Updated: July 10, 2026, 8:56 PM IST
| New Delhi
بی ایس این ایل نے بنا موبائل ٹاور کے چلنے والا سیٹلائٹ فون لانچ کیا، یہ قریبی۴؍جی یا۵؍ جی ٹاورسے منسلک ہونے کے بجائے براہِ راست زمین کے گرد گردش کرنے والے سیٹلائٹس سے رابطہ کرتا ہے، جس کے سبب یہ سمندر، پہاڑ اور جنگل میں بھی بلا روک اپنی خدمات انجام دے سکتا ہے۔
بی ایس این ایل نے بنا موبائل ٹاور کے چلنے والا سیٹلائٹ فون لانچ کیا، یہ قریبی۴؍جی یا۵؍ جی ٹاورسے منسلک ہونے کے بجائے براہِ راست زمین کے گرد گردش کرنے والے سیٹلائٹس سے رابطہ کرتا ہے، جس کے سبب یہ سمندر، پہاڑ اور جنگل میں بھی بلا روک اپنی خدمات انجام دے سکتا ہے۔ سرکاری ٹیلی کام کمپنی نے اس ہینڈ سیٹ کی قیمت ہندوستان میں ایک لاکھ ۳۴؍ ہزار ۱۶۶؍روپے (ٹیکس سمیت) ،مقرر کی ہے۔ اگرچہ یہ قیمت جدید ترین پریمیم اسمارٹ فونز سے بھی کہیں زیادہ ہے، لیکن یہ ڈیوائس بالکل مختلف مقصد کے لیے بنائی گئی ہے۔ یہ قریبی۴؍جی یا ۵؍جی ٹاور سے منسلک ہونے کے بجائے براہِ راست زمین کے گرد گردش کرنے والے سیٹلائٹس سے رابطہ کرتا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: جموں کشمیر: متنازع موا د کی تلاش، اسکولوں کو تمام کتابوں کی اسکریننگ کا حکم
بعد ازاں یہ فون ان صارفین کے لیے ہے جنہیں قابل اعتماد مواصلات کی ضرورت ہوتی ہے جہاں روایتی موبائل نیٹ ورک نہیں پہنچ سکتے۔ واضح رہے کہ عام اسمارٹ فون کے برعکس، سیٹلائٹ فون کو خصوصی ہارڈویئر کی ضرورت ہوتی ہے جو زمین سے ہزاروں کلومیٹر دور سیٹلائٹس کے ساتھ رابطہ کر سکے۔یہ ہینڈ سیٹ عالمی سیٹلائٹ مواصلاتی نیٹ ورکس جیسے انمارسیٹ پر بھی انحصار کرتا ہے، جو اسے دور دراز پہاڑوں، صحراؤں، جنگلات اور سمندری مقامات پر بھی وائس کال کرنے کا اہل بناتا ہے۔ اس کے علاوہ سیٹلائٹ مواصلاتی انفراسٹرکچر کی تعمیر اور دیکھ بھال روایتی سیلولر نیٹ ورکس کو چلانے کے مقابلے میں نمایاں طور پر مہنگی ہے۔ صارفین کی کم تعداد کا مطلب یہ بھی ہے کہ پیداواری حجم کم رہتا ہے، جس سے ہر ڈیوائس کی لاگت بڑھ جاتی ہے۔
علاوہ ازیںبی ایس این ایل کا کہنا ہے کہ یہ سیٹلائٹ فون ان پیشہ ور افراد اور تنظیموں کے لیے ہے جو موبائل کوریج کے باہرعلاقوں میں کام کرتے ہیں۔ ممکنہ صارفین میں دفاعی اہلکار، آفات سے نمٹنے والی ٹیمیں، بحری کارکنان، کان کن، دور دراز کے صنعتی آپریٹرز، محققین، کوہ پیما اور دور دراز علاقوں سے گزرنے والے زائرین شامل ہیں۔ اس میں SOS ایمرجنسی فیچر بھی شامل ہے، جو قدرتی آفات یا راحت رسانی کے دوران ، جب روایتی ٹیلی کام نیٹ ورکس ناکام ہو سکتے ہیں، یہ فونمفید ثابت ہوتا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: سری نگر میں کئی برس بعد لیکچررس کی تقرری ، وزیر اعلیٰ نے۱۱۷؍ تقرری نامے تقسیم کئے
دریں اثناء اسے فوری طور پر خریدا نہیں جا سکتا ہے۔ جس کی وجہ یہ ہے کہ ہندوستان میں قومی سلامتی کے خدشات کے سبب سیٹلائٹ فون کو سختی سے ریگولیٹ کیا جاتا ہے۔ ڈیوائس خریدنے یا استعمال کرنے سے پہلے، صارفین کو محکمہ ٹیلی کمیونیکیشن (DoT) سے اجازت لینی ہوتی ہے۔ غیر مجاز سیٹلائٹ فون استعمال کرنے پر ہندوستانی ٹیلی کام ضوابط کے تحت قانونی کارروائی ہو سکتی ہے۔واضح رہے کہ یہ لانچ ایسے وقت میں ہوا ہے جب بی ایس این ایل پورے ہندوستان میں اپنے باقاعدہ موبائل نیٹ ورک کی توسیع جاری رکھے ہوئے ہے۔ کمپنی نے حال ہی میں اعلان کیا کہ اس نے تقریباً ۹۹۰۰۰؍ ۴؍جی سائٹ نصب کر لی ہیں، جس میں کوریج کو مزید بڑھانے کے منصوبے ہیں۔تاہم، ہزاروں موبائل ٹاور بھی ملک کے ہر کونے تک نہیں پہنچ سکتے۔ یہیں پر سیٹلائٹ مواصلات اہم ہو جاتا ہے۔زیادہ تر لوگوں کے لیے، ایک اسمارٹ فون ہی صحیح انتخاب ہے۔ لیکن ان لوگوں کے لیے جو ایسی جگہ کام کرتے ہیں جہاں موبائل سگنل نہیں رہتا، بی ایس این ایل کا سیٹلائٹ فون ایسی خدمات پیش کرتا ہے جو کوئی عام ہینڈ سیٹ نہیں دے سکتا ۔