• Thu, 29 January, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

گنگا میں انسانی فضلات: برطانوی ماہرِ حیاتیات کے گنگا کے پانی کی ٹیسٹنگ کے ویڈیو نے نئی بحث چھیڑ دی

Updated: January 28, 2026, 10:01 PM IST | New Delhi

ویڈ کے لائیو تجربے کے مطابق، گنگا کے پانی میں ’فیکل کولفورم‘ نامی بیکٹیریا موجود ہے۔ ایسے بیکٹیریا عام طور پر سیوریج سے صاف کئے بنا ندی میں چھوڑے گئے پانی میں پائے جاتے ہیں۔ وہ نتیجہ اخذ کرتے ہیں کہ ”بنیادی طور پر گنگا کا پانی انسانی فضلات سے بھرا ہوا ہے۔“

Photo: X
تصویر: ایکس

برطانوی ماہرِ حیاتیات اور ٹیلی ویژن سے جڑی شخصیت جیریمی ویڈ کی جانب سے شیئر کی گئی ایک ویڈیو کے بعد دریائے گنگا کی آلودگی ایک بار پھر گرما گرم بحث کا مرکز بن گئی ہے۔ انسٹاگرام پر پوسٹ کئے گئے اس ویڈیو میں ویڈ نے گنگا کے پانی کی ٹیسٹنگ کرکے پانی میں انسانی فضلے کی موجودگی کی نشان دہی کی۔ سوشل میڈیا پر یہ ویڈیو وائرل ہوگئی ہے اور لاکھوں صارفین اب تک اسے دیکھ چکے ہیں۔ انٹرنیٹ صارفین نے گنگا میں آلودگی پر اظہار خیال کرتے ہوئے ماحولیاتی انحطاط، عوامی صحت اور مذہبی حساسیت کا حوالہ دیا اور حکومت پر تنقید کی۔ 

 
 
 
 
 
View this post on Instagram
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 

A post shared by River Monsters (@rivermonsters_official)

ٹیلی ویژن سیریز ’ریور مونسٹرز‘ (River Monsters) کی میزبانی کیلئے مشہور جیرمی ویڈ ویڈیو میں ایک سادہ کیمیائی ٹیسٹ کرتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ وہ دو خالی شیشیاں لیتے ہیں جن کی دیواروں پر ایک کیمیل لگایا گیا ہے جو آلودگی کی موجودگی میں اپنا رنگ بدل لیتا ہے۔ طریقے کی وضاحت کرتے ہوئے وہ کہتے ہیں کہ گلابی رنگ صاف پانی کی علامت ہے، جبکہ دیگر رنگ آلودگی کی موجودگی کا اشارہ دیتے ہیں۔ موازنے کیلئے وہ پہلے بوتل بند منرل پانی کو شیشہ میں انڈیلتے ہیں جو گہرے گلابی مائل بھورے رنگ میں بدل جاتا ہے، وہ اسے صاف پانی کے معیار کے مطابق قرار دیتے ہیں۔ اس کے بعد وہ گنگا سے لئے گئے پانی کے نمونے کا ٹیسٹ کرتے ہیں۔ پانی کا رنگ بدل کر ہلکا بھورا ہو جاتا ہے۔ شیشی کو اوپر اٹھاتے ہوئے ویڈ وضاحت کرتے ہیں کہ یہ تجربہ بتاتا ہے کہ گنگا کے پانی میں ’فیکل کولفورم‘ (faecal coliform) نامی بیکٹیریا موجود ہے۔ ایسے بیکٹیریا عام طور پر سیوریج سے صاف کئے بنا ندی میں چھوڑے گئے پانی میں پائے جاتے ہیں۔ وہ نتیجہ اخذ کرتے ہیں کہ ”بنیادی طور پر گنگا کا پانی انسانی فضلات سے بھرا ہوا ہے۔“

یہ بھی پڑھئے: ۲۰۲۵ء میں ہندوستان کو مطلوب ۷۱؍ مفرور، غیرممالک میں پناہ لئے ہوئے ہیں، ۱۲؍ سال میں سب سے زیادہ تعداد

ویڈ نے دریائے گنگا، جسے لاکھوں ہندو مقدس مانتے ہیں، میں آلودگی سے متعلق بات چیت کے گرد گھومنے والی ثقافتی اور مذہبی حساسیت پر بھی روشنی ڈالی۔ انہوں نے نوٹ کیا کہ گنگا میں آلودگی کی نشان دہی کرنا کچھ عقیدت مندوں کیلئے سخت دل آزاری کا باعث ہو سکتا ہے۔ اپنے دورے کے دوران ایک سادھو سے ملاقات کا ذکر کرتے ہوئے ویڈ کہتے ہیں کہ انہیں دریا میں رسمی غسل کی دعوت دی گئی تھی اور انہوں نے دل آزاری سے بچنے کیلئے اس میں حصہ لینے کا فیصلہ کیا۔

ویڈیو میں انہیں دریا میں داخل ہوتے اور رسم کی پیروی کرنے کی کوشش کرتے دکھایا گیا ہے۔ بعد میں وہ تبصرہ کرتے ہیں کہ انہیں اندازہ نہیں تھا کہ اس میں تیرنا بھی شامل ہوگا۔ وہ کہتے ہیں کہ ”یہ درحقیقت کافی تازگی بخش ہے، حالانکہ میں اس کے بارے میں نہ سوچنے کی کوشش کر رہا ہوں جو میں اپنے اردگرد دیکھ رہا ہوں، خاص طور پر وہ جو سطح پر تیر رہا ہے اور جس پر میں قدم رکھ رہا ہوں۔ یہ بہت نرم اور لیس دار محسوس ہو رہا ہے۔“ ویڈیو میں سادھو کو دریا کا پانی پیتے ہوئے بھی دکھایا گیا ہے، جبکہ ویڈ کا کہنا ہے کہ انہوں نے پانی کو صرف اپنے منہ سے چھوا ہے اور یہ دیکھنا ابھی باقی ہے کہ آیا وہ بیمار ہوتے ہیں یا نہیں۔

یہ بھی پڑھئے: یورپی یونین کے ساتھ آزادانہ تجارت کا تاریخی معاہدہ، ۹۹؍ فیصد اشیاء ٹیرف سے مستثنیٰ

اس ویڈیو کو دیکھ کر ہزاروں صارفین نے اپنا ردعمل ظاہر کیا۔ کئی صارفین نے مذہبی عقائد اور ماحولیاتی ذمہ داری کے درمیان ٹکراؤ پر تنقید کی۔ ہزاروں صارفین نے عوامی صحت کے خطرات اور سیوریج منیجمنٹ پر تشویش سے لے کر دریا کی صفائی کے پروگراموں پر حکومتی اخراجات پر مایوسی تک کا اظہار کیا۔ دیگر افراد کا کہنا تھا کہ یہ ویڈیو دریا کے تحفظ کیلئے سائنسی شواہد اور پائیدار طریقوں کو ترجیح دینے کی ضرورت کو اجاگر کرتی ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ صرف عقیدہ آلودگی کے دیرینہ مسائل کو حل نہیں کر سکتا۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK