Inquilab Logo Happiest Places to Work

کنیڈا: ۴۰ سے زائد تنظیموں نےحکومت سے آر ایس ایس چیف موہن بھاگوت کا ملک میں داخلہ روکنے کا مطالبہ کیا

Updated: August 08, 2026, 8:04 PM IST | Ottawa

کنیڈین تنظیموں کے اتحاد نے الزام لگایا کہ بھاگوت کے دورے سے عوامی سلامتی اور قومی سلامتی کے خدشات پیدا ہوتے ہیں۔ انہوں نے آر ایس ایس کی مذہبی اکثریت پسندی، دھمکانے اور ماورائے سرحد جبر سے مبینہ تعلقات کے ریکارڈ کا حوالہ دیا ہے۔ انہوں نے آر ایس ایس سے منسلک نیٹ ورکس اور بیرونِ ہند مقیم حقوق کے کارکنوں، تعلیمی ماہرین اور اقلیتی برادری کے اراکین کو ہراساں کرنے کے درمیان مبینہ تعلقات کی طرف بھی اشارہ کیا۔

Mohan Bhagwat. Photo: X
موہن بھاگوت۔ تصویر: ایکس

کنیڈا کی ۴۰ سے زائد سول سوسائٹی، انسانی حقوق، لیبر اور مذہبی تنظیموں نے ملک کے وزیر برائے عوامی سلامتی، گیری آنندسانگاری کو خط لکھ کر ان سے راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) کے سربراہ موہن بھاگوت کا داخلہ روکنے کی اپیل کی ہے۔ واضح رہے کہ ۳۱ اگست کو بھاگوت کا کنیڈا کا دو روزہ دورہ متوقع ہے۔ 

کنیڈین تنظیموں کے اتحاد نے الزام لگایا کہ بھاگوت کے دورے سے عوامی سلامتی اور قومی سلامتی کے خدشات پیدا ہوتے ہیں۔ انہوں نے آر ایس ایس کی مذہبی اکثریت پسندی، دھمکانے اور ماورائے سرحد جبر سے مبینہ تعلقات کے ریکارڈ کا حوالہ دیا ہے۔ ان تنظیموں نے ایک بریفنگ پیپر جمع کرایا جس میں دلیل دی گئی ہے کہ کنیڈا کے عدم مقبولیت/ناقابلِ داخلہ قوانین (inadmissibility laws) کے تحت بھاگوت کے داخلے کی جانچ کی جانی چاہئے۔ انہوں نے آر ایس ایس سے منسلک نیٹ ورکس اور بیرونِ ہند مقیم حقوق کے کارکنوں، تعلیمی ماہرین اور اقلیتی برادری کے اراکین کو ہراساں کرنے کے درمیان مبینہ تعلقات کی طرف بھی اشارہ کیا۔

یہ بھی پڑھئے: روسی تیل خریدنے پر ہندوستان پر ۱۰۰؍ فیصد امریکی ٹیرف کا خطرہ، بل منظور

دستخط کنندگان میں کنیڈین فورم فار ہیومن رائٹس اینڈ ڈیموکریسی ان انڈیا، کنیڈین کونسل آف انڈین مسلمز، ورلڈ سکھ آرگنائزیشن، انڈیپنڈنٹ جیوش وائسز کنیڈا، ڈاکٹر امبیڈکر انٹرنیشنل مشن اور ایشیائی کنیڈین لیبر الائنس شامل ہیں۔ دستاویز میں کہا گیا ہے کہ ”وزیر آنندسانگاری کو ہماری برادریوں کو انتہا پسندی، نفرت انگیز تقریر اور غیر ملکی دھمکیوں سے بچانے کیلئے کنیڈین قانون کا نفاذ کرنا چاہئے۔ بھاگوت کو داخلے کی اجازت دینا مسلمانوں، سکھوں، عیسائیوں، یہودیوں اور دلتوں سمیت غیر محفوظ اقلیتی آبادیوں کو خطرے میں ڈالتا ہے اور منشور کے حقوق کو مجروح کرتا ہے۔“

یہ اپیل ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب بھاگوت کا کنیڈا کا پہلا ممکنہ دورہ قریب ہے۔ رپورٹس کے مطابق، آر ایس ایس کی عالمی رسائی کو وسعت دینے کی کوششوں کے ایک حصے کے طور پر امریکہ کے دورے کے بعد ۳۱ اگست کو ان کے وہاں جانے کا پروگرام ہے۔ واضح رہے کہ ۷۵ سالہ بھاگوت کے۔ ایس۔ سدرشن کے بعد مارچ ۲۰۰۹ء سے آر ایس ایس کے سربراہ کے طور پر خدمات انجام دے رہے ہیں۔ اگرچہ آر ایس ایس خود کو ایک ثقافتی اور سماجی تنظیم کے طور پر بیان کرتی ہے، لیکن یہ وسیع تر سنگھ پریوار کے ساتھ قریبی نظریاتی تعلقات رکھتی ہے جس میں بی جے پی (BJP) بھی شامل ہے۔ آر ایس ایس کو ہندوستان میں تین مواقع پر ۱۹۴۸ء، ۱۹۷۵ء اور ۱۹۹۲ء میں حکومتی پابندیوں کا سامنا کرنا پڑا ہے، جو بعد میں ہٹا دی گئی تھیں۔

یہ بھی پڑھئے: پیلٹ گن چلانے کا حکم کس نے دیا؟ دپکے کا یوم آزادی پر مودی سے جواب کا مطالبہ

کنیڈین گروپس کے خدشات ہندوستان میں مذہبی اقلیتوں کے ساتھ ناروا سلوک کی بڑھتی ہوئی بین الاقوامی چھان بین کے بعد سامنے آئے ہیں۔ امریکی کمیشن برائے بین الاقوامی مذہبی آزادی (USCIRF) نے ہندوستان کے مذہبی آزادی کے ماحول میں ہندو قوم پرست تنظیموں کے کردار کے بارے میں بارہا خدشات کا اظہار کیا ہے۔ کمیشن نے ۲۰۲۳ء میں بیرونِ ملک مذہبی اقلیتوں اور کارکنوں کو نشانہ بنانے والے مبینہ ماورائے سرحد جبر پر خدشات کا اظہار کیا تھا۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK