پارٹی کے شمالی مہاراشٹر کے کو آرڈی نیٹر وجے چودھری کا آڈیو کلپ وائرل ہونے کے بعد انہیں استعفیٰ دینا پڑا۔
EPAPER
Updated: July 31, 2026, 10:55 AM IST | Nandurbar
پارٹی کے شمالی مہاراشٹر کے کو آرڈی نیٹر وجے چودھری کا آڈیو کلپ وائرل ہونے کے بعد انہیں استعفیٰ دینا پڑا۔
مہاراشٹر بی جے پی کے اندر ان دنوں باہمی چپقلش جاری ہے۔ حتیٰ کہ ایک دوسرے کے تعلق سے گالی گلوج بھی ہو رہی ہے۔شمال مہاراشٹر بی جے پی کے کو آرڈی نیٹر وجےچودھری کے ۲؍ الگ الگ آڈیو کلپ وائرل ہونے کے بعد ریاست بھر میں کھلبلی مچ گئی۔ ایک میں بی جے پی کی سابق رکن پارلیمان حنا گاوت کو گالیاں دے رہے ہیں تو دوسرے کلپ میں مہاراشٹر سے تعلق رکھنے والی مرکزی وزیر رکھشا کھڑسے کے تعلق سے نازیبا الفاظ استعمال کر رہے ہیں۔ اہم بات یہ ہے کہ ان میں سے ایک کلپ میں وہ وزیر گریش مہاجن سے گفتگو کر رہے ہیں اور ان کے سامنے گالیاں دے رہے ہیں۔ آڈیو وائرل ہونے کے بعد انہوں نے اپنے عہدے سے استعفیٰ دیدیا ہے۔
وجے چودھری کا پہلا کلپ جو وائرل ہوا ہے اس میں وہ سینئر وزیر گریش مہاجن سے فون پر گفتگو کر رہے ہیں۔ان کا کہنا ہے کہ رکھشا کھڑسے نے پارٹی کے خلاف کام کیا ہے۔ ان کے والد ( ایکناتھ کھڑسے) آپ کے خلاف بے بنیادباتیں کرتے رہتے ہیں۔ ایسے لوگوں کو پارٹی میں کیوں رکھا گیا ہے؟ رکھشا کھڑسے کو مرکز میں وزارت دی گئی ہے۔ انہیں پارٹی سے نکالاجانا چاہئے۔ آپ کچھ کیجئے ۔ حیرانی کی بات یہ ہے کہ گریش مہاجن گالی دینے پر وجے چودھری کو ٹوکنے کے بجائے ان کی ہاں میں ہاں ملا رہے ہیں اور یہ بھی کہہ رہے ہیں ’’ ہاں، میں کچھ کرتا ہوں۔‘‘
یہ بھی پڑھئے: پیلٹ گن سے زخمی ہونے والے طلبہ کا علاج کرانے کا حکم
یاد رہے کہ رکھشا کھڑسے اور گریش مہاجن دونوں کا تعلق جلگائوں سے اور کھڑسے خاندان کو گریش مہاجن ایک آنکھ نہیں بھاتے۔ دوسرے کلپ میں وجے چودھری نندور بار کے کارپوریٹر سندیپ چودھری سے بات کر رہے ہیں ۔ ان کا کہنا ہے کہ اس ( حنا گاوت) کو میں نے دیویندر بھائو ( دیویندر فرنویس) سے بات کرکے وزیر بنوایا۔ اس کے بعد بھی میرے ساتھ اس کا رویہ وہی ہے۔ مجھے گھنٹوں بٹھا کر رکھا میرا فنڈ منظور نہیں کیا۔ ہم لوگ مل بیٹھتے ہیں اور اعلیٰ کمان سے بات کرتے ہیں۔ ان لوگوں کو پارٹی سے نکال باہر کرنا ضروری ہے۔‘‘ وجے چودھری نے جمعرات کو یہ کہہ کر اپنے عہدے سے استعفیٰ دیدیاکہ مجھے بدنام کرنے کیلئے میرے جھوٹے آڈیو کلپ وائرل کروائے جا رہے ہیں۔ میں چاہتا ہوں کہ ان آڈیو کلپ کی جانچ ہو۔ اگر میں اپنے عہدے پر رہا تو جانچ متاثر ہوگی اسلئے میں اپنے عہدے سے استعفیٰ دیتا ہوں۔ گریش مہاجن یا کسی اور بڑے لیڈر کا اب تک اس پر ردعمل سامنے نہیں آیا ہے۔