• Fri, 02 October, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

’’قانون پر عمل کریں، سافٹ ویئر پر نہیں‘‘

Updated: October 02, 2026, 11:02 AM IST | Agency | Mumbai

بامبے ہائی کورٹ کی گوا بنچ نے الیکشن کمیشن کی سخت سرزنش کی۔

Bombay High Court. Photo: INN.
بامبے ہائی کورٹ۔ تصویر: آئی این این۔

بامبے ہائی کورٹ کی گوا بنچ نے گوا میں ووٹر لسٹ کی خصوصی جامع نظرثانی کے عمل پر الیکشن کمیشن کی کارکردگی کے حوالے سے اہم سوالات اٹھائے ہیں۔ عدالت نے واضح کیا کہ انتخابی عمل میں قانون اور ضابطے سب سے بالاتر ہیں، کسی کمپیوٹر نظام یا سافٹ ویئر کو قانون پر ترجیح نہیں دی جاسکتی ہے۔ عدالت نے کہا کہ خصوصی جامع نظرثانی کے دوران ایسا نظام نافذ نہیں کیا جاسکتا تھاجس کے نتیجے میں عوامی نمائندگی ایکٹ ۱۹۵۰ء اور رجسٹر آف الیکٹرول رول۱۹۶۰ء کی دفعات عملاً غیر مؤثر ہو جائیں۔ بامبے ہائی کورٹ کی پنجی بنچ میں جسٹس والمیکی مینڈس اور جسٹس امیت  جام سانڈیکرپر مشتمل دو رکنی بنچ گوا کے سانتا کروز اسمبلی حلقے سے متعلق ایک معاملے کی سماعت کر رہی تھی۔ اس معاملے میں ایک ہی خاندان کے۶؍ افراد کے نام ایس آئی آر کے دوران ووٹرلسٹ سے حذف کر دئیے گئے تھے۔

یہ بھی پڑھئے:فلسطین ایکشن پر پابندی واپس لینے کا مطالبہ، اسکاٹش گرینز کا برطانوی حکومت پر زور

اس معاملے میںدرخواست گزار پریش سلگاؤکر نے عدالت کو بتایا کہ وہ اور ان کے خاندان کے افراد اسی اسمبلی حلقے کے اندر ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل ہوئے تھے۔ انہوں نے پتہ تبدیل ہونے کی اطلاع دینے کیلئے مقررہ فارم نمبر آٹھ جمع کرایا تھا۔ اس کے باوجود بعد میں معلوم ہوا کہ خاندان کے ۶؍ افراد کے نام ووٹر لسٹ سے حذف کر دیے گئے ہیں۔ یہ دیکھ کر انہیں سخت اچنبھا ہوا کیوں کہ انہوں نے فارم بالکل درست بھرا تھا اور متعلقہ افسران نے بھی اس کی تصدیق کی تھی۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK