کمبوڈیا اور تھائی لینڈ کے درمیان سرحدی جھڑپیں اتوار کو دوسرے ہفتے میں داخل ہوگئیں، بعد ازاں تھائی حکام نے صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے اس دعوے سے انکار کردیا کہ دونوں ممالک مسلح جھڑپوں کو روکنے کے لیے جنگ بندی پر متفق ہوگئے ہیں۔
EPAPER
Updated: December 15, 2025, 12:04 PM IST | Bangkok
کمبوڈیا اور تھائی لینڈ کے درمیان سرحدی جھڑپیں اتوار کو دوسرے ہفتے میں داخل ہوگئیں، بعد ازاں تھائی حکام نے صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے اس دعوے سے انکار کردیا کہ دونوں ممالک مسلح جھڑپوں کو روکنے کے لیے جنگ بندی پر متفق ہوگئے ہیں۔
کمبوڈیا اور تھائی لینڈ کے درمیان سرحدی جھڑپیں اتوار کو دوسرے ہفتے میں داخل ہوگئیں، بعد ازاں تھائی حکام نے صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے اس دعوے سے انکار کردیا کہ دونوں ممالک مسلح جھڑپوں کو روکنے کے لیے جنگ بندی پر متفق ہوگئے ہیں۔یہ تنازعہ نوآبادیاتی دور میں سرحد کی حدود کے تعین سے جڑا ہوا ہے جو دونوں ممالک کے درمیان۸۰۰؍ کلومیٹر تک پھیلی ہوئی ہے۔ اہلکاروں کے مطابق، اس تنازعے کے نتیجے میں تقریباً۸؍ لاکھ افراد بے گھر ہوئے ہیں۔ہلکاروں کے مطابق، کم از کم۲۵؍ افراد ہلاک ہوچکے ہیں جن میں۱۴؍ تھائی فوجی اور۱۱؍ کمبوڈیائی شہری شامل ہیں۔ جبکہ دونوں جانب ایک دوسرے پر جھڑپوں کو بھڑکانے کا الزام عائد کیا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: کانگومیں خانہ جنگی کی تازہ لہر،۷۰؍ سے زائدافراد ہلاک، ۲؍لاکھ افرادبے گھر
دریں اثناء صدر ٹرمپ، جنہوں نے اس سے قبل جنگ بندی اور اس کے بعد معاہدے کی حمایت کی تھی، نے جمعہ کو کہا تھا کہ جنوب مشرقی ایشیائی پڑوسی لڑائی روکنے پر متفق ہوگئے ہیں۔ لیکن تھائی لیڈروں نے بعد میں کہا کہ کوئی جنگ بندی معاہدہ نہیں ہوا ہے، اور دونوں حکومتوں نے اتوار کی صبح جھڑپوں کے جاری ہونے کی تصدیق کی۔تھائی وزارت دفاع کے ترجمان سراسانٹ کونگسری نے کہا کہ کمبوڈیا نے رات بھر اور اتوار تک متعدد سرحدی صوبوں پر گولہ باری اور بمباری کی۔ دوسری طرف کمبوڈیا کی وزارت دفاع کی ترجمان مالی سوچیاتا نے کہا کہ تھائی لینڈ آدھی رات سے سرحدی علاقوں میں مارٹر اور بم داغ رہا ہے۔
بعد ازاں کمبوڈیا نےسنیچر کو تھائی لینڈ کے ساتھ اپنی سرحدی گذرگاہیں بند کردیں، جس سے مزدور مہاجرین پھنس گئے۔سرحد کے پار تھائی لینڈ کے صوبے سورن میں،۳۸؍ سالہ موسیقی کے استاد واتھناچائی کمنگام نے اے ایف پی کو بتایا کہ انہوں نے اتوار کی صبح تاریک آسمان پر کئی راکٹوں کو گزرتے دیکھا جس کے بعد دور دھماکے سنائی دیئے۔جولائی کی جھڑپوں کے بعد سے، جن میں درجنوں افراد ہلاک ہوئے تھے، واتھناچائی کنکریٹ بنکرز کی دیواروں پر ٹینکوں، تھائی پرچموں اور زخمیوں کو اٹھائے فوجیوں کی رنگین تصاویر بنا رہے ہیں۔ انہوں نے گزشتہ ہفتے اے ایف پی کو بتایا، "جیسے جیسے میں لڑائی سے گزر رہا ہوں، میں صرف اس لمحے کو ریکارڈ کرنا چاہتا ہوں ،یہ ظاہر کرنے کے لیے کہ یہ واقعی ہماری حقیقت ہے۔‘‘
لڑائی کے درمیان، تھائی فوج نے صوبوں سا کایو اور ٹراٹ کے کچھ حصوں میں رات۷؍ بجے سے صبح ۵؍ بجے تک رات کا کرفیو نافذ کردیا ہے۔جبکہ آسیان کی صدارت کرنے والا ملک ملائیشیا کے ساتھ امریکہ اور چین نے جولائی میں جنگ بندی کروانے میں ثالثی کی تھی۔ اکتوبر میں، صدر ٹرمپ نے تھائی لینڈ اور کمبوڈیا کے درمیان ایک مشترکہ اعلامیے کی حمایت کی تھی، جس میں دونوں ممالک کے جنگ بندی کو طول دینے پر اتفاق کرنے کے بعد نئے تجارتی معاہدوں کو فروغ دیا گیا تھا۔لیکن تھائی لینڈ نے اگلے مہینے اس معاہدے کو معطل کردیا، جب سرحد پر تھائی فوجی بارودی سرنگوں سے زخمی ہوئے تھے۔صدر ٹرمپ نے گزشتہ ہفتے وعدہ کیا تھا کہ وہ پہلے طے پانے والی جنگ بندی کو دوبارہ معمول پر لانے کے لیے ’’ فون کالز‘‘ کریں گے۔ لیکن تھائی وزیر اعظم آنوتِن چارنویراکل نے سنیچر کو صحافیوں سے کہا کہ’’ جمعہ کو ہونے والی فون کال میں صدر ٹرمپ نے یہ ذکر نہیں کیا کہ ہمیں جنگ بندی کرنی چاہیے۔‘‘تاہم انہوں نے یہ بھی کہا کہ’’ امریکی صدر نے یہ ضمانت دی ہے کہ تھائی لینڈ کو دوسرے ممالک سے بہتر فوائدحاصل ہوں گے۔‘‘