Updated: August 14, 2026, 11:59 AM IST
| Hyderabad
بار کونسل آف انڈیا نے نالسار حیدرآباد کے ۲۰۲۶ء میں فارغ التحصیل ہونے والے طلبہ کے خلاف تمام کارروائیاں ختم کردی ہیں، جنہوں نے چیف جسٹس سوریا کانت کی کانووکیشن تقریب میں شرکت کی مخالفت کی تھی۔ بار کونسل نے اس سے قبل طلبہ کو وکلا کی حیثیت سے رجسٹر نہ کرنے کا اعلان کیا تھا، تاہم چند گھنٹے بعد فیصلہ واپس لیتے ہوئے کہا کہ طلبہ کا کسی بدنظمی یا احتجاجی تحریک میں کوئی کردار نہیں پایا گیا۔
بار کونسل کے چیئرمین منن کمار مشرا۔ تصویر: آئی این این
بار کونسل آف انڈیا نے جمعرات کی شب نیشنل اکیڈمی آف لیگل اسٹڈیز اینڈ ریسرچ (نالسار)، حیدرآباد کے ۲۰۲۶ء میں فارغ التحصیل ہونے والے ان طلبہ کے خلاف تمام کارروائیاں ختم کردیں، جنہوں نے یونیورسٹی کی کانووکیشن تقریب میں چیف جسٹس سوریہ کانت کی شرکت کی مخالفت کی تھی۔ اس سے قبل جمعرات ہی کو بار کونسل نے اعلان کیا تھا کہ فارغ التحصیل ہونے والے اس بیچ کے طلبہ کو چیف جسٹس کے خلاف مہم چلانے کی وجہ سے وکلا کی حیثیت سے رجسٹر نہیں کیا جائے گا۔ تاہم چند گھنٹے بعد یہ فیصلہ واپس لے لیا گیا۔ تاہم کونسل نے کہا تھا کہ اس نے یونیورسٹی سے ایک تحقیقاتی رپورٹ طلب کی ہے، جس میں ان افراد کی نشاندہی کی جائے جو چیف جسٹس سوریہ کانت کی کانووکیشن میں شرکت کی مخالفت کرنے میں ’’بنیادی طور پر سرگرم‘‘ تھے۔
یہ بھی پڑھئے: ہلدوانی : کھرگے کے جلسے کے بعد رام لیلا اسٹیج کا ’’شدھی کرن ‘‘
جمعرات کی شب بار کونسل کے چیئرمین منن کمار مشرا نے کہا کہ طلبہ کے خلاف تمام کارروائیاں ختم کردی جائیں گی۔ انہوں نے کہا کہ یہ فیصلہ سینئر وکلا، بار کے معزز ارکان، قانون کے طلبہ اور عوامی مفاد میں کام کرنے والے شہریوں کے ردعمل اور نمائندگیوں پر غور کرنے کے بعد کیا گیا ہے۔ ان کے مطابق کونسل اس نتیجے پر پہنچی کہ نالسار حیدرآباد کے ۲۰۲۶ء کے بیچ کا کسی بھی قسم کی بدنظمی یا احتجاجی تحریک میں کوئی کردار نہیں تھا۔ کونسل کی جانب سے جاری کیے گئے ابتدائی احکامات کو کاکروچ جنتا پارٹی کی سیاسی مہم کی جانب سے تنقید کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ مہم نے ان احکامات کو ’’انتہائی غیر متناسب‘‘ قرار دیا تھا۔ اس نے خبردار کیا تھا کہ اگر یہ ہدایات واپس نہ لی گئیں تو قانون کے طلبہ اور وکلا احتجاج کرسکتے ہیں۔
طلبہ کو سوریہ کانت پر اعتراض کیوں تھا؟
گزشتہ ماہ طلبہ کے ایک گروپ نے یونیورسٹی سے اپیل کی تھی کہ وہ چیف جسٹس کو کانووکیشن تقریب میں بطور مہمانِ خصوصی مدعو کرنے کے فیصلے پر نظرثانی کرے۔ طلبہ نے اپنی درخواست میں ۲۰؍ جولائی کو دہلی میں مظاہرین کے خلاف پولیس کی جانب سے مبینہ طور پر طاقت کے ضرورت سے زیادہ استعمال سے متعلق دائر ایک عرضی پر چیف جسٹس کے ردعمل کا حوالہ دیا تھا۔ ۲۲؍ جولائی کو چیف جسٹس کی سربراہی والی بنچ نے مظاہرین کے خلاف پولیس کی مبینہ زیادتیوں سے متعلق عرضی پر فوری سماعت سے انکار کردیا تھا۔ اطلاعات کے مطابق چیف جسٹس سوریہ کانت نے عرضی گزاروں سے کہا تھا، ’’ہمارا وقت ضائع نہ کریں اور اپنا وقت بھی ضائع نہ کریں۔‘‘
یہ بھی پڑھئے: ناندیڑ:اکالی دَل کے صدر سکھبیرسنگھ بادل پرکرپان سےحملہ، سیکوریٹی اہلکار بھی زخمی
جب عرضی گزاروں کے وکیل نے کہا کہ وہ پولیس کی مبینہ زیادتیوں سے متعلق ویڈیو ثبوت پیش کرسکتے ہیں تو چیف جسٹس نے مبینہ طور پر کہا کہ بنچ انہیں دیکھنے میں ’’دلچسپی نہیں رکھتی‘‘۔ طلبہ نے ان ریمارکس کا حوالہ دیتے ہوئے یونیورسٹی حکام سے کہا تھا کہ وہ ایسے عہدیدار سے اپنی ڈگریاں وصول کرنا مناسب نہیں سمجھتے، جس کا حالیہ عوامی طرزِ عمل احتجاج کرنے والے شہریوں کے خلاف پولیس کی مبینہ بربریت جیسے سنگین الزامات کو نظرانداز کرنے والا محسوس ہوتا ہے۔
بار کونسل کی یونیورسٹی کو ہدایت
بار کونسل آف انڈیا کے چیئرمین منن کمار مشرا نے ریاستی بار کونسلز اور نالسار کے وائس چانسلر سری کرشنا دیوا راؤ کے نام ایک خط میں یونیورسٹی سے کہا تھا کہ چیف جسٹس کی کانووکیشن میں شرکت کے خلاف ’’منظم مہم‘‘ چلانے میں ملوث افراد سے متعلق تین دن کے اندر حقائق پر مبنی رپورٹ پیش کی جائے۔ کونسل کے چیئرمین نے وائس چانسلر سے یہ بھی کہا تھا کہ رپورٹ کے ساتھ طلبہ کی جانب سے یونیورسٹی کو پیش کی گئی درخواست، عرضداشت، یادداشت یا کسی بھی دیگر تحریری مراسلت کی مکمل نقل فراہم کی جائے۔ انہوں نے یہ بھی ہدایت دی تھی کہ ان نمائندگیوں پر دستخط کرنے والے تمام افراد کی مکمل فہرست پیش کی جائے۔
یہ بھی پڑھئے: پارلیمنٹ کا بارانی اجلاس ُدھل گیا!
بار کونسل آف انڈیا نے یونیورسٹی سے مزید کہا تھا کہ وہ ان افراد کی بھی نشاندہی کرے جو ذرائع ابلاغ، سوشل میڈیا یا کسی بھی دوسرے ذریعے سے چیف جسٹس کی شرکت کے خلاف ’’مہم‘‘ شروع کرنے میں ملوث تھے، یا جنہوں نے کانووکیشن یا سوریہ کانت سے متعلق کسی بھی پروگرام کے بائیکاٹ، رکاوٹ، خلل یا منظم عدم شرکت کی اپیل کی تھی۔