راٹکو ملاڈچ ، جو دی ہیگ میں عمر قید کاٹ رہے ہیں، مبینہ طور پر معمولی فالج کا شکار ہوئے ہیں۔ ان کے بیٹے ڈارکو نے حالت کو ’’بہت سنگین‘‘ قرار دیتے ہوئے سربیا میں علاج کی اجازت دینے کا مطالبہ کیا ہے، جبکہ حکام کی جانب سے باضابطہ تصدیق سامنے نہیں آئی۔
EPAPER
Updated: April 16, 2026, 10:04 PM IST | The Hague
راٹکو ملاڈچ ، جو دی ہیگ میں عمر قید کاٹ رہے ہیں، مبینہ طور پر معمولی فالج کا شکار ہوئے ہیں۔ ان کے بیٹے ڈارکو نے حالت کو ’’بہت سنگین‘‘ قرار دیتے ہوئے سربیا میں علاج کی اجازت دینے کا مطالبہ کیا ہے، جبکہ حکام کی جانب سے باضابطہ تصدیق سامنے نہیں آئی۔
بوسنیا اور سربیا کے جنگی مجرم راٹکو ملاڈچ Ratko Mladic، جو اس وقت نیدرلینڈز کے شہر دی ہیگ میں اقوام متحدہ کی تحویل میں عمر قید کی سزا کاٹ رہے ہیں، کی صحت سے متعلق تشویشناک خبریں سامنے آئی ہیں۔ رپورٹس کے مطابق وہ ایک ’’معمولی‘‘ یا ’’خاموش‘‘ فالج کا شکار ہوئے ہیں، جس کے بعد ان کی حالت بتدریج خراب ہو رہی ہے۔ یہ معلومات ان کے بیٹے ڈارکو نے بوسنیائی سرب پبلک ٹیلی ویژن کو انٹرویو دیتے ہوئے فراہم کیں۔ انہوں نے بتایا کہ جمعہ کے روز ایک اقوام متحدہ کے مجاز ڈاکٹر نے ان سے رابطہ کر کے ابتدائی طبی تفصیلات شیئر کیں۔ انہوں نے کہا کہ ’’ڈاکٹر نے مختصر طور پر بتایا کہ ان کے خیال میں یہ ایک خاموش فالج تھا، انہیں سول اسپتال لے جایا گیا، جہاں اسکین اور معائنے کے بعد دوبارہ جیل منتقل کر دیا گیا۔‘‘
یہ بھی پڑھئے: ۶۰؍فیصدامریکی اسرائیل اور نیتن یاہو کوناپسند کرتے ہیں
ڈارکو ملاڈچ کے مطابق ان کے والد کی صحت مسلسل بگڑ رہی ہے۔ انہوں نے واضح الفاظ میں کہا کہ ’’صورتحال بہت سنگین ہے۔‘‘ انہوں نے مزید بتایا کہ خاندان ابھی تک دی ہیگ سے مکمل طبی دستاویزات کا انتظار کر رہا ہے تاکہ سربیا کے ڈاکٹر تفصیلی جائزہ لے سکیں۔ ساتھ ہی انہوں نے امید ظاہر کی کہ ۸۱؍ سالہ ملاڈچ کو انسانی بنیادوں پر سربیا منتقل کر کے علاج کی اجازت دی جا سکتی ہے۔ یاد رہے کہ راٹکو کو ۲۰۱۱ء میں سربیا سے گرفتار کیا گیا تھا، جب وہ تقریباً ۱۶؍ سال تک مفرور رہے۔
یہ بھی پڑھئے: ترکی کا مطالبہ: اسرائیل کو اقوام متحدہ سے معطل کیا جائے، نعمان قرطلمش کا سخت بیان
بعد ازاں، آئی سی سی نے ۲۰۱۷ء میں انہیں بوسنیا کی ۱۹۹۰ء کی دہائی کی جنگ کے دوران نسل کشی، جنگی جرائم اور انسانیت کے خلاف جرائم کا مجرم قرار دیتے ہوئے عمر قید کی سزا سنائی۔ وہ بوسنیائی سرب افواج کے کمانڈر رہے اور انہیں خاص طور پر سراجیو اور ۱۹۹۵ء کے سربیائی نسل کشی میں اپنے کردار کے لیے قصوروار ٹھہرایا گیا، جہاں ۸؍ ہزار سے زائد بوسنیائی مسلمان مردوں اور لڑکوں کو قتل کیا گیا۔ بین الاقوامی عدالتوں نے اس واقعے کو باضابطہ طور پر نسل کشی قرار دیا۔ دی ہیگ میں موجود حکام کی جانب سے ابھی تک ان کی صحت کے بارے میں کوئی باضابطہ بیان جاری نہیں کیا گیا ہے۔ تاہم، ان کے وکلاء طویل عرصے سے یہ مؤقف اختیار کرتے آئے ہیں کہ ملاڈچ شدید علیل اور کمزور ہو چکے ہیں۔
یہ بھی قابل ذکر ہے کہ ۲۰۱۷ء میں ان کے دفاع نے طبی بنیادوں پر عارضی رہائی کی درخواست دی تھی، جبکہ جولائی ۲۰۲۵ء میں اقوام متحدہ کی عدالت نے ان کی جلد رہائی کی ایک اور درخواست مسترد کر دی تھی۔ عدالت کا کہنا تھا کہ ان کی حالت ’’شدید ٹرمینل بیماری‘‘ کے معیار پر پوری نہیں اترتی۔ موجودہ صورتحال نے ایک بار پھر انسانی بنیادوں پر قیدیوں کے علاج اور منتقلی سے متعلق عالمی بحث کو زندہ کر دیا ہے، جبکہ ملاڈچ کے کیس میں قانونی اور اخلاقی دونوں پہلوؤں پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔