Inquilab Logo Happiest Places to Work

برطانوی رکن پارلیمنٹ نے لیورپول میں جیف بیزوس سے منسلک سرمایہ کاری کی مذمت کی

Updated: August 15, 2026, 10:14 PM IST | London

برطانوی رکن پارلیمنٹ زارا سلطانہ نے لیورپول کلب میں جیف بیزوس سے منسلک سرمایہ کاری کی مذمت کی،انہوں نے امیزون کے لیبر ریکارڈ اور اسرائیل سے تعلقات کا حوالہ دیا، جبکہ لیورپول کے سپورٹریونین نے نئے سرمایہ کاروں کی جانچ پڑتال کا مطالبہ کیا ہے۔

Amazon founder Jeff Bezos. Photo: INN
امیزون کے بانی جیف بیزوس۔ تصویر: آئی این این

برطانوی رکن پارلیمنٹ زارا سلطانہ نے جمعہ کو لیورپول فٹ بال کلب میں ارب پتی امیزون کے بانی جیف بیزوس پر مشتمل ایک کنسورشیم کو ایک حصہ فروخت کرنے کی مذمت کی اور حامیوں (سپورٹرز) سے اس سرمایہ کاری کی مخالفت کرنے کا مطالبہ کیا۔لیورپول کے مالکان فینوے اسپورٹس گروپ (ایف ایس جی) نے پریمیئر لیگ کلب میں تقریباً ایک تہائی حصہ۱۸۹۲؍ ہولڈنگز کو فروخت کرنے پر اتفاق کیا ہے، جو ایک کنسورشیم ہے جس کی قیادت سابق کوئنز پارک رینجرز کے چیئرمین امیت بھاٹیہ کر رہے ہیں، اور اس میں متل خاندان کے ٹرسٹ، ای ای کیپیٹل اور کے فائیو اسپورٹس شامل ہیں، جس میں بیزوس بطور مرکزی سرمایہ کار ہیں۔

یہ بھی پڑھئے: پولینڈ میں بڑا سائبر حملہ، ۱۹؍ ملین افراد کی طبّی معلومات چوری

 انادولو ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، ایف ایس جی اکثریتی ملکیت اور آپریشنل کنٹرول برقرار رکھے گا۔آزاد رکن پارلیمنٹ سلطانہ نے امریکی سوشل میڈیا کمپنی ایکس پر لکھا، ’’جیف بیزوس کے کنسورشیم کی جانب سے لیورپول فٹ بال کلب کا تقریباً ایک تہائی حصہ خریدنے کی خبر سن کر میں بیزار ہوں۔‘‘ انہوں نے اپنے تحفظات میں امیزون کے مزدوروں کے حقوق اور ٹریڈ یونین پر متنازع ریکارڈ کا حوالہ دیا اور خبردار کیا کہ’’ لیورپول کسی ارب پتی کے پورٹ فولیو میں محض ایک اور اثاثہ نہ بن جائے۔‘‘ سلطانہ نے پراجیکٹ نمبس میں امیزون کی شمولیت کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا، جو امیزون ویب سروسیز اور گوگل پر مشتمل ایک کلاؤڈ کمپیوٹنگ معاہدہ ہے جو اسرائیلی حکومت کو خدمات فراہم کرتا ہے۔ بعد ازاں انہوں نے الزام عائد کیا کہ امیزون کی ٹیکنالوجی غزہ کی پٹی کے خلاف اسرائیل کی نسل کشی کی جنگ کے دوران اسرائیلی ریاستی ڈھانچے کو تقویت دینے میں مدد کرتی ہے، اور سوال اٹھایا کہ کیا یہ سرمایہ کاری لیورپول کی شناخت اور یکجہتی کی تاریخی روایت کے مطابق ہے۔
سلطانہ نے لکھا، ’’لیورپول ایک کاروبار سے زیادہ ہے، یہ ایک کمیونٹی ہے۔‘‘انہوں نے حامیوں سے اس سرمایہ کاری کے خلاف متحرک ہونے کی اپیل کی، اور یورپی سپر لیگ اور ٹکٹوں کی قیمتوں میں اضافے کے خلاف مہم کا حوالہ دیا۔ان کا کہنا تھا، ’’حامیوں کی آواز ہے۔ ہم اسے پہلے بھی استعمال کر چکے ہیں۔ ہمیں اسے دوبارہ ضرور استعمال کرنا چاہیے۔‘‘ مزید برآں لیورپول کی تسلیم شدہ سپورٹرز یونین، ’’اسپرٹ آف شینکلی‘‘نے بھی کہا کہ اس معاہدے نے حامیوں کے ذہن میں شکوک پیدا کردئے ہیں۔گروپ نے کہا کہ اس نے اگلے مراحل کے بارے میں برطانیہ کے آزاد فٹ بال ریگولیٹر سے رابطہ کیا ہے اور پریمیئر لیگ کی جانب سے درکارڈیو ڈیلیجنس کے بارے میں بھی وضاحت طلب کرے گا۔

یہ بھی پڑھئے: برطانوی خیراتی ادارے نےعطیات سابق اسرائیلی فوجیوں کی فاؤنڈیشن تک پہنچائے: تحقیق

علاوہ ازیں ایس او ایس نے کہا کہ وہ اس لین دین سے متعلق خدشات پر اپنے اراکین اور لیورپول کے وسیع تر مداحوں (فین بیس) سے مشاورت کرے گا۔انہوں نے کہا، ’’ایف ایس جی کے عہدوں اور کنسورشیم کے سربراہ امیت بھاٹیہ کے سابقہ کرداروں کو دیکھتے ہوئے، ہم بہتر طور پر سمجھنے کے لیے بات چیت کریں گے کہ اس فروخت اور اس کے نتیجے میں ہونے والی تبدیلیوں کا لیورپول ایف سی اور اس کے مداحوں کے مستقبل پر کیا مطلب ہوگا۔‘‘سپورٹرز یونین نے ملکیت کی جانچ پڑتال کی اہمیت پر زور دیا اور کہا کہ لیورپول کے مداحوں کو اچھی حکمرانی اور کلب کی ملکیت کی اہمیت کی کوئی یاد دہانی کی ضرورت نہیں۔‘‘
واضح رہے کہ انادولو ایجنسی نے اطلاع دی تھی کہ لیورپول کے حامیوں نے مجوزہ سرمایہ کاری کے بارے میں یقین دہانیاں طلب کی تھیں، جس میں سرمایہ کاروں کی شناخت، ان کے ممکنہ اثر و رسوخ، اور کیا ان کی شمولیت کلب کی اقدار کے مطابق ہے، جیسے سوالات شامل تھے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK