Inquilab Logo Happiest Places to Work

کنیڈا کی حقوقِ انسانی تنظیموں کا یوگی آدتیہ ناتھ و دیگرکے خلاف پابندی کا مطالبہ

Updated: August 14, 2026, 9:03 PM IST | Ottawa

کنیڈا کی حقوقِ انسانی تنظیموں نے یوگی آدتیہ ناتھ اور دیگر کے خلاف پابندیوں کا مطالبہ کیا ہے، اس درخواست میں اتر پردیش کے مسلمانوں کے خلاف مبینہ سنگین انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا ذکر ہے۔

Uttar Pradesh Chief Minister Yogi Adityanath. Photo: INN
اتر پردیش کے وزیراعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ۔ تصویر: آئی این این

کنیڈا کی دو تنظیموں ’’جسٹس فار آل کنیڈا‘‘ اور ’’کنیڈین فورم فار ہیومن رائٹس اینڈ ڈیموکریسی ان انڈیا‘‘ (سی ایف ایچ آر ڈی آئی) نے پیر کو گلوبل افیئرز کینیڈا (کنیڈا کی وزارت خارجہ) کے سامنے مشترکہ سول سوسائٹی کی درخواست دائر کی، جس میں اتر پردیش کے مسلمانوں کے خلاف مبینہ سنگین انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر اتر پردیش کے وزیراعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ سمیت آٹھ ہندوستانی عہدیداروں کے خلاف ہدفی پابندیاں عائد کرنے کا مطالبہ کیا گیا۔یہ خفیہ درخواست گلوبل افیئرز کنیڈا کے سینکشن بیورو میں جمع کرائی گئی ہے، جس میں کنیڈا کے موجودہ پابندیوں کے فریم ورک، بشمول ’’جسٹس فار وکٹمز آف کرفٹ فارن آفیشلز ایکٹ‘‘اور ’’اسپیشل اکنامک میژرز ایکٹ‘‘کے تحت کارروائی کا مطالبہ کیا گیا ہے۔
بعد ازاں تنظیموں نے الزام لگایا کہ اتر پردیش میں مسلم سماج کو نشانہ بنانے والی خلافِ قانون قتل، پولیس تشدد اور اذیت، تعزیری تخریبی مہم، اجتماعی گرفتاریاں اور کریک ڈاؤن کی صورت میں بدسلوکی کا ایک مستقل سلسلہ جاری ہے۔ واضح رہے کہ یہ درخواست ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب کنیڈا ہندوستان کے ساتھ اپنے تعلقات کو گہرا کرنے کی کوشش کر رہا ہے، اور حقوقِ انسانی تنظیموں کا کہنا ہے کہ اوٹاوا (کنیڈا کی حکومت) کو اپنے دو طرفہ تعلقات میں انسانی حقوق اور احتساب کو مرکزی حیثیت دینی چاہیے۔جسٹس فار آل کنیڈا کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر طٰہٰ غیور نے کہا، ’’کنیڈا ہندوستان کے ساتھ تجارتی تعلقات کو گہرا نہیں کر سکتا جبکہ وہ مسلمانوں کے خلاف ریاستی سرپرستی میں ہونے والی بدسلوکیوں کے قابلِ اعتماد شواہد سے آنکھیں پھیر لے۔‘‘ انہوں نے استدلال کیا کہ جب ملکی احتسابی نظام ناکام ہو جائیں تو کنیڈا کی پابندیاں چند دستیاب راستوں میں سے ایک ہیں۔
درخواست میں نامزد افراد میں اتر پردیش کے وزیراعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ کے علاوہ سینئر موجودہ اور سابق پولیس افسران شامل ہیں۔ تنظیموں کا کہنا ہے کہ درخواست میں شناخت کیے گئے عہدیداروں کا مبینہ طور پر ریاستی حمایتسے کی جانے والی بدسلوکیوں سے تعلق ہے۔ واضح رہے کہ یوگی آدتیہ ناتھ کے منتخب ہونے کے بعد اتر پردیش مسلمانوں کے ساتھ سلوک کے حوالے سے خدشات کا مرکز رہا ہے۔ حقوقِ انسانی تنظیموں نے پولیس تشدد، خلافِ قانون قتل، تعزیری مہمِ تخریب اور اجتماعی گرفتاریوں کے الزامات دستاویزی شکل میں پیش کیے ہیں، جبکہ حالیہ اقدامات جن کا تعلق یونیورسٹی کے طلبہ اور کیمپس سے ہے، نے اختلافِ رائے اور اقلیتی برادریوں پر پابندیوں کے خدشات میں مزید اضافہ کیا ہے۔
اس درخواست میں بین الاقوامی حقوقِ انسانی تنظیموں اور اداروں کی جانب سے پہلے کی گئی تنبیہات کا بھی حوالہ دیا گیا ہے، جن میں یو ایس کمیشن آن انٹرنیشنل ریلیجس فریڈم (یو ایس سی آئی آر ایف)، اقوامِ متحدہ کے انسانی حقوق کے ماہرین، ہیومن رائٹس واچ، ایمنسٹی انٹرنیشنل اور پینل آف انڈیپنڈنٹ انٹرنیشنل ایکسپرٹس (پی آئی آئی ای) شامل ہیں۔ ان تنظیموں نے ہندوستان میں مسلمانوں اور دیگر اقلیتوںکے ساتھ امتیازی سلوک، جبر اور تشدد پر خدشات کا اظہار کیا ہے۔ساتھ ہی جسٹس فار آل کنیڈا اور سی ایف ایچ آر ڈی آئی نے کنیڈا کے اراکینِ پارلیمنٹ اور وفاقی عہدیداروں سے بھی مطالبہ کیا ہے کہ وہ متاثرہ سماج اور سول سوسائٹی کی تنظیموں سے ملیں، گلوبل افیئرز کنیڈا کو پیش کیے گئے شواہد کا جائزہ لیں اور اس بات کو یقینی بنائیں کہ انسانی حقوق کے تحفظات کنیڈا کے ہندوستان سے تعلقات میں مرکزی حیثیت رکھتے ہیں۔
علاوہ ازیں تنظیموں نے گلوبل افیئرز کنیڈا سے کہا ہے کہ وہ شواہد کا آزادانہ جائزہ لے اور آٹھ عہدیداروں کے خلاف ہدفی پابندیوں پر غور کرے۔ مکمل درخواست خفیہ طور پر گلوبل افیئرز کنیڈا میں جمع کرائی گئی ہے۔یاد رہے کہ گزشتہ ہفتے،کنیڈا کی۴۰؍ سے زائد سول سوسائٹی، حقوقِ انسانی، مزدور اور مذہبی تنظیموں نے ملک کے وزیرِ عوامی سلامتی سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ اسی الزامات کی بنیاد پر راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) کے سربراہ موہن بھاگوت کوکنیڈا میں داخل ہونے سے روک دیں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK