• Fri, 25 September, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

یو این: ۱۲؍ ممالک کی سلامتی کونسل میں نئی مستقل نشستوں کی مخالفت

Updated: September 25, 2026, 3:44 PM IST | New York

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں اصلاحات پر بحث کے دوران ’’یونائٹنگ فار کنسنسس‘‘ گروپ نے منتخب اور طویل مدتی گردشی نشستیں بڑھانے کی تجویز دی، جبکہ جی ۴؍ ممالک مستقل اور غیر مستقل دونوں طرح کی نشستوں میں توسیع کے حامی ہیں۔

United Nations. Picture: INN
اقوامِ متحدہ۔ تصویر: آئی این این

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں اصلاحات کے معاملے پر رکن ممالک کے درمیان اختلاف ایک بار پھر نمایاں ہوگیا ہے۔۱۲؍ ممالک پر مشتمل ’’یونائٹنگ فار کنسنسس‘‘ (UfC) گروپ نے نئی مستقل نشستیں شامل کرنے کی مخالفت کرتے ہوئے سلامتی کونسل میں منتخب ارکان کی تعداد بڑھانے اور طویل مدتی گردشی نشستیں متعارف کرانے کی حمایت کی ہے۔ گروپ نے یہ موقف اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے ۸۱؍ ویں اجلاس کے اعلیٰ سطحی ہفتے کے دوران جاری مشترکہ بیان میں پیش کیا۔ اس گروپ میں ارجنٹینا، کینیڈا، کولمبیا، کوسٹاریکا، اٹلی، مالٹا، میکسیکو، پاکستان، جنوبی کوریا، سان مارینو، اسپین اور ترکی شامل ہیں۔ ان ممالک نے کہا کہ ان کا مشترکہ مقصد ایسی سلامتی کونسل تشکیل دینا ہے جو زیادہ نمائندہ، جمہوری، شفاف، جواب دہ اور موجودہ عالمی چیلنجوں سے نمٹنے کے لیے مؤثر ہو۔

یہ بھی پڑھئے: سعودی مفتی اعظم کی حوثیوں کے خلاف فوجیوں کو متحد رہنے کی ہدایت


یو ایف سی نے خاص طور پر سلامتی کونسل کی منتخب رکنیت بڑھانے کی حمایت کی اور کہا کہ اس سے بین الاقوامی امن و سلامتی کے قیام میں مدد ملے گی اور تمام رکن ممالک کی خودمختار مساوات کے اصول کو برقرار رکھا جاسکے گا۔ گروپ کے مطابق اس طریقے سے افریقہ کی تاریخی طور پر کم نمائندگی کے مسئلے کے ساتھ ساتھ ایشیا بحرالکاہل، لاطینی امریکہ اور کیریبین جیسے خطوں کی نمائندگی بھی بہتر ہوسکتی ہے۔ تاہم گروپ نے نئی مستقل نشستوں کی تجویز کو واضح طور پر مسترد کردیا۔ اس کا کہنا ہے کہ سلامتی کونسل میں اصلاحات کے لیے بین الحکومتی مذاکرات (IGN) ہی رکن ممالک کی قیادت میں دستیاب جامع اور جائز پلیٹ فارم ہیں۔ بیان میں کہا گیا کہ آئندہ پیش رفت مذاکرات، لچک اور سمجھوتے کی بنیاد پر ہونی چاہیے اور اصلاحات کے مختلف باہم مربوط معاملات پر وسیع تر سیاسی اتفاق رائے حاصل کیا جانا چاہیے۔
گروپ نے ویٹو کے اختیار کے بارے میں بھی اپنا موقف بیان کیا۔ اس نے اصولی طور پر ویٹو ختم کرنے کی حمایت کا اعادہ کیا، تاہم فوری طور پر اس کے استعمال کو مخصوص حالات میں محدود کرنے کی بات کہی، جن میں بڑے پیمانے پر انسانی مظالم اور جنگی جرائم بھی شامل ہیں۔ بیان میں فرانس اور میکسیکو کی مشترکہ پہل اور ACT Code of Conduct کو ویٹو کے استعمال کو محدود کرنے سے متعلق موجودہ کوششوں کے طور پر پیش کیا گیا۔ 

یہ بھی پڑھئے:یواین: نیتن یاہو کی تقریر سے قبل ۷۷؍ وفود ہال سے نکل گئے

ہندوستان کا موقف
دوسری جانب ہندوستان، برازیل، جرمنی اور جاپان پر مشتمل جی ۴؍ گروپ کا موقف اس سے مختلف ہے۔ چاروں ممالک کے وزرائے خارجہ نے ۲۲؍ ستمبر کو نیویارک میں ملاقات کے بعد جاری مشترکہ بیان میں سلامتی کونسل کی مستقل اور غیر مستقل، دونوں اقسام کی رکنیت میں توسیع کی حمایت کی۔ جی ۴؍ نے کہا کہ موجودہ سلامتی کونسل کی ساخت تقریباً ۸؍ دہائیاں پرانی ہے اور موجودہ عالمی حالات کی مکمل عکاسی نہیں کرتی۔ جی ۴؍ نے افریقہ کو بھی مستقل رکنیت سمیت زیادہ نمائندگی دینے کی حمایت کی ہے۔ چاروں ممالک نے افریقی گروپ کی اصلاحاتی تجویز کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ افریقہ کی نمائندگی میں اضافہ سلامتی کونسل کی اصلاح کا اہم حصہ ہونا چاہیے۔ افریقی یونین طویل عرصے سے کم از کم ۲؍ مستقل نشستوں اور ۵؍ غیر مستقل نشستوں کا مطالبہ کرتی رہی ہے۔ 

یہ بھی پڑھئے: سلامتی کونسل میں اے آئی لیڈران کا انتباہ: دنیا اے آئی پر کنٹرول کھو سکتی ہے

سلامتی کونسل اس وقت ۱۵؍ ارکان پر مشتمل ہے، جن میں ۵؍ مستقل ارکان، امریکہ، روس، چین، برطانیہ اور فرانس، شامل ہیں۔ ان پانچوں کے پاس ویٹو کا اختیار ہے، جبکہ باقی ۱۰؍ ارکان جنرل اسمبلی کے ذریعے ۲؍ سال کے لیے منتخب کیے جاتے ہیں۔ اصلاحات پر بنیادی اختلاف اس بات پر ہے کہ کونسل کو کس حد تک وسعت دی جائے، مستقل نشستیں بڑھائی جائیں یا نہیں، علاقائی نمائندگی کیسے بہتر بنائی جائے اور ویٹو کے اختیار کے ساتھ کیا کیا جائے۔ ہندوستان طویل عرصے سے سلامتی کونسل میں مستقل رکنیت کے لیے اپنی دعویداری پیش کرتا رہا ہے اور جی ۴؍ کے ذریعے برازیل، جرمنی اور جاپان کے ساتھ مل کر مستقل نشستوں میں اضافے کی حمایت کرتا ہے۔ ۲۲؍ ستمبر کے جی ۴؍ بیان میں چاروں ممالک نے کہا کہ اصلاحات کے عمل کو ٹھوس مذاکرات کی طرف بڑھنا چاہیے اور متن پر مبنی مذاکرات شروع کرنا ترجیح ہونی چاہیے۔ 
اصلاحات کے معاملے میں ایک اہم رکاوٹ مذاکرات کا طویل عرصے سے جاری رہنا بھی ہے۔ اقوام متحدہ کے مطابق سلامتی کونسل کی اصلاح پر بین الحکومتی مذاکرات کا عمل ۲۰۰۸ء سے جاری ہے، جس میں رکنیت کے حجم، مستقل اور غیر مستقل ارکان، علاقائی نمائندگی، ویٹو اور کونسل کے کام کرنے کے طریقۂ کار سمیت کئی معاملات زیر بحث آتے رہے ہیں۔ تازہ بیانات سے واضح ہے کہ اصلاحات کی ضرورت پر کئی ممالک کے درمیان اتفاق موجود ہے، لیکن مجوزہ ڈھانچے پر اختلاف برقرار ہے۔ ایک طرف یو ایف سی منتخب نشستوں اور طویل مدتی گردشی رکنیت کے ذریعے نمائندگی بڑھانے کی حمایت کررہا ہے، جبکہ جی ۴؍ مستقل اور غیر مستقل دونوں زمروں میں توسیع چاہتا ہے۔ اس اختلاف کے باعث ۸۱؍ ویں جنرل اسمبلی کے اجلاس کے دوران سلامتی کونسل کی اصلاح کا معاملہ ایک اہم سفارتی موضوع بنا ہوا ہے۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK