Updated: October 17, 2026, 9:05 PM IST
| Toronto
محض چار سال کی عمر میں ۱۴۱؍آئی کیو اسکور حاصل کرنے والے ہندوستانی نژاد بچے ارجن پرجاپتی نے اپنی غیرمعمولی ذہانت اور مطالعے کے شوق سے سب کو حیران کردیا ہے۔ تین ہزار سے زائد کتابیں پڑھنے والا یہ بچہ مینسا اور انٹرٹیل جیسے عالمی ذہین افراد کے اداروں کی رکنیت کیلئے بھی اہل قرار پایا ہے۔
ہند نژاد ارجن پرجاپتی۔ تصویر: آئی این این
چار سال کی عمر میں ارجن پرجاپتی نے ذہانت کے معیاری ٹیسٹ میں ۱۴۱ ؍آئی کیو (IQ) اسکور حاصل کیا، جس نے اسے۷ء۹۹؍ویں پرسنٹائل میں جگہ دلائی۔ ہند نژاد اس بچے نے محض۱۸؍ ماہ کی عمر میں پڑھنا شروع کردیا تھا۔ اس کے بعد سے اس نے انسانی جسمانی ساخت، ریاضی، فلکیات اور قدیم تہذیبوں میں گہری دلچسپی پیدا کرلی ہے۔ وہ ذہانت کے عالمی سطح پر تسلیم شدہ دو اداروں، مینسا (Mensa) اور انٹرٹیل (Intertel) کی رکنیت کیلئے بھی اہل قرار پایا ہے۔
ارجن کا تعلق گجرات کے شہر وڈودرا کے ایک گجراتی خاندان سے ہے، جس کے والدین کنیڈا میں آباد ہیں۔ اس کے والدین کے مطابق، ارجن اب تک۳؍ ہزارسے زیادہ کتابیں پڑھ چکا ہے۔ اس کی دلچسپیوں میں سائنس، ٹیکنالوجی، انجینئرنگ اور ریاضی (STEM) کے علاوہ خرد حیاتیات اور علمِ مدافعت بھی شامل ہیں۔ جہاں اس عمر کے بیشتر بچے ہیری پوٹر اور شرلاک ہومز جیسے افسانوی کرداروں میں دلچسپی لیتے ہیں، وہیں ارجن افسانوی کہانیوں کے بجائے غیر افسانوی کتابوں اور سائنسی وضاحتوں کو ترجیح دیتا ہے۔ جب ارجن کی عمر تقریباً چار سال تھی تو اس کی ذہانت جانچنےکیلئے اسٹینفورڈ بِنیٹ انٹیلی جنس اسکیلز کے پانچویں ایڈیشن (SB5) کے تحت ایک معیاری ذہنی صلاحیت کا ٹیسٹ لیا گیا۔
یہ بھی پڑھئے: ’’مودی حکومت کو ہراکر نظام بدلنا اپوزیشن کا ہدف ہے‘‘
اس کے اہل خانہ کی جانب سے شیئر کئے گئے نتائج کے مطابق، ارجن نے مجموعی آئی کیو (FSIQ) میں ۱۴۱؍اسکور حاصل کیا، جو اسے۷ء۹۹؍ویں پرسنٹائل میں رکھتا ہے۔ اس کا غیر زبانی آئی کیو۱۴۹؍ تھا، جو ۹۹ء۹۹؍پرسنٹائل کے برابر ہے، جبکہ سیال استدلال (Fluid Reasoning) میں اس نے۱۴۴؍اسکور حاصل کیا، جو۸ء۹۹؍ویں پرسنٹائل میں آتا ہے۔ اسی طرح ورکنگ میموری (Working Memory) میں اس کا اسکور ۱۴۶؍رہا، جو۹ء۹۹؍ویں پرسنٹائل کے برابر ہے۔
اس ٹیسٹ کے بعد ارجن مینسا کی رکنیت کیلئے اہل قرار پایا، جس کیلئے عموماً کسی تسلیم شدہ ذہانت کے ٹیسٹ میں آبادی کے دو فیصد بہترین افراد میں شامل ہونا ضروری ہوتا ہے۔ وہ انٹرٹیل کی رکنیت کیلئے بھی اہل ہے، جس کے لیے عموماً آبادی کے ایک فیصد بہترین افراد میں جگہ بنانا ضروری ہوتا ہے۔ ارجن کی والدہ، ماہیتا پرجاپتی نے بتایا کہ سیکھنے میں اس کی دلچسپی بہت کم عمری ہی میں ظاہر ہونے لگی تھی۔ اس نے تصویری کتابوں سے پڑھنے کا آغاز کیا، جن میں تصاویر کے ساتھ ان کے ابتدائی حروف بھی درج ہوتے تھے۔ بیٹے کے شوق کو محسوس کرتے ہوئے انہوں نے اسے صوتی طریقۂ تعلیم (Phonics) اور اعداد سکھانے میں مدد کی اور اس کے سوالات کے تحمل سے جواب دیتی رہیں۔
یہ بھی پڑھئے: ریلائنس کے جیو پلیٹ فارمز کا آئی پی او ۲۱؍ اکتوبر کو کھلے گا
ارجن کے والدین اسے باقاعدگی سے گھر کے قریب واقع لائبریری لے جاتے تھے، جہاں وہ ایک نشست میں اوسطاً۹؍ سے۱۰؍ کتابیں پڑھتا تھا۔ وہ لائبریری میں میزوں پر دوسرے قارئین کی چھوڑی ہوئی کتابیں بھی اٹھا لیتا اور انہیں پڑھنا شروع کردیتا تھا۔ ارجن کے والدین نے کہا، ’’ہم نے ہمیشہ کوشش کی ہے کہ اس کے سوالات کو کبھی نظرانداز نہ کریں، چاہے وہ کتنے ہی غیرمعمولی یا پیچیدہ کیوں نہ ہوں۔ اگر ہمیں کسی سوال کا جواب معلوم نہ ہو تو محض یہ کہنے کے بجائے کہ ’مجھے نہیں معلوم‘، ہم کہتے ہیں کہ ’یہ ایک بہترین سوال ہے۔ مجھے ابھی اس کا جواب معلوم نہیں، لیکن آؤ مل کر تلاش کرتے ہیں۔ ‘ بعض اوقات اس کے سوالات ہمارے لئےبھی کچھ نیا سیکھنے کا موقع بن جاتے ہیں۔ ‘‘
یہ بھی پڑھئے: ’’مسلسل سیکھتے ہوئے اداکاری کو بہتر بنانا ہی میرا ہدف ہے‘‘
ایسے وقت میں جب ڈجیٹل آلات اور آن لائن ویڈیوز بہت سے بچوں کی زندگی کا معمول بن چکے ہیں، ارجن کیلئے کتابیں آج بھی علم حاصل کرنے کا بنیادی ذریعہ ہیں۔ کوئی نئی چیز سیکھنے کیلئے وہ گوگل، یوٹیوب یا بچوں کے ویڈیو چینلز کو اپنی پہلی ترجیح نہیں بناتا۔ ناشتے کے وقت، سونے سے پہلے، اسکول کی چھٹیوں میں یا گاڑی میں سفر کے دوران، وہ شاذ و نادر ہی کتاب سے دور ہوتا ہے۔ یہاں تک کہ وہ اپنے تکیے کے نیچے کتاب رکھ کر سوتا ہے اور صبح اٹھتے ہی دوبارہ پڑھنے لگتا ہے۔ اس کی والدہ کے مطابق، اسکرین کے محدود استعمال کی وجہ وہ عادات ہیں جنہیں خاندان نے شعوری طور پر گھر میں فروغ دیا ہے۔ انہوں نے کہا، ’’ہفتے کے آخر میں، میں اسے غیرضروری مواد دیکھنے کیلئے اسکرین دینے کے بجائے اس قدر بور ہونے دینا پسند کروں گی کہ وہ تنگ آجائے۔ ‘‘ ان کا کہنا تھا کہ بوریت بچوں کو اپنی دلچسپیوں کی کھوج لگانے اور نئی چیزیں دریافت کرنے کی ترغیب دے سکتی ہے۔
یہ بھی پڑھئے: اسرائیل کی بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزیوں پر ترکی کا عالمی سطح پر کارروائی کا مطالبہ
ان کے مطابق، کتابوں سے ارجن کی دلچسپی کو برقرار رکھنے میں چھوٹی مگر مسلسل عادتوں نے اہم کردار ادا کیا۔ وہ اپنی والدہ کو ٹیبلٹ کے بجائے چھپی ہوئی کتاب پڑھتے ہوئے دیکھتا تھا۔ جب وہ کسی نامانوس لفظ کے معنی پوچھتا تو اس کی والدہ لغت نکالتیں اور اس کے ساتھ مل کر اس لفظ کا مطلب تلاش کرتیں۔ کتابیں پڑھنے کے شوق نے ارجن کو جینیات اور انسانی حیاتیات کے کئی تصورات سے بھی روشناس کرایا ہے۔ اس نے اپنے والدین کو بتایا کہ انسانوں میں کروموسوم کے۲۳؍ جوڑے ہوتے ہیں۔ اس نے اپنے والد سے کہا، ’’پاپا، آپ کے کروموسومز XY ہیں اور ممی کے XX۔ ‘‘اب ارجن۲۸؍ اکتوبر کو کینیڈا کی قانون ساز اسمبلی میں منعقد ہونے والے ایک خصوصی اجلاس میں شرکت کا منتظر ہے، جہاں اسے اس کی غیرمعمولی صلاحیتوں اور علم حاصل کرنے کے تجسس کے اعتراف میں مدعو کیا گیا ہے۔