کانگریس کے سینئر لیڈر جے رام رمیش کی پریس کانفرنس ، کہا کہ ’’ملک کی بگڑتی معاشی صورتحال کو بہتر بنانے کیلئے بڑے پیمانے پر تبدیلیاں لانی ہو گی۔‘‘
EPAPER
Updated: May 22, 2026, 12:01 PM IST | New Delhi
کانگریس کے سینئر لیڈر جے رام رمیش کی پریس کانفرنس ، کہا کہ ’’ملک کی بگڑتی معاشی صورتحال کو بہتر بنانے کیلئے بڑے پیمانے پر تبدیلیاں لانی ہو گی۔‘‘
کانگریس نے کہا ہے کہ کمزور سرمایہ کاری کے ماحول اور بگڑتی ہوئی اقتصادی صورتحال کے پیش نظر ملک کی معیشت میں اصلاحات ضروری ہیں اور اس کے لیے اقتصادی پالیسی میں فوری طور پر بڑے پیمانے پر تبدیلیاں کرنے کی شدید ضرورت ہے۔کانگریس کے شعبہ مواصلات کے انچارج اور سینئر لیڈر جے رام رمیش نے کہا کہ ہندوستانی معیشت کے تعلق سے ماحول اس قدر خراب ہو چکا ہے کہ اب حکومت کے حامی بھی عوامی سطح پر تشویش کا اظہار کرنے لگے ہیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ افراط زر (مہنگائی) کے تخمینے تیزی سے بڑھ رہے ہیں جبکہ اقتصادی ترقی کی شرح کے تخمینے گھٹ رہے ہیں۔ براہ راست غیرملکی سرمایہ کاری (ایف ڈی آئی) میں گراوٹ جاری ہے اور سپلائی چین کی بدانتظامی کی صورتحال ایسی ہو گئی ہے کہ خود وزیر اعظم کو صارفین سے کھپت کم کرنے کی اپیل کرنی پڑ رہی ہے۔
یہ بھی پڑھئے: زوجیلا ٹنل کی اب صرف ۲۱۰؍ میٹر کی کھدائی کا کام باقی
جے رام رمیش نے کہا کہ کانگریس طویل عرصے سے ان مسائل کو اٹھاتی رہی ہے اور ان میں سب سے اہم مسئلہ کمزور سرمایہ کاری کا ماحول ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ نجی سرمایہ کاری میں نمایاں اضافے کے بغیر اقتصادی ترقی کو تیز اور پائیدار نہیں بنایا جا سکتا، لیکن حقیقی اجرت میں جمود، صارفین کی مانگ میں کمی، پالیسیوں میں عدم استحکام، ٹیکس نوٹس، چھاپوں اور تحقیقاتی ایجنسیوں کے دباؤ کی وجہ سے سرمایہ کاری کا ماحول بری طرح متاثر ہوا ہے۔ جے رام رمیش نے الزام لگایا کہ چین سے سستے سامان کی ڈمپنگ نے مینوفیکچرنگ سیکٹر کو نقصان پہنچایا ہے اور حکومت کی سرپرستی میں قائم کاروباری اجارہ داری اور چندہ لو، دھندا دو (چندہ لو، کاروبار دو) کے کلچر نے آزاد سرمایہ کاری کے جذبے کو کمزور کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کارپوریٹ ٹیکس کی شرحیں ریکارڈ نچلی سطح پر ہیں اور کمپنیوں کی کمائی بڑھ رہی ہے، لیکن سرمایہ کاری میں تیزی نظر نہیں آ رہی، جبکہ کئی بڑے سرمایہ کار بیرون ملک سرمایہ کاری کر رہے ہیں۔
کانگریس لیڈر نے کہا کہ حکومت کو خود کی ستائش چھوڑ کر اقتصادی پالیسی میں وسیع تبدیلیاں کرنی چاہئیں۔ انہوں نے طنز کرتے ہوئے کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی انتخابی ریلیوں میں مصروف ہیں لیکن معیشت کے حوالے سے انہیں بہت بڑے پیمانے پر اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔
یہ بھی پڑھئے: غیر ملکی دورہ سے لوٹنے کے بعد وزیر اعظم مودی کی صدارت میں کابینہ کی میٹنگ
کانگریس کے جنرل سیکریٹری جے رام رمیش نے الزام عائد کیا کہ وزیر اعظم نریندر مودی کی حکومت نے مہنگائی، سرمایہ کاری اور سپلائی چین کو درست طریقے سے منظم نہیں کیا ہے۔ ساتھ ہی انہوں نے اٹلی دورے کے دوران حالیہ ’میلوڈی‘ ٹافی والے واقعہ کو لے کر بھی وزیر اعظم پر طنز کسا۔ کانگریس کی جانب سے ’ایکس‘ پر جاری ایک تفصیلی بیان میں جے رام رمیش نے لکھا کہ ان تشویشات میں کچھ بھی نیا نہیں ہے۔ انڈین نیشنل کانگریس کافی وقت سے اس موضوع کو اٹھاتی رہی ہے، جن میں سب سے اہم تشویش سست سرمایہ کاری کے ماحول کو لے کر رہی ہے۔جے رام رمیش کے مطابق نجی سرمایہ کاری کی شرح میں نمایاں اضافے کے بغیر معاشی ترقی کو تیز رفتار نہیں دی جا سکتی اور نہ ہی اسے طویل عرصے تک اعلیٰ سطح پر برقرار رکھا جا سکتا ہے، جبکہ اس کی ضرورت واضح طور پر ہے۔ پالیسیوں میں بار بار تبدیلی، انتظامی احکامات، کی وجہ سے سرمایہ کاری طبقہ میں ڈر اور کاروباری بے یقینی کا ماحول بنا ہوا ہے۔ حکومت کی مدد سے وزیر اعظم کے سب سے قریبی دوستوں کے ذریعہ کیے جا رہے حصول اراضی نے ملکیت کے بڑھتے ہوئے ارتکاز کو فروغ دیا ہے۔ اس اقربا پروری کی سب سے واضح مثال مودانی ہے۔‘‘ ساتھ ہی انہوں نے لکھا کہ ’’کارپوریٹ دنیا کے پاس آزادانہ طور پر سرمایہ کاری کرنے اور اس سے متعلق خطرات اٹھانے کی بہت کم ترغیب بچی ہےکیونکہ منافع مودی حکومت کے’ کاؤنٹر‘ پر ادائیگی کر کے بھی آسانی سے کمایا جا سکتا ہے۔‘‘کانگریس کے جنرل سکریٹری کے مطابق کارپوریٹ انڈیا پر ٹیکس کی شرحیں ریکارڈ نچلی سطح پر ہیں اور اس کی کمائی ریکارڈ بلندی پر ہے۔ شیئر بازار کی قدر بھی مضبوط دکھائی دیتی ہے۔ اس کے باوجود سرمایہ کاری کی رفتار غائب ہے۔