Inquilab Logo Happiest Places to Work

ممبئی کو جھوپڑ پٹی سے پاک بنانا کیا محض خواب ہی رہ جائے گا: بامبے ہائی کورٹ کا سوال

Updated: May 12, 2026, 7:14 PM IST | Mumbai

عدالت نے ریاست میں جھوپڑ پٹیوں کی صورتحال کا جائزہ لینے کیلئے ریاستی حکومت کو ۴؍ ہفتوں میں اعلیٰ سطحی کمیٹی تشکیل دینے کا حکم دیا

Slum area - Photo: INN
سلم ایریا ۔ تسویر : آئی این این
بامبے ہائی کورٹ نے مہاراشٹر حکومت سے پوچھا ہے کہ ریاست اور ممبئی کو جھوپڑ پٹی سے پاک بنانے کا جو اعلان کیا گیا تھا ،کیا وہ محض خواب ہی بنا رہے گا؟ عدالت نے حکومت کو حکم دیا ہے کہ وہ مہاراشٹر سلم ایریاز(بہتری، کلیئرنس اور ری ڈیولپمنٹ) ایکٹ۱۹۷۱ء جس کے تحت ممبئی سمیت ریاست کو جھوپڑ پٹی سے پاک کرنے کا عزم کیا گیا ہے،کی کارکردگی کا آڈٹ کرنے کیلئے ۴؍ہفتوں کے اندر اعلیٰ سطحی کمیٹی تشکیل دے۔ عدالت کے اس فیصلہ پر کانگریس نے حکومت پر شدید تنقید کی   اور کہا  ہےکہ مہایوتی حکومت کی بدعنوانی اور دوست بلڈروں کو فائدہ پہنچانے کے سبب وہ ممبئی کو جھوپڑپٹی سے پاک شہر بنانے میں ناکام ثابت ہو ئی ہے۔واضح رہے کہ بامبے ہائی کور ٹ کے جسٹس جی ایس کلکرنی اور ادویت سیٹھنا کی  ڈویژن بنچ نے جمعہ کو ممبئی میں کچی آبادیوں کی بحالی اور ٹاؤن پلاننگ میں  پیش رفت پر تنقید کی۔حالانکہ یہ قانون پانچ دہائیوں سے زیادہ عرصے سے نافذ ہے۔
 
 
اپنے فیصلے میں عدالت نے ریاست سے کہا ہے کہ وہ قانون اور اس کے نفاذ دونوں کا جامع جائزہ لینے کیلئے مناسب مہارت رکھنے والوں کی ایک کمیٹی قائم کرے۔ عدالت نے اشارہ دیا کہ پینل میں شہری ترقی کے سینئر بیوروکریٹس، ڈائریکٹوریٹ آف ٹاؤن پلاننگ کا ایک نمائندہ، عمارت کی تعمیر اور ٹاؤن پلاننگ کا تجربہ رکھنے والے آزاد بلڈر اور عوامی نمائندے جو ٹاؤن پلاننگ میں خصوصی معلومات کے حامل آرکیٹیکٹ ہوں، شامل کئے جائے۔
 
 ممبئی کانگریس کے ترجمان اور میڈیا کوآرڈینیٹر سریش چندر راج ہنس نے کہا کہ ممبئی کو شنگھائی یا سنگاپوربنانے کا نعرہ دے کر خاموش ہوجانے والی بی جے پی مہا یوتی حکومت نے شہر کے محنتی اور محنت کش طبقے کو جھوپڑ پٹیوں سے پاک شہر کا خواب دکھا کر دھوکہ دیا ہے۔مہا یوتی حکومت کی بدعنوانی کی وجہ سے ممبئی شہر جھوپڑ پٹی سے پاک عالمی شہر نہیں بن سکا ہے۔حکومت صرف زمینداروں کیلئے کام کر رہی ہے اور کچی بستیوں کے غریبوں کو مستقل مکان فراہم کرنے میں اسے کوئی دلچسپی نہیں ہے۔محکمہ شہری ترقیات بدعنوانی کی اڈہ بن چکا ہے اور اس سے حکومت کے حامی ڈیولپروں کی جیبیں ہی بھری جا رہی ہیں۔ انہوںنے مزید کہا کہ بامبے ہائی کورٹ کے فیصلے نے حکومت کے منہ پر  بڑا طمانچہ مارا ہے اور یہ فیصلہ حکومت کی ناکامی کی تصدیق کرتا ہے۔ حکومت کی جانب سے ’جھوپو ‘اسکیم کو برسوں سے نافذ کرنے کے باوجود شہر میں کچی آبادیوں کی تعداد کم نہیں ہو رہی ہے بلکہ بڑھ رہی ہے۔ 

 
حکومت کے پاس شہری ترقی کیلئے کوئی پالیسی نہیں ہے۔ پالیسیاں صرف زمینوں پر قبضے اور بلڈروںکو فائدہ پہنچانے کیلئے بنائی جاتی ہیں اور ان کی جیبیں کمیشن  سے بھری جاتی ہیں۔ بی جے پی کی مہا یوتی حکومت عام لوگوں کیلئے کام نہیں کر رہی ہے بلکہ صرف اڈانی اور امبانی جیسے بڑے سرمایہ داروں کیلئے کام کر رہی ہے۔

 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK