Inquilab Logo Happiest Places to Work

بابری مسجد کو منہدم نہیں کرنا چاہیے تھا کہنا ملک دشمنی نہیں؛ بامبے ہائی کورٹ

Updated: July 29, 2026, 4:59 PM IST | Mumbai

بامبے ہائی کورٹ نے سوشل ڈیموکریٹک پارٹی آف انڈیا (SDPI) کے مہاراشٹر جنرل سیکریٹری سعید احمد عبدالواحد چودھری کے خلاف جاری ایک سالہ جلاوطنی کا حکم منسوخ کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کی پالیسیوں کی مخالفت، احتجاج منظم کرنا، یا یہ کہنا کہ ’’بابری مسجد کو منہدم نہیں کیا جانا چاہیے تھا‘‘ کسی شہری کو ملک دشمن نہیں بناتا۔

Photo: INN.
تصویر: آئی این این۔

بامبے ہائی کورٹ نے ایک اہم آئینی فیصلے میں سوشل ڈیموکریٹک پارٹی آف انڈیا (SDPI) کے مہاراشٹر جنرل سیکریٹری سعید احمد عبدالواحد چودھری کے خلاف جاری ایک سالہ جلاوطنی (Externment) کا حکم کالعدم قرار دیتے ہوئے واضح کیا ہے کہ حکومت کی پالیسیوں کی مخالفت، احتجاج منظم کرنا یا اختلافی رائے کا اظہار کسی شہری کو ملک دشمن یا امن عامہ کے لیے خطرہ قرار دینے کی بنیاد نہیں بن سکتا۔ عدالت نے یہ بھی کہا کہ ’’بابری مسجد کو منہدم نہیں کیا جانا چاہیے تھا‘‘ کہنا بذاتِ خود کوئی ملک دشمن یا غیر آئینی بیان نہیں ہے۔ یہ مقدمہ ۴۹؍ سالہ سعید احمد عبدالواحد چودھری کی درخواست پر سنا گیا، جنہیں ممبئی پولیس نے دسمبر ۲۰۲۵ء میں ممبئی اور اس سے ملحقہ علاقوں سے ایک سال کے لیے جلاوطن کرنے کا حکم دیا تھا۔ بعد ازاں کوکن ڈویژن کے ڈویژنل کمشنر نے مارچ ۲۰۲۶ء میں اس حکم کو برقرار رکھا۔ چودھری نے ان دونوں احکامات کو ہائی کورٹ میں چیلنج کیا تھا۔

یہ بھی پڑھئے: احمد نگر شاہ راہ پر سڑک دھنس گئی

پولیس نے جلاوطنی کے حق میں پانچ ایف آئی آرز کا حوالہ دیا، جن میں زیادہ تر مقدمات شہریت ترمیمی قانون (CAA) ، گیان واپی مسجد تنازع، اور دیگر مرکزی حکومتی فیصلوں کے خلاف منعقد کیے گئے احتجاج، دھرنوں اور جلوسوں سے متعلق تھے۔ پولیس کا دعویٰ تھا کہ درخواست گزار کی سرگرمیاں امن و امان کے لیے خطرہ بن سکتی ہیں۔ تاہم عدالت نے ریکارڈ کا جائزہ لینے کے بعد کہا کہ اس دعوے کی تائید کے لیے کوئی قابل اعتماد مواد پیش نہیں کیا گیا۔ سماعت کے دوران جسٹس مادھو جمدار نے ممبئی پولیس سے سخت سوالات کرتے ہوئے کہا کہ ’’یہ کیا ہو رہا ہے؟ کیا تمام شہریوں کو حکومتِ ہند کا غلام بنایا جا رہا ہے؟ وہ احتجاج نہیں کر سکتے، وہ آواز نہیں اٹھا سکتے، یہ سب کیا ہے؟‘‘

یہ بھی پڑھئے: ایس آئی آر کا کام انجام دینےوالے اساتذہ کومحکمہ تعلیم کی جانب سے راحت

امتحانی پرچہ لیک ہونے کے حالیہ واقعات کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے مزید کہا کہ ’’اب اتنے سارے پرچے لیک ہوئے ہیں۔ اگر لوگ احتجاج کریں گے تو آپ ان پر مقدمے درج کر دیں گے؟ احتجاج کرنا شہریوں کا حق ہے۔‘‘ عدالت نے پولیس سے یہ بھی استفسار کیا کہ صرف حکومت مخالف نعرے لگانے پر کسی شخص کو جلاوطن کیسے کیا جا سکتا ہے۔ جسٹس جمدار نے کہا کہ ’’درخواست گزار نے صرف ’’بی جے پی حکومت مردہ باد‘‘ اور ’’امیت شاہ مردہ باد‘‘ جیسے نعرے لگائے ہیں۔ شہری ایسے نعرے کیوں نہیں لگا سکتے؟ صرف ان نعروں کی بنیاد پر جلاوطنی کا حکم کیوں؟‘‘ عدالت نے مزید سخت ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ’’پولیس، وزیر اعلیٰ یا وزیر اعظم کی ملازم نہیں ہے، وہ عوام کی خدمت گار ہے۔ میں آپ کے افسران پر بھاری جرمانہ عائد کرنے پر غور کر رہا ہوں۔‘‘

یہ بھی پڑھئے: احتجاج کرنے والے طلبہ کوہرقسم کی کارروائی سے محفوظ رکھنے کا مطالبہ

سماعت کے دوران جسٹس جمدار نے ہلکے پھلکے انداز میں مہاراشٹر میں جاری سیاسی وفاداریاں تبدیل کرنے کے رجحان پر بھی تبصرہ کیا۔ انہوں نے درخواست گزار سے مخاطب ہو کر کہا کہ ’’آپ بھی پارٹی بدل لیجیے... پورے مہاراشٹر میں ہارس ٹریڈنگ چل رہی ہے۔ آپ پر کچھ ایف آئی آرز ہیں... پارٹی بدلنے پر غور کیجیے، ایک ’’واشنگ مشین‘‘ موجود ہے۔‘‘ عدالت نے اپنے تحریری حکم میں واضح کیا کہ درخواست گزار نے اپنی سیاسی حیثیت میں مرکزی حکومت کے بعض فیصلوں کے خلاف مورچے، دھرنے اور احتجاج منظم کیے، لیکن صرف یہی بات مہاراشٹر پولیس ایکٹ کے تحت جلاوطنی کا جواز نہیں بن سکتی۔ عدالت نے قرار دیا کہ ’’درخواست گزار نے حکومتِ ہند کے بعض فیصلوں کے خلاف مورچے اور دھرنے منظم کیے۔ صرف یہ بات کسی شخص کو مہاراشٹر پولیس ایکٹ کے تحت جلاوطن کرنے کی بنیاد نہیں بن سکتی۔ یہ کارروائی بدنیتی (mala fide) پر مبنی ہے۔ آئین کے آرٹیکل ۱۹؍ اور ۲۱؍ کے تحت شہریوں کو نہ صرف اظہارِ رائے کی آزادی حاصل ہے بلکہ باوقار زندگی گزارنے کا بھی حق حاصل ہے۔‘‘

یہ بھی پڑھئے: ممبرا میں دوسری منزلہ کی چالی کا حصہ پہلے منزلہ پر گرا، ۱۵؍سالہ لڑکی کی موت

عدالت نے یہ بھی کہا کہ ’’بابری مسجد کو منہدم نہیں کیا جانا چاہیے تھا‘‘ کہنا یا اس انہدام پر اختلاف کا اظہار کرنا اپنے آپ میں کوئی ملک دشمن یا غیر قومی عمل نہیں ہے، اور ایسے خیالات کی بنیاد پر کسی شہری کے بنیادی حقوق سلب نہیں کیے جا سکتے، جب تک تشدد یا امن عامہ کو حقیقی خطرہ ثابت نہ ہو۔ فیصلے کے بعد SDPI نے اسے ’’آئین اور جمہوری حقوق کی تاریخی فتح‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ سعید احمد چودھری کو صرف اس لیے نشانہ بنایا گیا کیونکہ وہ CAA مخالف تحریک ، گیان واپی مسجد تنازع اور دیگر عوامی مسائل پر پرامن احتجاج میں سرگرم کردار ادا کر رہے تھے۔ یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ملک میں اختلافِ رائے، احتجاج کے حق اور پولیس کے اختیارات کے دائرۂ کار پر مسلسل بحث جاری ہے۔ قانونی ماہرین کے مطابق بامبے ہائی کورٹ کا یہ فیصلہ اس اصول کو مزید مضبوط کرتا ہے کہ جمہوری معاشرے میں اختلافِ رائے، حکومت پر تنقید اور پرامن احتجاج کو محض انتظامی اختیارات استعمال کر کے دبایا نہیں جا سکتا۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK