کاکڑ گاؤں میں ایک ہی مذہب کے دو گروہوں میں اس معاملے پر تنازع پیدا ہوگیا،پولیس نے غلط معلومات پھیلانے والوں کے خلاف سخت کارروائی کا انتباہ دیتے ہوئے علاقے میںبندوبست بڑھایا۔
EPAPER
Updated: February 24, 2026, 8:06 PM IST | Ali Imran | Buldana
کاکڑ گاؤں میں ایک ہی مذہب کے دو گروہوں میں اس معاملے پر تنازع پیدا ہوگیا،پولیس نے غلط معلومات پھیلانے والوں کے خلاف سخت کارروائی کا انتباہ دیتے ہوئے علاقے میںبندوبست بڑھایا۔
ضلع کے چکھلا کاکڑ گاؤں میں چھترپتی شیواجی مہاراج کا مجسمہ نصب کرنے پر تنازع پیدا ہو گیا ہے۔ یہ معاملہ گزشتہ چار دنوں سے چل رہا ہے اور گاؤں میں کشیدگی کا ماحول ہے۔ حالات کو قابو میں رکھنے کیلئے انتظامیہ نے دفعہ ۱۶۳؍کے تحت کرفیو نافذ کر دیا ہے۔ پولیس سپرنٹنڈنٹ نیلیش تامبے نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ سوشل میڈیا پر پھیلائی جا رہی افواہوں پر یقین نہ کریں۔
دریں اثنا، پولیس نے اس معاملے میں گاؤں کے سرپنچ سمیت کل ۲۳ ؍لوگوں کو گرفتار کیا ہے جبکہ چالیس سے زیادہ لوگوں کے خلاف مقدمات درج کیے گئے ہیں۔ یہ سارا معاملہ آدھی رات کو مورتی کی تنصیب سے شروع ہوا ہے۔ ۴؍فروری کی رات کو نامعلوم افراد نے بغیر اجازت کے چیکھلا کاکڑ گاؤں کی آنگن واڑی علاقے میں شیواجی مہاراج کا مجسمہ لگادیا۔ کہا جارہا ہے کہ اس وقت سینکڑوں شیو بھکت وہاں موجود تھے۔ تاہم مجسمے کی تنصیب کیلئے حکومت سے کوئی اجازت نہیں لی گئی۔
یہ بھی پڑھئے:لندن: بہرے افراد کیلئے تراویح، اشاروں میں مکمل قرآن کی تلاوت
یہ معاملہ انتظامیہ کے علم میں آنے کے بعد پولیس نے ۵؍فروری کو محکمہ ریونیو کو رپورٹ بھیج کر مجسمہ ہٹانے کی سفارش کی تھی۔ ریونیو انتظامیہ نے رپورٹ کی مکمل چھان بین کی۔ اس کے بعد لونار تحصیل آفس نے ۱۱؍فروری کو مقامی گرام پنچایت کو ایک حکم جاری کرتے ہوئے مناسب کارروائی کرنے اور مورتی کو ہٹانے کی واضح ہدایات دی تھیں۔ انتظامیہ کا کہنا تھا کہ مجسمہ نامعلوم افراد کی جانب سے اور بغیر اجازت کے نصب کیا گیا تھا جس سے یہ قانونی طور پر ناقابل قبول ہے۔ لہٰذا، یہ واضح ہو گیا کہ انتظامیہ کی کارروائی کی ایک سرکاری بنیاد تھی، یہ دعویٰ کیا جا رہا ہے۔ اس دوران، مورتی کو ہٹانے کی ضد پر گاؤں میں ایک ہی سماج کے دو گروہ آمنے سامنے آگئے ماحول کشیدہ ہو گیا۔
یہ بھی پڑھئے:سیامی کھیر بولیں کمزوری دکھانا سب سے بڑا چیلنج
صورتحال کو خراب ہونے سے روکنے کے لیے پولیس نے سخت سیکوریٹی تعینات کی ۔ پھر بھی بعض مقامات پر ہاتھا پائی اور مار پیٹ کے واقعات پیش آئے۔ اس پس منظر میں پولیس نے کیس درج کرکے کارروائی شروع کردی ہے۔ چیکھلا کاکڑ کے سرپنچ گنیش کاکڑ سمیت ۲۳؍ لوگوں کو گرفتار کیا گیا ہے۔ انتظامیہ نے واضح کیا ہے کہ امن و امان برقرار رکھنے کے لیے سخت اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ پولیس گاؤں میں کرفیو نافذ کرنے کے بعد حالات کو قابو میں لانے کی کوشش کر رہی ہے۔ شہریوں سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ افواہوں پر یقین نہ کریں اور سوشل میڈیا پر کوئی اشتعال انگیز پوسٹ شیئر نہ کریں۔