Inquilab Logo Happiest Places to Work

سینٹرل ریلوے کو۶۰؍ دن میں مال ڈھلائی سےکروڑوں کی آمدنی

Updated: June 11, 2026, 12:00 PM IST | Saeed Ahmed Khan | Mumbai

مگر یوپی اوربہار کے مسافروں کو ان ہی دنوں میںٹکٹ کے تعلق سے ہونے والی شدید دشواری پرکوئی توجہ نہیں۔

Central Railway.Photo;INN
سینٹرل ریلوے۔ تصویر:ائی این این
سینٹرل ریلوے میں۶۰؍ دن میں مال ڈھلائی سے ۱۴۴۲؍کروڑ روپے سے زائد آمدنی ہوئی ہے۔ اسے سینٹر ل ریلوے انتظامیہ کی جانب سے ریکارڈ قرار دیا جارہا ہے۔ اس دوران ۵۰۰؍ سے زائد ٹرینوںکااستعمال کیا گیا ۔اس سے کسانوں کوبھی کافی فائدہ ہوا ۔ یہ کامیابیاں اپنی جگہ مگر یوپی اوربہار کے مسافروں کو ان ہی دنوں میں، چونکہ یہ موسم گرما کی تعطیلات کا وقت ہے ،کنفرم ٹکٹ کے تعلق سے ہونے والی شدید دشواری پرکوئی توجہ نہیںدی گئی ۔ مسافر پریشان ہوتے رہے اوراب بھی ہورہے ہیں۔ مسافر ٹکٹ کی اصل قیمت سے تین گنا سے بھی زائد رقم دینے پرمجبور ہوئے۔ اس وقت بھی اس تعلق سے کوئی بہتری نہیںآئی ہے۔جومسافر یوپی اور بہار سے واپس آرہے ہیں، ان کا کہنا ہے کہ اے سی تھری ٹائر کا ٹکٹ جو ۱۸۰۰؍روپے سے۲؍ہزارروپے کےاندر ملتا ہے اس کے لئے دلال ۵؍ہزار روپے سے زائد چارج کررہے ہیں۔مسافر مجبوراً بچوں کی پڑھائی کی خاطر اسکول میں وقت پرحاضری کےلئے اتنا مہنگا ٹکٹ خریدنے پرمجبور ہیں۔ان کے پاس اس کےسوا کوئی اور راستہ نہیں ہے ۔  
 
 
 
خلیل آباد سے ممبئی سفر کرنےوالے حافظ عبدالرحمٰن نے بھی یہی صورتحال بیان کی ۔ وہ اپنے بچوں کے ساتھ تین دن قبل ممبئی پہنچے ہیں۔ انہوں نےیہ بھی بتایاکہ’’ ریلوے کی جانب سے بار بار یہ اعلان کیا جاتا ہے کہ ویٹنگ ٹکٹ والے مسافر ریزرو ڈبوں میںنہ چڑھیں ورنہ اگلے اسٹیشن پر انہیں اتار دیاجائے گا اور ان کے خلاف کارروائی کی جائے گی ،اس کے باوجود اے سی ڈبوں میں بھی بہت سےویٹنگ ٹکٹ والے مسافر موجود رہتے ہیں۔اس سے ایسا لگتا ہے کہ یہ اے سی نہ ہوکرگویا سلیپر کوچ ہو۔ ‘‘انہوں نے یہ بھی کہا کہ ’’اپریل کے اخیر میںوطن جانے کےوقت بھی یہی حالت تھی اورممبئی واپس آنے میںبھی یہی حالات رہے۔ اس لئے ریلوے کو سب سے پہلے اس جانب توجہ دینی چاہئے ۔‘‘ انہوںنے سوال کیا کہ ریلوے انتظامیہ یہ بتائے کہ آخر کون مسافر ایسا ہےجو پیسہ خرچ کرنے کے بعد بھی ویٹنگ ٹکٹ لےگا جس میںنہ بیٹھنے کی گنجائش یقینی ہو اور نہ ہی سامان رکھنےکی ، مسافر مجبوراً ایسا کرتا ہے کہ کسی شناسا کے ساتھ جاتا ہےمگر ٹکٹ کی مکمل قیمت اسے ادا کرنی پڑتی ہے۔‘‘
 
 
بعض ٹکٹ ایجنٹوں سے رابطہ قائم کرنےپر انہوں نے کہاکہ یوپی اور بہار کیلئے جون کا پورا مہینہ فل ہے، ٹکٹ نہیںہے۔ممبئی آنے کیلئے تو تتکال ٹکٹ کے سوا سوچئے بھی مت، وہ بھی نکل جائے تو آپ کی قسمت۔ اس کی وجہ انہوں نے یہ بتائی کہ مسافر زیادہ ہیں اور ٹرینیں کم  پھران ہی میں سے الگ الگ کیٹیگری کیلئے سیٹیں ریزرو کردی گئی ہیں۔ اس لئے ریلوے انتظامیہ خواہ کچھ بھی دعویٰ کرے یہ مسئلہ اس وقت تک برقرار رہے گا جب تک کہ مسافروں کی تعدادکے حساب سے ٹرینیں نہیں چلائی جائیں گی ۔ 

 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK