• Fri, 23 October, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

جرنگے نے آڈیو کلپ عام کی، سیاسی گھمسان چھڑگیا

Updated: October 23, 2026, 3:30 PM IST | Agency | Mumbai

بی جے پی اور شندے سینا کے لیڈران نے صفائی دی، منوج جرنگے پاٹل نے وضاحت کی کہ نہ تو انہوں نے کوئی رقم لی اور نہ ہی تحریک ختم کی۔

Jarange Patil in Jalna, speaking to media representatives after playing an audio clip during a press conference. Photo: INN
جالنہ میں جرنگے پاٹل ، پریس کانفرنس میں آڈیو کلپ سنانے کے بعد میڈیا کے نمائندوں کو بیان دیتے ہوئے۔ تصویر: آئی این این

مراٹھا ریزرویشن تحریک کے لیڈر منوج جرنگے پاٹل نےانتروالی سراٹی، جالنہ میں پریس کانفرنس کے دوران  ایک آڈیو کلپ وائرل کرکے بی جے پی کی قیادت والی مہایوتی حکومت اور نائب وزیر اعلیٰ ایکناتھ شندے کے لئے  مشکلات پیدا کردی ہیں۔ اس آڈیو کلپ میں مبینہ طور پر الزام لگایا گیا ہے کہ۲۰۲۴ء کے مہاراشٹر اسمبلی انتخابات سے قبل بی جے پی نے نائب وزیراعلیٰ شندے کے بیٹے اور شیو سینا کے رکن پارلیمنٹ شری کانت شندے کے ذریعے جرنگے پاٹل کو۵۰۰؍ کروڑ روپے دئیے تھے۔اس معاملے میں نائب وزیراعلیٰ ایکناتھ شندے اور وزیر اعلیٰ دیویندر فرنویس نے اب تک ردعمل ظاہر نہیں کیا ہے۔

جرنگے پاٹل نے وضاحت کی ہے کہ نہ تو انہوں نے کوئی رقم وصول کی ہے اور نہ ہی اپنی تحریک ختم کرنے پر رضامندی ظاہر کی ہے۔ جمعرات کو اپنے آبائی علاقے جالنہ میں جرنگے پاٹل نے ایک آڈیو ریکارڈنگ چلائی۔ اس میں ایک خاتون یہ کہتے ہوئے سنائی دیتی ہے کہ بی جے پی کو ریاستی اسمبلی انتخابات میں جرنگے پاٹل کی حمایت کی حد کا اندازہ نہیں تھا، لیکن اس نے ڈاکٹر شری کانت شندے کے ذریعے انہیں۵۰۰؍ کروڑ روپے ادا کیے تھے۔ تاہم، گفتگو میں شامل افراد کی شناخت اور آڈیو ریکارڈنگ کی صداقت کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں ہوسکی ہے۔جرنگے پاٹل نے مزید دعویٰ کیا کہ انہوں نے پیسوں کو کبھی اہمیت نہیں دی، اگر یہی کرنا ہوتا تو وہ مراٹھا برادری کے لوگوں سے فی کس۱۰۰؍ روپے دینے کی اپیل کرکے  آسانی سے۲۵۰۰؍ کروڑ روپے جمع کرسکتے تھے۔

یہ بھی پڑھئے: ’’ووٹ چوری ثابت شدہ حقیقت بن چکی ہے‘‘

آڈیو کلپ پر بی جے پی لیڈران نے کیا کہا؟

مہاراشٹر کے وزیر محصول اور بی جے پی کے سینئر لیڈر چندر شیکھر باونکولے، جو پارٹی کے ریاستی صدر بھی رہ چکے ہیں، نے کہا کہ ان الزامات سے بی جے پی کا کوئی تعلق نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ جرنگے پاٹل اور ایکناتھ شندے کو ان دعوؤں کا جواب دینا چاہیے۔ باونکولے نے کہا، ’’اس معاملے سے ہمارا کوئی لینا دینا نہیں ہے۔‘‘ وہیں، وزیر اطلاعات و ٹیکنالوجی اور بی جے پی لیڈر آشیش شیلار نے مبینہ آڈیو کلپ کی مکمل جانچ کا مطالبہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس بات کی بھی تحقیقات ہونی چاہیے کہ یہ کلپ کیسے سامنے آئی ، اس کی صداقت کیا ہے اور آیا اسے تیار کرنے یا اس میں ردوبدل کرنے کیلئے  ٹیکنالوجی کا استعمال کیا گیا ہے۔ آشیش شیلار نے کہا، ’’اس معاملے میں نائب وزیر اعلیٰ ایکناتھ شندے پر سوال اٹھانا مناسب نہیں ہے۔ ہم آڈیو کلپ میں مبینہ گفتگو سے اتفاق نہیں کرتے۔ پورے معاملے کی تفصیلی تحقیقات ہونی چاہیے۔‘‘

شندے سینا کے لیڈر کا ردعمل 

ایکناتھ شندے کے قریبی ساتھی اور ریاستی وزیر صنعت ادے سامنت نے  شندے اور ان کے بیٹے کو بدنام کرنے کی سازش کا الزام لگاتے ہوئے وزیراعلیٰ و وزیرداخلہ دیویندر فرنویس سے مطالبہ کیا کہ مذکورہ آڈیو ریکارڈنگ کی فارینسک جانچ کی جائے اور اس میں سنائی دینے والی آوازوں کی شناخت کی جائے۔ سامنت کے مطابق، آڈیو کلپ میں سنائی دینے والی آوازیں بی جے پی سے وابستہ بعض افراد، جن میں پارٹی کی ترجمان شویتا شالنی، رکن اسمبلی اتل بھٹکھلکر اور یوٹیوبر سشیل کلکرنی شامل ہیں، کی آوازوں سے ملتی جلتی معلوم ہوتی ہیں۔انہوں نے مطالبہ کیا کہ آوازوں کے نمونے فارینسک لیبارٹری بھیجے جائیں تاکہ ان کی صداقت کی تصدیق ہوسکے۔ اس کے علاوہ یہ بھی معلوم کیا جائے کہ ریکارڈنگ کس نے کی، اسے کس نے پھیلایا اور اس کے پیچھے کیا مقصد تھا۔ سامنت نے کہا کہ اگر ریکارڈنگ میں سنائی دینے والے افراد کی شناخت کی تصدیق ہوجاتی ہے تو بی جے پی کو اپنا موقف واضح کرنا ہوگا۔ سامنت نے کہا کہ مراٹھا سماج میں اختلافات پیدا کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK