Inquilab Logo Happiest Places to Work

اسرائیل بچوں کو شوقیہ قتل کرتا ہے، مسئلہ پورا اسرائیلی معاشرہ ہے: نارمن فنکلسٹین

Updated: August 05, 2026, 9:03 PM IST | Tel Aviv

امریکی یہودی اسکالر اور اسرائیل فلسطین تنازع کے معروف محقق نارمن فنکلسٹین نے ایک حالیہ انٹرویو میں اسرائیلی حکومت اور معاشرے پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ غزہ میں جاری جنگ کے لیے صرف وزیر اعظم بنجامن نیتن یاہو کو ذمہ دار قرار دینا درست نہیں، بلکہ ان کے بقول مسئلہ پورے اسرائیلی معاشرے سے متعلق ہے۔

American Jewish scholar Norman Finkelstein. Photo: X
امریکی یہودی دانشور، سیاسی تجزیہ کارنارمن فنکلسٹین۔ تصویر: ایکس

امریکی یہودی دانشور، سیاسی تجزیہ کار اور اسرائیل فلسطین تنازع پر متعدد کتابوں کے مصنف نارمن فنکلسٹین نے غزہ کی جنگ کے حوالے سے اسرائیلی حکومت اور معاشرے پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ موجودہ بحران کو صرف وزیر اعظم بنجامن نیتن یاہو کی پالیسیوں تک محدود کر کے نہیں دیکھا جا سکتا، بلکہ ان کے مطابق اس مسئلے کی جڑیں اسرائیلی معاشرے کے وسیع تر رویوں میں موجود ہیں۔ فنکلسٹین نے یہ ریمارکس امریکی مبصر کینڈیس اوونز کو دیے گئے ایک طویل انٹرویو میں کیے، جہاں غزہ کی جنگ، اسرائیلی سیاست، عوامی رائے اور فلسطینیوں کی صورتحال پر تفصیلی گفتگو ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ دنیا بھر میں اکثر توجہ صرف نیتن یاہو پر مرکوز کی جاتی ہے، لیکن ان کے نزدیک مسئلہ اس سے کہیں زیادہ وسیع ہے۔ 

یہ بھی پڑھئے: غزہ: ۱۴؍ لاکھ فلسطینی شدید غذائی عدم تحفظ کا شکار، ادویات کی قلت ۴۷؍ فیصد تک پہنچ گئی

انٹرویو میں فنکلسٹین نے کہا کہ ’’یہ درست نہیں کہ مسئلہ صرف نیتن یاہو ہے۔ مسئلہ پورا اسرائیلی معاشرہ ہے۔‘‘ انہوں نے اپنے مؤقف کی وضاحت کرتے ہوئے مختلف اسرائیلی رائے عامہ کے سرویز کا حوالہ دیا اور دعویٰ کیا کہ ان سرویز میں اسرائیلی یہودیوں کی ایک بڑی تعداد نے غزہ کے بارے میں انتہائی سخت مؤقف اختیار کیا۔ فنکلسٹین کے مطابق، یہی عوامی رجحانات اس تنازع کو محض ایک سیاسی قیادت تک محدود نہیں رہنے دیتے۔ گفتگو کے دوران کینڈیس اوونز نے غزہ میں بچوں کی ہلاکتوں کا ذکر کیا، جس پر فنکلسٹین نے ایک سابق یا موجودہ اسرائیلی اپوزیشن لیڈر کا متنازع بیان نقل کرتے ہوئے کہا کہ اس لیڈر نے اسرائیلی فوج کے بارے میں کہا تھا کہ وہ ’’بچوں کو شوقیہ قتل کرتی ہے۔‘‘ 

یہ بھی پڑھئے: غزہ میں ابو شریعہ خاندان کے ۱۱۲؍افراد کی اجتماعی تدفین، ہزاروں افراد کی شرکت

فنکلسٹین، جن کے والدین ہولوکاسٹ سے بچ جانے والوں میں شامل تھے، کئی دہائیوں سے اسرائیل اور فلسطین کے تنازع پر تحقیقی کام کرتے رہے ہیں۔ وہ ماضی میں بھی اسرائیلی حکومت کی پالیسیوں پر سخت تنقید کرتے رہے ہیں اور ان کی کتابیں اس موضوع پر بین الاقوامی سطح پر زیر بحث رہی ہیں۔ ان کے ناقدین انہیں اسرائیل پر غیر متوازن تنقید کا الزام دیتے ہیں، جبکہ حامی انہیں فلسطینیوں کے حقوق کے لیے آواز اٹھانے والی نمایاں علمی شخصیات میں شمار کرتے ہیں۔ یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب غزہ میں جاری جنگ، انسانی بحران اور شہری ہلاکتوں پر عالمی سطح پر بحث جاری ہے۔ اقوام متحدہ، انسانی حقوق کی تنظیمیں اور متعدد عالمی رہنما بارہا شہریوں کے تحفظ، جنگ بندی اور انسانی امداد کی بلا رکاوٹ فراہمی پر زور دے چکے ہیں، جبکہ اسرائیل کا مؤقف ہے کہ اس کی فوجی کارروائیاں حماس کے خلاف ہیں اور وہ اپنے دفاع کا حق استعمال کر رہا ہے۔ فنکلسٹین کے حالیہ ریمارکس نے ایک مرتبہ پھر اسرائیل، فلسطین اور غزہ کی جنگ سے متعلق عالمی مباحثے کو نئی توجہ دی ہے، جبکہ ان کے بیان پر مختلف حلقوں میں متضاد ردعمل سامنے آ رہا ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK