نیپال کے سیلاب میں پھنس جانے والے ۱۰۶ ؍زائرین نے ناگپور پہنچنے پر وہاں کے خوفناک حالات بیان کئے۔ پڑوسی ملک کے انتظامیہ کا شکریہ ادابھی کیا۔ ان میں سے ۱۰۲ ؍افراد ٹرین کے ذریعے اور ۴؍افراد ہوائی جہاز سے آئے۔
EPAPER
Updated: August 31, 2026, 3:49 PM IST | Ali Imran | Nagpur
نیپال کے سیلاب میں پھنس جانے والے ۱۰۶ ؍زائرین نے ناگپور پہنچنے پر وہاں کے خوفناک حالات بیان کئے۔ پڑوسی ملک کے انتظامیہ کا شکریہ ادابھی کیا۔ ان میں سے ۱۰۲ ؍افراد ٹرین کے ذریعے اور ۴؍افراد ہوائی جہاز سے آئے۔
نیپال میں سیلاب کی وجہ سے کٹھمنڈو میں پھنس جانے والے ناگپور ضلع کے ۱۰۶ ؍زائرین وطن پہنچ گئے۔ ان میں سے ۱۰۲ ؍ افرادٹرین سے اور ۴؍ افراد ہوائی جہاز کے ذریعے ناگپور لوٹے۔ اطلاع کے مطابق ناگپور ضلع کے تقریباً ۱۰۶ شہریوں کا ایک گروپ ۲۲؍اگست کو سیاحت اور مذہبی مقامات کی زیارت کیلئے کٹھمنڈو گیا تھا۔ یہ گروپ بنیادی طور پر بزرگ شہریوں پر مشتمل تھا۔ نیپال میں ۲۶ ؍اگست کو آئے تباہ کن سیلاب کے سبب ان کے اہل خانہ اُن کی حفاظت کے تئیں تشویش میں مبتلا تھے۔ ضلعی انتظامیہ نے واضح کیا کہ قدرتی آفت کا مذکورہ گروپ کے شہریوں پر کوئی برا اثر نہیں پڑا۔ تاہم سیاحوں کو واپسی کے سفر کیلئے طے شدہ بس خدمات کی عدم دستیابی کی وجہ سے ہندوستان واپس آنے میں چیلنج کا سامنا کرنا پڑا۔ اس دوران نیپال انتظامیہ کی جانب سے متبادل بسوں کا انتظام کرنے کے بعدزائرین کو ۲۷؍اگست کو کٹھمنڈو سے جنک پور کے راستے نیپال- بھارت سرحد کی طرف روانہ کیا گیا۔ ہندوستان میں داخل ہونے کے بعد ٹرین کے ذریعے مزید سفر کے انتظامات کئے گئے۔ بھارت کی حدود میں داخل ہونے کے بعد زائرین پٹنہ پہنچے۔ وہاں سے ۱۰۲ ؍ افراد نے پٹنہ-پورنا ایکسپریس سے ناگپور کی طرف سفر شروع کیا۔
یہ بھی پڑھئے:مارچ ۲۰۲۷ء سے ملک کے تمام اداروں میں ’آئی ایس ٹی‘ پر عمل درآمد لازمی
کئی دنوں کے انتظار کے بعد ہندوستان واپسی پر زائرین اور ان کے اہل خانہ نے راحت کا سانس لیا۔ پٹنہ-پورنا ایکسپریس اتوار ۳۰؍اگست کو صبح تقریباً ساڑھے ۴؍ بجے ناگپور ریلوے اسٹیشن پہنچی۔ انتظامیہ نے زائرین کی آمد کے بعد انہیں ضروری سہولیات فراہم کرنے کی تیاریاں کر رکھی تھیں اور سفر کے دوران بھی متعلقہ ادارے ان کی نقل و حرکت پر نظر رکھے ہوئے تھے۔
ان میں سے۴؍ افراد نے ہوائی جہاز سے واپسی کا سفر کیا اور ۲۸؍اگست کی سہ پہر وہ کٹھمنڈو سے ہوائی جہاز کے ذریعے دہلی پہنچے پھر وہ رات ۸؍بجے کیرالا ایکسپریس سے ناگپور کیلئے روانہ ہوئے اورسنیچر کو ناگپور پہنچے۔
نیپال میں سیلاب کی وجہ سے آنے والی مشکلات کے بعد انتظامیہ، نیپالی ایجنسیوں اور متعلقہ ٹرانسپورٹیشن سسٹم کے تعاون سے بالآخر اتوار کو تمام ۱۰۶ ؍زائرین کی واپسی ہوئی۔
نیپال سے ناگپور لوٹنے والےزائرین نے بتایا کہ اس خوفناک سیلاب کے دوران ایک بس ہماری آنکھوں کے سامنے سیلاب میں بہہ گئی۔ سڑکیں اور پل ٹوٹ گئے، ہر طرف خوف کا ماحول تھا۔ تاہم انتظامیہ کی کوششوں سے ہم اس مشکل صورتحال سے بحفاظت نکل آئے۔ زائرین نے یہ بھی بتایا کہ شروع میں موسم اچھا تھا۔ ہم دریا عبور کر کے ایک دن پہلے کٹھمنڈو واپس آئے تھے۔ ہمیں سیلاب کی خوفناک حالت کا علم نہیں تھا لیکن سیلاب کی شدت کا پتہ چلتے ہی خوف کا ماحول پیدا ہوگیا۔ مکتی ناتھ علاقے میں سڑکیں اور پل ٹوٹ گئے۔ سیلاب کی وجہ سے کئی سڑکیں بند ہو گئیں۔ ہم کٹھمنڈو کی طرف بڑھے لیکن آگے بڑھنا خطرناک تھا۔انہوں نے مزید بتایا کہ سیلاب کی وجہ سے صرف ایک سڑک دستیاب تھی۔ ہماری بس میں خواتین اور بزرگ شہری تھے۔ ہم ہر لمحہ خوفزدہ رہتے، ہم کل ۱۰۶ ؍لوگ تھے۔
یہ بھی پڑھئے: مہاراشٹر: ۰۷ء۲؍ کروڑ ووٹر مستقل طور پر خارج نہیں ہوئے: چیف الیکٹورل افسر
’’ہرطرف خوف کا ماحول تھا‘‘
یوگیش گاونڈے نے بتایا کہ واپسی کے سفر پر ایک عقیدتمند کو اچانک دل کا دورہ پڑا۔ اس کا فوری علاج کیا گیا۔ دریں اثناء ناگپور کے رکن اسمبلی پروین ڈٹکے سے رابطہ کیا گیا اور صورتحال کے بارے میں اطلاع دی۔ اس کے بعد انہوں نے وزیر اعلیٰ دیویندر فرنویس سے رابطہ کیا۔ کٹھمنڈو سے واپسی کے دوران ہمیں پہاڑی سڑکوں پر بھی بڑی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ تیز بارش، سڑک پر گرے درخت اور سیلابی پانی نے سفر کو خطرناک بنا دیا تھا۔ ہم ۴؍ بسوں میں ہندوستان روانہ ہوئے۔ بارش تیز تھی۔ ہم سامنے والوں کو بھی نہیں دیکھ سکتے تھے۔ خوفناک حالات سے گزرکر آخر کار ہم نیپال کی سرحد عبور کرکے ہندوستان میں داخل ہوئے۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ بہار ریاست کے مقامی انتظامیہ اور پولیس نے بھی مدد کی۔ ہم بہت مشکل حالات میں پھنس گئے تھے۔ ہمارے سامنے بس بہہ گئی، سڑکیں ٹوٹی ہوئی تھیں اور ہر طرف خوف کا ماحول تھا۔ تاہم وزیر اعلیٰ فرنویس، پروین ڈٹکے اور ہندوستان اور نیپال کے انتظامیہ کی مدد سے ہم بحفاظت واپس آئے۔