Updated: November 05, 2026, 10:03 PM IST
| Washington
منگل کو ہونے والے وسط مدتی انتخابات میں ڈیموکریٹس نے ایوانِ نمائندگان اور سینیٹ دونوں کا کنٹرول حاصل کر لیا۔ انہوں نے سینیٹ کی کم از کم سات نشستیں چھین لیں۔ اسے ٹرمپ کے دوسرے دورِ صدارت کے نصف مرحلے پر ان کی صدارت کو ایک ہمہ گیر ردِ عمل کے طور پر مسترد کئے جانے کے مترادف دیکھا گیا۔ دیر رات کے بیشتر شوز الیکشن کی رات لائیو نشر نہیں ہوئے۔ تاہم، اے بی سی پر ’جمی کِمَل لائیو!‘ اور این بی سی پر ’دی ٹونائٹ شو‘ معمول سے تاخیر سے ریکارڈ کئے گئے تاکہ نتائج کو شامل کیا جا سکے۔
جمی کِمَل اور جمی فالن۔ تصویر: ایکس
امریکی ٹیلی ویژن پر نائٹ شوز کے میزبانوں جمی کِمَل اور جمی فالن نے وسط مدتی انتخابات میں صدر ڈونالڈ ٹرمپ اور ان کی ریپبلکن پارٹی کو لگنے والے زبردست دھچکوں کو مزاح کا موضوع بنایا۔ دونوں نے ریپبلکن پارٹی کی شکست اور اس پر صدر کے ردِعمل کا مذاق اڑانے کیلئے اپنے مونو لاگز کا سہارا لیا۔ انتخابات میں ڈیموکریٹس کی فتوحات کو کِمَل نے ”نیلی سونامی“ (blue tsunami) قرار دیا۔
۳ نومبر کو ہونے والے وسط مدتی انتخابات میں ڈیموکریٹس نے ایوانِ نمائندگان اور سینیٹ دونوں کا کنٹرول حاصل کر لیا۔ انہوں نے سینیٹ کی کم از کم سات نشستیں چھین لیں۔ اسے ٹرمپ کے دوسرے دورِ صدارت کے نصف مرحلے پر ان کی صدارت کو ایک ہمہ گیر ردِ عمل کے طور پر مسترد کئے جانے کے مترادف دیکھا گیا۔ دیر رات کے بیشتر شوز الیکشن کی رات لائیو نشر نہیں ہوئے۔ تاہم، اے بی سی پر ’جمی کِمَل لائیو!‘ اور این بی سی پر ’دی ٹونائٹ شو‘ معمول سے تاخیر سے ریکارڈ کئے گئے تاکہ نتائج کو شامل کیا جا سکے۔
یہ بھی پڑھئے: نائب صدر ٹرمپ کے ناراض حامیوں کے ساتھ ایک نیا سیاسی اتحاد بنانے کے خواہاں: رپورٹ
جمی کِمَل کا مونو لاگ
کِمَل نے گیم آف تھرونز کے ایک مشہور منظر کا حوالہ دیتے ہوئے مذاق کیا کہ ”نیلی لہر ساحل سے ٹکرا چکی ہے اور اب ریڈ ویڈنگ (Red Wedding) کا آغاز ہو رہا ہے۔“ انہوں نے کہا کہ ڈیموکریٹس نے ایوانِ نمائندگان پر کنٹرول ”صدر ٹرمپ کی مہربانی سے“ حاصل کیا۔
انہوں نے ٹرمپ کے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر ان کے ایک پوسٹ پر بھی ردِعمل ظاہر کیا جس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ اگر وہ بیلٹ پر ہوتے تو ریپبلکنز ”تاریخی اکثریت“ سے جیت جاتے۔ اس پر کِمَل نے جواب دیا کہ ”آپ ہی تو بیلٹ پر تھے۔ آپ کتے کے بالوں کی طرح ہیں، آپ ہر چیز پر چپکے ہوتے ہیں۔“ انہوں نے ٹرمپ کو استعفیٰ دینے کا مشورہ دیا اور کہا کہ وہ اپنے کرپٹو پیسوں سے کوئی جزیرہ خرید لیں۔ اپنے آخری جملے میں انہوں نے ٹرمپ کو بیک وقت ”لنگڑی بطخ اور نارنجی مرغ“ (lame duck اور orange chicken) قرار دیا۔
یہ بھی پڑھئے: امریکہ: وسط مدتی انتخابات میں جین زی امیدواروں کی تاریخ ساز کامیابی
جمی فالن کے لطیفے
کِمَل کے مقابلے فالن عام طور پر کم سیاسی گفتگو کرتے ہیں، لیکن حالیہ ہفتوں میں انہوں نے ٹرمپ کو زیادہ نشانہ بنایا ہے۔ انہوں نے نوٹ کیا کہ ڈیموکریٹس کے ایوانِ نمائندگان جیتنے کا ۹۶ فیصد امکان تھا۔ انہوں نے مذاق کیا کہ ”عام طور پر، جب ٹرمپ اپنا گھر (ہاؤس) کھوتے ہیں، تو وہ طلاق کی وجہ سے ہوتا ہے۔“
انہوں نے کہا کہ ووٹرز کیلئے اہم ترین مسائل معیشت، حفظانِ صحت، جنگ، گیس کی قیمتیں اور بدعنوانی تھے۔ ٹرمپ کے الفاظ کی نقل اتارتے ہوئے انہوں نے مذاق اڑایا کہ یہ ”اَہ اوہ، اوہ نو، اِک، یکس اور نو بونو“ تھے۔ انہوں نے لنکن میموریل ریفلیکٹنگ پول پر ٹرمپ کی آخری ریلی کا بھی مذاق اڑایا، جس میں مبینہ طور پر حاضری انتہائی کم تھی۔ انہوں نے کہا کہ انتخابی مہم ”صدارتی ریلیوں سے شراب کے نشے میں دھت بہترین دوست کی تقریروں“ میں تبدیل ہو چکی تھی۔ اس سے قبل فالن نے ٹرمپ کی ریکارڈ کم ترین عوامی مقبولیت اور سات دنوں میں سات ریاستوں کے طوفانی انتخابی دوروں کا بھی مذاق اڑایا تھا۔