کنیڈا کے وزیر اعظم مارک کارنی نے اسرائیلی صدر اسحاق ہرزوگ سے فلوٹیلا واقعے کی تحققات کا مطالبہ کیا ہے، ساتھ ہی مارک کارنی نے فلسطین کی ریاست کے لیے کنیڈا کی حمایت کا بھی اعادہ کیا۔
EPAPER
Updated: May 26, 2026, 8:03 PM IST | Ottawa
کنیڈا کے وزیر اعظم مارک کارنی نے اسرائیلی صدر اسحاق ہرزوگ سے فلوٹیلا واقعے کی تحققات کا مطالبہ کیا ہے، ساتھ ہی مارک کارنی نے فلسطین کی ریاست کے لیے کنیڈا کی حمایت کا بھی اعادہ کیا۔
کنیڈین وزیرِاعظم کے دفتر کی جانب سے جاری کردہ پریس ریلیز کے مطابق، مارک کارنی نے زور دے کر کہا کہ’’ شہریوں، بشمول غزہ جانے والے فلوٹیلا پر سوار کنیڈا کے شہریوں، کے ساتھ روا رکھا گیا ناقابلِ برداشت سلوک قابلِ قبول نہیں ہے، اور انہوں نے ایک آزاد تحقیقات کا مطالبہ کیا۔‘‘کارنی نے اسرائیلی قومی سلامتی کے وزیر ایتاماربین گویر کے ان تبصروں کی بھی ’’شدید مذمت‘‘ کی، جنہوں نے ہتھکڑیاں اور آنکھوں پر پٹی بندھے مظاہرین کا مذاق اڑایا اور کہا ،’’اس طرح ہم دہشت گردوں کا استقبال کرتے ہیں۔‘‘بعد ازاں کنیڈین وزیرِاعظم نے ہرزوگ کو یہ بھی بتایا کہ کنیڈا کی دو ریاستی حل کے لیے ’’غیر متزلزل حمایت‘‘جس میں فلسطین کی ریاست کا قیام اور اس کا اسرائیل کے ساتھ پر امن تعلقات شامل ہے، تبدیل نہیں ہوئی ہے۔
یہ بھی پڑھئے: اسرائیل: وزیراعظم بنجامن نیتن یاہو اسپتال داخل
تاہم کارنی نے اسرائیل کی سلامتی اور اس کے حقِ خود دفاع کے لیے کنیڈا کی حمایت کا اظہار بھی کیا۔وسیع موضوعات پر ہونے والی اس گفتگو میں دونوں لیڈروں نے مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی میں کمی اور اہم بحری راہداریوں بشمول آبنائے ہرمز میں استحکام اور غزہ میں بلا روک ٹوک انسانی امداد کی فراہمی کی ضرورت پر بھی بات کی۔تاہم کارنی نے کنیڈا کے اس مؤقف کا اعادہ کیا کہ اسرائیلی بستیوں کی توسیع غیر قانونی ہے ساتھ ہی انہوں نے مقبوضہ مغربی کنارے میں آباد کاروں کے تشدد کے خاتمے کا مطالبہ کیا۔جبکہ لبنان کے بارے میں، دونوں نے ’’مکالمے کو آگے بڑھانے کی کوششوں‘‘ کا خیرمقدم کیا۔
یہ بھی پڑھئے: غزہ فلوٹیلا معاملہ: ملائیشیا اسرائیل کو عالمی عدالت میں لے جانے کی تیاری میں
واضح رہے کہ غزہ میں امداد لے جارہی عالمی صمود فلوٹیلا جس میں دنیا کے کئی ممالک نے سیکڑوں کارکنان سوار تھے، اسرائیلی حملوں کا شکار ہوگئی، اسرائیلی فوجیوں نے ان کارکنان کو گرفتار کرکے بیڑے میں شامل تمام کشتیاں اپنے قبضے میں لے لیں تھیں، کارکنان جن میں بیشتر یورپی ممالک کے رضاکار شامل تھے اسرائیل لائے گئے، جن پر مبینہ تشدد کیا گیا، اسی دوران ان گرفتار شدہ کارکنان کے درمیان ایتامار بین گوئیر کا ایک ویڈیو سامنے آیا، جس میں اسے قیدیوں کے ساتھ غیر انسانی سلوک کرتے دیکھا گیا۔ اس ویڈیوکے منظر عام پر آنے کے بعد یورپ سمیت دنیا کے تمام ممالک میں اس واقعہ پر شدید رد عمل سامنے آیا، عوام کے اس دباؤ کے بعدکئی ممالک کے سربراہان نے اسرائیل کی سخت الفاظ میں مذمت کی، مارک کارنی کا یہ احتجاج اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔