Inquilab Logo Happiest Places to Work

کیمبرج: کم عمر ترین سیاہ فام پروفیسر جیسن آرڈے مستعفی

Updated: August 06, 2026, 6:03 PM IST | London

برطانیہ کی ممتاز یونیورسٹی کیمبرج کے شعبۂ سماجیات کے پروفیسر جیسن آرڈے، جنہیں ۲۰۲۳ء میں یونیورسٹی کی تاریخ کا کم عمر ترین سیاہ فام پروفیسر مقرر کیا گیا تھا، نے سرقۂ علمی اور اپنی تعلیمی و پیشہ ورانہ اسناد سے متعلق الزامات کے درمیان اپنے عہدے سے فوری طور پر استعفیٰ دے دیا ہے۔ یہ فیصلہ اس وقت سامنے آیا جب یونیورسٹی نے ان کی تعلیمی قابلیت، اعزازی تقرریوں اور تحقیق سے متعلق سامنے آنے والی نئی معلومات کی بنیاد پر باضابطہ تحقیقات شروع کرنے کا اعلان کیا۔

Professor Jason Arde, University of Cambridge. Photo: X
یونیورسٹی آف کیمبرج کے پروفیسر جیسن آرڈے۔ تصویر: ایکس

برطانیہ کی معروف یونیورسٹی آف کیمبرج کے پروفیسر جیسن آرڈے نے سرقۂ علمی (پلیجرزم) اور اپنی تعلیمی و پیشہ ورانہ اسناد سے متعلق بڑھتے ہوئے تنازع کے بعد اپنے عہدے سے فوری طور پر استعفیٰ دے دیا ہے۔ ان کا استعفیٰ ایسے وقت سامنے آیا جب یونیورسٹی نے اعلان کیا کہ ان کے تعلیمی ریکارڈ، اعزازی تقرریوں اور دیگر دعووں سے متعلق سامنے آنے والی نئی معلومات کی روشنی میں باضابطہ تحقیقات شروع کی جا رہی ہیں، جبکہ تحقیقی بدعنوانی سے متعلق پہلے سے موجود شکایات بھی اپنی مقررہ پالیسی کے تحت زیرِ سماعت رہیں گی۔ جیسن آرڈے کو ۲۰۲۳ء میں کیمبرج یونیورسٹی میں شعبۂ سماجیات کا پروفیسر مقرر کیا گیا تھا۔ اس وقت وہ یونیورسٹی کی تاریخ کے کم عمر ترین سیاہ فام پروفیسر بنے تھے اور ان کی زندگی کی جدوجہد کو بڑے پیمانے پر سراہا گیا تھا۔ ان کے بارے میں یہ بھی بیان کیا جاتا رہا کہ انہیں بچپن میں آٹزم کی تشخیص ہوئی، وہ ۱۱؍ برس کی عمر تک بول نہیں سکتے تھے اور۱۸؍  برس کی عمر تک پڑھنا لکھنا نہیں جانتے تھے، جس کے بعد انہوں نے غیر معمولی تعلیمی کامیابی حاصل کی۔ تاہم حالیہ ہفتوں میں ان کی علمی تحقیق، سوانحی دعووں اور بعض پیشہ ورانہ وابستگیوں پر سوالات اٹھنے لگے۔ 

یہ بھی پڑھئے: تھائی لینڈ: فٹبال میچ کے دوران آسمانی بجلی گری، نوجوان کھلاڑی ہلاک، متعدد زخمی

تنازع کا آغاز ان الزامات سے ہوا کہ ان کے پی ایچ ڈی مقالے اور بعض دیگر تحقیقی مضامین میں ایسے حصے موجود ہیں جو دیگر علمی کاموں سے مماثلت رکھتے ہیں۔ اس کے علاوہ بعض جامعات میں اعزازی یا وزٹنگ عہدوں سے متعلق ان کے دعووں پر بھی سوالات اٹھائے گئے، جن میں چند اداروں نے ایسی وابستگی کی تصدیق نہیں کی۔ ان معاملات کے بعد کیمبرج یونیورسٹی نے کہا کہ نئے شواہد سامنے آنے پر جامع تحقیقات ضروری ہیں تاکہ تمام حقائق غیر جانبدارانہ انداز میں سامنے آ سکیں۔ اپنے استعفے کے اعلان میں جیسن آرڈے نے کہا کہ ’’انتہائی دکھ کے ساتھ میں یونیورسٹی آف کیمبرج اور جیزس کالج میں اپنے عہدے سے فوری طور پر استعفیٰ دے رہا ہوں۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ ’’مسلسل الزامات، قیاس آرائیاں اور عوامی تبصروں نے مجھ پر اور میرے اہلِ خانہ پر گہرا اثر ڈالا ہے۔‘‘ ان کا کہنا تھا کہ ’’میں اس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ اس باب کو ختم کرنے کا واحد راستہ یہی ہے کہ میں خود پیچھے ہٹ جاؤں۔‘‘ انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ ’’میرے اس فیصلے کو نہ تو علم و تحقیق پر عدم اعتماد سمجھا جائے اور نہ ہی میرے خلاف قائم کیے گئے بیانیے کی توثیق۔ یہ صرف ایک ایسے شخص کا فیصلہ ہے جو اس دباؤ کی آخری حد تک پہنچ چکا ہے جسے کسی بھی انسان سے برداشت کرنے کی توقع نہیں کی جا سکتی۔‘‘ 

یہ بھی پڑھئے: منظم گروہوں نے طلبہ کے احتجاج کو پرتشدد مظاہرے میں بدل دیا: شیخ حسینہ

یونیورسٹی آف کیمبرج نے اپنے بیان میں کہا کہ ’’یونیورسٹی نے پروفیسر آرڈے کی تعلیمی قابلیت اور اعزازی تقرریوں سے متعلق نئی معلومات موصول ہونے کے بعد تحقیقات شروع کر دی ہیں۔‘‘ ساتھ ہی یہ بھی کہا گیا کہ ’’منصفانہ عمل کو یقینی بنانے کے لیے تحقیقات مکمل ہونے تک مزید تبصرہ نہیں کیا جائے گا۔‘‘ جیزس کالج نے بھی الگ داخلی کارروائی شروع کرنے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ اس دوران آرڈے کو ضروری تعاون فراہم کیا جائے گا۔ اس سے قبل لیورپول جان مورز یونیورسٹی، جہاں سے آرڈے نے پی ایچ ڈی کی تھی، سرقۂ علمی کے بعض الزامات کی جانچ کر چکی ہے۔ یونیورسٹی نے اس وقت باضابطہ علمی بدعنوانی ثابت نہیں کی تھی، تاہم رپورٹ میں بعض مماثلتوں کو ’’ایماندارانہ اور معقول غلطی‘‘ کا نتیجہ قرار دیا گیا تھا۔ دوسری جانب حالیہ الزامات میں مزید پہلو سامنے آنے کے بعد کیمبرج نے نئی تحقیقات کا آغاز کیا ہے۔ آرڈے مسلسل ان الزامات کی تردید کرتے رہے ہیں اور ان کا مؤقف ہے کہ انہوں نے کبھی جان بوجھ کر علمی بدعنوانی نہیں کی۔ 

یہ بھی پڑھئے: اسرائیل بچوں کو شوقیہ قتل کرتا ہے، مسئلہ پورا اسرائیلی معاشرہ ہے: نارمن فنکلسٹین

تعلیمی حلقوں میں اس معاملے کو غیر معمولی اہمیت دی جا رہی ہے کیونکہ یہ صرف ایک ممتاز استاد کے مستقبل کا سوال نہیں بلکہ برطانیہ کی اعلیٰ تعلیم میں تحقیقی معیار، علمی دیانت داری اور تقرریوں کے طریقۂ کار سے متعلق بھی وسیع بحث کا سبب بن گیا ہے۔ تحقیقات مکمل ہونے کے بعد ہی یہ واضح ہو سکے گا کہ سامنے آنے والے الزامات میں کتنی صداقت ہے اور یونیورسٹی آئندہ کیا فیصلہ کرتی ہے۔ 

 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK