مہاراشٹر بھر کے آشرم اسکولوں کا معائنہ کیاجائےگا، پچھلے ۲؍سال میں ۵۹۰ سے زیادہ قبائلی طلبہ کی موت کا دعویٰ کرتے ہوئے حکومتی پالیسی پر سوال اٹھائے۔
EPAPER
Updated: September 17, 2026, 11:30 AM IST | Ali Imran | Nagpur
مہاراشٹر بھر کے آشرم اسکولوں کا معائنہ کیاجائےگا، پچھلے ۲؍سال میں ۵۹۰ سے زیادہ قبائلی طلبہ کی موت کا دعویٰ کرتے ہوئے حکومتی پالیسی پر سوال اٹھائے۔
کاکروچ جنتا پارٹی(سی جے پی) کے بانی ابھیجیت دِپکے نے ایک نئی مہم ’’قبائلی اسکول ٹھیک کرو‘‘ کا اعلان کیا ہے۔ اس مہم کا مقصد قبائلی آشرم اسکولوں میں طلبہ کی سہولیات اور تعلیم کے مسئلے کو اجاگر کرنا ہے۔ ناگپور میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے انہوں نے آشرم اسکولوں کی حالت زار پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ’’یہ مہم جمعرات سے گڈچرولی ضلع سے شروع ہوگی۔‘‘ انہوں نے واضح کیا کہ اس مہم کے تحت مہاراشٹر کے قبائلی علاقوں میں چل رہے اسکولوں کا معائنہ کیا جائے گا اور وہاں کی سہولیات کا جائزہ لیا جائے گا۔ صحافیوں سے بات کرتے ہوئے دِپکے نے کہا کہ آزادی کے ۸۰؍سال بعد بھی قبائلی اسکولوں میں طلبہ کو نظر انداز کیا جا رہا ہے۔ ہم ان اسکولوں کا دورہ کریں گے اور وہاں کی سہولیات دیکھیں گے۔ ‘‘انہوں نے مطالبہ کیا کہ حکومت اسکولوں کی بہتری کےلئے کام کرے۔ ابھیجیت دپکے نے دعویٰ کیا کہ مہاراشٹر کے آشرم اسکولوں میں پچھلے دو سال میں ۵۹۰؍سے زیادہ قبائلی طلبہ کی موت ہوئی ہے۔
یہ بھی پڑھئے:یوپی آئی: سوشل میڈیا پرسرکار کے قول وفعل کا تضاد بے نقاب
کچھ جگہوں پر مرنے والے طلبہ کے لواحقین کو مدد کی شکل میں ایک بکرا دیا جاتا ہے اور کچھ جگہوں پر چار لاکھ روپے تک امداد کے طور پر۔ انہوں نے یہ امداد فراہم کرنے کی حکومت کی پالیسی پر سوال اٹھایا۔ انہوں نے ایکلویہ اسکولوں پر بھی سوالات قائم کئے۔ کہا کہ ہماری معلومات کے مطابق ۷۰۰؍ میں سے ۳۰۰؍ کے قریب اسکول مستقل ہیں جبکہ کچھ اسکول لیز پر چلائے جا رہے ہیں۔ انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ تقریباً ۲۸؍ہزار اسامیوں کی کمی ہے۔ دِپکے نے کہا کہ قبائلی طلبہ میں صلاحیت ہے، انہیں صرف ایک موقع کی ضرورت ہے۔ قبائلی علاقوں سے نکسل وادکو ختم کرنے پر حکومت کو مبارکباد لیکن ان علاقوں میں اسکولوں کی حالت پر بھی غور کرنا چاہیے۔
ابھیجیت دپکے نے اور کیا کہا؟
ہم اپنی مہم سے کسی کو نشانہ نہیں بنانا چاہتے۔ اگر اسکولوں میں بہتری آتی ہے تو ہم حکومت کی تعریف بھی کریں گے۔
اس مہم کو مہاراشٹر کے بعد جھارکھنڈ میں بھی چلایا جائے گا۔
ہمارے احتجاج کے بعد کچھ آشرم اسکولوں میں سہولیات میں بہتری آنا شروع ہوگئی ہے۔
بہت سے قبائلی ریسڈنشیل اسکولوں میں کھانے کا نظم بھی خراب ہے۔
دپکے سے آئندہ الیکشن لڑنے کے بارے میں استفسار کیا گیا تو انہوں نے جواب دیا کہ مستقبل میں دیکھیں گے۔