گاڑیاں متبادل راستوں پر منتقل کرنے سے مسافروں کو رکشا کا زیادہ کرایہ ادا کرنا پڑا۔ ۴۰۰؍ ٹن وزنی کرین کو ۲؍ چھوٹی کرینوں کی مدد سے ہٹایا گیا۔
حادثے کا شکارہونے والی بڑی کرین کو ہٹانے کی کوشش کی جارہی ہے۔ تصویر،انقلاب:ستیج شندے
میٹرو کے زیر تعمیر پروجیکٹ کے دوران حادثات کا سلسلہ جاری ہے ۔منگل اور بدھ کی درمیانی شب باندرہ کرلا کمپلیکس (بی کے سی) میں میٹرو ۲؍ بی کے تعمیراتی کام کے دوران ایک ۴۰۰؍ ٹن وزنی کرین پلٹ گئی۔ اگرچہ اس حادثہ میں کوئی زخمی نہیں ہوا لیکن اس کی وجہ سے دوسرے روز شام تک اس علاقے میں ٹریفک نظام درہم برہم رہا جس کا اثر اطراف کے دور دراز علاقوں تک دیکھنے کو ملا۔
یہ حادثہ منگل اور بدھ کی درمیانی شب تقریباً ۳؍ بجے اس وقت پیش آیا تھا جب ٹھیکیدار جے کمار انفرا پروجیکٹس لمیٹڈ کمپنی کی جانب سے اندھیری کے ڈی این نگر سے منڈالے کے درمیان میٹرو لائن ۲؍ بی چلانے کیلئے رات کو تعمیراتی کام کیا جارہا تھا۔ جس جگہ حادثہ پیش آیا وہاں ’آئی ایل اینڈ ایف سی‘ اسٹیشن کی تعمیر جاری تھی۔
یہاں پہلے سے تیار شدہ ایک وزنی بیم کو نصب کیا جارہا تھا تبھی اس بیم کو اٹھانے والی ۴۰۰؍ ٹن وزنی موبائیل کرین پلٹ گئی۔ یہ حادثہ بی کے سی میں ایشین ہارٹ اسپتال کے قریب پیش آیا تھا جس کی وجہ سے یہاں جنکشن سے کرلا کی طرف آخری کنارے تک بی کے سی میں گاڑیوں کی آمدورفت بند کردی گئی تھی۔ اہم راستہ بند ہوجانے اور گاڑیوں کو دیگر راستوںپر منتقل کرنے کی وجہ سے ٹریفک نظام درہم برہم ہوگیا۔
گاڑیوں کو متبادل راستوںپر بھیجنے کی وجہ سے عوام کو سفر کیلئے زیادہ رقم خرچ کرنی پڑی۔ کرلا میں ٹیکسی مینس کالونی سے باندرہ کے بھارت نگر کے درمیان آمدورفت کیلئے شیئرنگ رکشا کا ایک طرف کا کرایہ ۱۰؍ روپے ہوتا ہے لیکن بدھ کو رکشا ڈرائیور اس سفر کیلئے ۲۰؍ روپے لے رہے تھے۔ عام طور پر ان دونوں مقامات کے درمیان سفر کیلئے بی کے سی روڈ سے گزرنا ہوتا ہے لیکن حادثہ کے بعد گاڑیوںکو گھوم کر امریکن قونصل خانہ کے پاس سے گزرنا پڑرہا تھا۔
صبح دفتری اوقات میں ٹریفک کے حالات بہت زیادہ خراب ہوگئے تھے کیونکہ بسیں بھی ٹریفک میں پھنس رہی تھیں جس کی وجہ سے تمام مسافروں کو اپنی منزلوں پر پہنچنے میں تاخیر ہوئی۔ اگرچہ دوپہر تقریباً ساڑھے ۱۲؍ بجے تک اس کرین کو ہٹانے کی کارروائی شروع کردی گئی تھی لیکن ٹریفک بحال ہونے میں سہ پہر کے ۴؍ بج گئے تھے اور اس وقت تک ٹریفک جام تھا۔ابتداء میں اس ۴۰۰؍ ٹن وزنی کرین کو ہٹانے کیلئے ۶۰۰؍ ٹن کی کرین لانے کا فیصلہ کیا گیا تھا لیکن اس کرین کے گیئر میں تکنیکی خرابی پیدا ہوجانے کی وجہ سے ۲؍ چھوٹی کرینوں کی مدد سے اس بڑی کرین کو وہاں سے ہٹایا گیا اور ٹریفک کیلئے راستہ صاف کیا گیا۔