محمد عبد المنان کی کتاب میں مرکزی وزارتوں اور عوامی اداروں سمیت ۱۵۰ بڑے اداروں میں مسلمانوں کی موجودگی کا جائزہ لیا گیا ہے اور عدالتی نمائندگی کو عوامی اداروں میں مسلمانوں کی کم نمائندگی کے نمونے کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔
EPAPER
Updated: February 14, 2026, 6:04 PM IST | New Delhi
محمد عبد المنان کی کتاب میں مرکزی وزارتوں اور عوامی اداروں سمیت ۱۵۰ بڑے اداروں میں مسلمانوں کی موجودگی کا جائزہ لیا گیا ہے اور عدالتی نمائندگی کو عوامی اداروں میں مسلمانوں کی کم نمائندگی کے نمونے کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔
ہندوستان کے عدالتی نظام میں مسلمانوں کی نمائندگی کا جائزہ لینے والی حالیہ کتاب میں انکشاف ہوا ہے کہ ملک کی ڈسٹرکٹ اور سیشن عدالتوں میں مسلمانوں کی موجودگی انتہائی کم ہے۔ محمد عبد المنان کی کتاب ’At the Bottom of the Ladder: State of the Indian Muslims‘ کے مطابق، ملک بھر میں کل ۱۳؍ ہزار ۸۱۸؍ ڈسٹرکٹ اور سیشن ججوں میں سے صرف ۷۱۱ مسلمان اس عہدے پر فائز رہے ہیں۔
ڈسٹرکٹ اور سیشن عدالتیں ملک کے عدالتی نظام کی ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہیں، جو ضلع کی سطح پر دیوانی تنازعات اور مجرمانہ مقدمات کی سماعت کرتی ہیں۔ ڈسٹرکٹ جج دیوانی معاملات میں فیصلہ سناتے ہیں جبکہ سیشن جج مجرمانہ مقدمات کی نگرانی کرتے ہیں۔ وہ قانون کے مطابق، کوئی بھی سزا دے سکتے ہیں، سوائے سزائے موت کے، جس کے لیے ہائی کورٹس کی توثیق ضروری ہوتی ہے۔ ہندوستان کے ڈسٹرکٹ اور سیشن عدالتوں کے لیے ۲۰۲۴ء میں ججوں کی منظور شدہ تعداد ۲۲,۶۷۷ تھی۔ ہائی کورٹس اور سپریم کورٹ سمیت ججوں کی مجموعی تعداد ۲۳,۷۹۰ تھی۔
ریاست وار نمائندگی میں نمایاں فرق
تمل ناڈو کی ڈسٹرکٹ اور سیشن عدالتوں میں مسلم ججوں کی سب سے زیادہ تعداد ریکارڈ کی گئی۔ ریاست میں ۹۰۹ ججوں میں سے ۶۸ جج مسلمان تھے۔ اس کے بعد اتر پردیش کا نمبر آتا ہے جہاں ۲۳۵۶ ججوں میں سے ۱۹۴ مسلم جج تھے، جبکہ تلنگانہ میں ۵۹۳ ججوں میں سے ۵۹ مسلمان جج تھے۔ کیرالہ میں ۳۹۱ ججوں میں سے ۴۶ مسلمان اور کرناٹک میں ۹۸۳ میں سے ۴۰ مسلم جج رہے ہیں۔
مدھیہ پردیش میں ۴۵۹ ججوں میں سے ۴۶ مسلم جج تھے، جبکہ بہار میں ۱۲۵۱ ججوں میں سے ۸۱ جج مسلمان تھے۔ راجستھان میں ۱۱۲۲ میں سے ۲۰ اور جھارکھنڈ میں ۴۴۶ میں سے ۲۱ جج مسلمان تھے۔ مہاراشٹر میں ۱۷۹ ججوں میں سے صرف ۳ مسلمان تھے اور پنجاب میں ۴۳۲ میں سے ۴ مسلمان تھے۔ ادیشہ میں ۵۵۶ میں سے ۵ مسلم جج ریکارڈ کیے گئے۔
کچھ ریاستوں میں مسلمانوں کی نمائندگی نہ ہونے کے برابر یا صفر رہی۔ اروناچل پردیش کے اضلاع میں کبھی کوئی مسلم ڈسٹرکٹ یا سیشن جج نہیں رہا۔ ہماچل پردیش میں بھی ۳۰۷ ججوں میں سے کوئی مسلمان نہیں تھا۔ میزورم میں بھی ۳۶ میں سے ایک بھی مسلمان نہیں۔ میگھالیہ میں ۴۲ میں سے ۲ اور ہریانہ میں ۴۲۷ میں سے صرف ۲ مسلمان جج رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: کرناٹک: مسلمانوں نے ہندو بھائیوں کو پالا، بڑے بھائی کی ہندو رسومات کے مطابق شادی
ضلعی سطح کے رجحانات میں طویل وقفے
آندھرا پردیش میں تاریخی طور پر ۹۱۹ ججوں میں سے ۴۳ مسلمان ججوں نے خدمات انجام دیں، لیکن چند اضلاع میں کئی دہائیوں سے کوئی مسلم نمائندگی نہیں ہے۔ مشرقی گوداوری میں آخری بار ۲۰۰۲ء میں ایک مسلم جج تھا، جبکہ کرشنا ضلع میں آخری بار ۱۹۷۰ء کی دہائی میں کوئی مسلم جج رہا تھا۔ پرکاسم اور سریکاکلم سمیت کچھ اضلاع میں کبھی کوئی مسلم جج نہیں رہا۔
آسام میں ۳۳ اضلاع میں ۴۹۶ ججوں میں سے ۵۷ مسلمانوں نے خدمات انجام دیں، لیکن بہت سے اضلاع میں کبھی کوئی مسلم جج نہیں رہا۔ کئی دیگر اضلاع میں نمائندگی وقفے وقفے سے رہی ہے، جہاں تقرریوں کے درمیان طویل خلا پایا گیا۔ بہار میں ۱۴ اضلاع ایسے ہیں جہاں کبھی کوئی مسلم ڈسٹرکٹ یا سیشن جج نہیں رہا، حالانکہ ان اضلاع میں مجموعی طور پر ۱۷۰ ججوں نے خدمات انجام دیں۔
یہ بھی پڑھئے: یوپی پولیس کا کارنامہ، انکاؤنٹر کی دھمکی دے کر مسلم تاجر سے ۲۰؍ لاکھ روپے اینٹھ لئے
علاقائی سطح پر غیر مساوی تقسیم
شمالی اور شمال مشرقی ریاستوں کے مقابلے جنوبی ریاستوں میں مسلمان ججوں کی نمائندگی نسبتاً بہتر ہے۔ تمل ناڈو، تلنگانہ اور کیرالہ میں یہ شرح بہتر ہے جبکہ شمال مشرقی ریاستوں اور چھوٹی شمالی ریاستوں میں نمائندگی کم سے کم یا صفر ہے۔
محمد عبد المنان کی کتاب میں مرکزی وزارتوں اور عوامی اداروں سمیت ۱۵۰ بڑے اداروں میں مسلمانوں کی موجودگی کا جائزہ لے کر اسے دستاویزی شکل دی گئی ہے اور عدالتی نمائندگی کو عوامی اداروں میں مسلمانوں کی کم نمائندگی کے نمونے کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔