پہنچنے دیں گے۔‘‘‘ ان کے بیان کے مطابق، فلسطینی فنکاروں نے فائرنگ کی آواز کے بعد انہیں تنہا چھوڑنے یا خود محفوظ جگہ کی طرف بھاگنے کے بجائے ان کے گرد حصار بنالیا۔ اس واقعے کی اہمیت صرف اس لیے نہیں کہ ایک معروف امریکی اداکار نے فلسطینیوں کی جانب سے اپنی حفاظت کا واقعہ سنایا، بلکہ اس لیے بھی ہے کہ وہ اپنے ساتھ موجود لوگوں کے مذہبی عقیدے اور مہمان نوازی کے تصور کو ایک عملی تجربے کے طور پر بیان کررہے ہیں۔ محمد نے ان سے پہلے ہی کہا تھا کہ مدعو مہمان کی حفاظت کرنا مذہبی مسلمان کے لیے عزت کا معاملہ ہے؛ چھاپے اور فائرنگ کی آوازوں کے دوران ساتھیوں کا انہیں گھیر لینا اسی یقین کا اظہار تھا۔
یہ بھی پڑھئے: ٹرمپ کی آئیووا میں انتخابی مہم، مشی گن کے ترقی پسند لیڈر کو ’جہادی‘ کہا
الیگزینڈر نے یہ بھی یاد کیا کہ فلسطینی علاقوں میں ان کا استقبال ان کے خدشات سے مختلف تھا۔ رام اللہ میں ایک فلسطینی خوانچہ فروش نے انہیں دیکھ کر ’’جارج، جارج کوسٹانزا‘‘ کہہ کر پہچان لیا تھا۔ یہ ان کے مشہور کردار کی مقبولیت کی ایک جھلک تھی، جس نے مقامی لوگوں کے ساتھ ان کے رابطے کو مزید غیر رسمی اور دوستانہ بنادیا۔ پوڈکاسٹ میں ڈینیئل لوبٹزکی نے بھی اس دورے کو یاد کرتے ہوئے کہا کہ اس وقت اسرائیلی اور فلسطینی دونوں حلقے مثبت اور تعمیری توجہ کے خواہش مند تھے اور الیگزینڈر کی شہرت کی وجہ سے تقریبات میں لوگوں کی بڑی تعداد شریک ہوتی تھی۔ جیسن الیگزینڈر کا یہ بیان ۲۱؍ اکتوبر ۲۰۲۶ء کو الجزیرہ کی ویڈیو رپورٹ سمیت متعدد ذرائع ابلاغ میں سامنے آیا۔ یہ یادداشت ۲۰۰۴ء کے دورے سے متعلق ہے، نہ کہ کسی حالیہ فوجی کارروائی سے۔ ان کے بیان کے مطابق، اس وقت اسرائیلی فوج ایک قریبی بینک پر کارروائی کررہی تھی اور فائرنگ کی آوازیں سنائی دی تھیں؛ اس کارروائی کی تفصیلات اور فوج کے شبہے کو اداکار نے اپنی یادداشت کے تناظر میں بیان کیا۔ واقعے کا مرکزی پہلو ان کے لیے وہ لمحہ تھا جب ۱۰؍ فلسطینی فنکار ان کی حفاظت کے لیے ان کے گرد جمع ہوگئے اور انہیں احساس ہوا کہ ان کے میزبان نے مہمان کی حفاظت سے متعلق جو بات کہی تھی، وہ محض رسمی وعدہ نہیں تھا۔